خیبرپختونخوا سینیٹ الیکشن:حکومت و اپوزیشن کا مشترکہ طور پر الیکشن لڑنے کا فیصلہ

پشاور(نامہ نگار)خیبرپختونخوا میں سینیٹ انتخابات کیلئےامیدواروں کے دستبردار نہ ہونے پر حکومت اور اپوزیشن نے بلامقابلہ انتخابات نہ ہونے کی صورت میں بھی 6،5 کے فارمولے پر عمل جاری رکھنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

خیبرپختونخوا سینیٹ انتخابات کیلئے حکومت اور اپوزیشن نے باہمی مشاورت سے فیصلہ کیا ہے کہ اگر امیدوار دستبردار نہ ہوئے تو دونوں فریق مشترکہ طور پر انتخابی عمل میں حصہ لیں گے، تاکہ ووٹنگ کا وقت ضائع نہ ہو۔

اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد نے بتایا کہ اس معاملے پر ان کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور سے بات ہوئی ہے اور طے پایا ہے کہ اگر کسی امیدوار نے کاغذات واپس نہ لیے تو 6،5 کا معاہدہ برقرار رہے گا۔

دوسری جانب، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں سینیٹ انتخابات کے حوالے سے داخلی اختلافات اب تک ختم نہیں ہو سکے۔ پارٹی کی سیاسی کمیٹی کی کوششوں کے باوجود ناراض امیدواروں نے کاغذات نامزدگی واپس لینے سے انکار کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، گزشتہ روز دو مرتبہ مذاکرات کی ناکامی کے بعد آج صبح پی ٹی آئی کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ ناراض رہنما کاغذات واپس لینے پر آمادہ ہو گئے ہیں، مگر جلد ہی عرفان سلیم اور خرم ذیشان نے ویڈیو پیغامات جاری کر کے اس فیصلے کو مسترد کر دیا۔

خرم ذیشان نے کہا”ہم اس الیکشن میں گٹھ جوڑ کے خلاف کھڑے ہیں، چوروں اور غاصبوں سے مفاہمت ممکن نہیں۔”عرفان سلیم نے بھی کہا کہ وہ کسی صورت اس کھیل کا حصہ نہیں بنیں گے۔

اس کے برعکس پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب نے بیان دیا کہ”سینیٹ امیدواروں کی حتمی منظوری پارٹی سربراہ عمران خان نے دی ہے، لہٰذا فیصلے کا احترام سب پر لازم ہے۔”

پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی نے سینیٹ کے امیدواروں کے ناموں کا اعلان بھی کر دیا ہے.

جنرل نشستیں: مراد سعید، فیصل جاوید، مرزا آفریدی، نور الحق قادری
خواتین کی نشست: روبینہ ناز
ٹیکنوکریٹ نشست: اعظم سواتی
سابق رکن ثانیہ نشتر کی نشست: مشعال یوسفزئی

علاوہ ازیں، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس گورنر ہاؤس پشاور میں منعقد ہوا، جس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ 21 جولائی کو شیڈول سینیٹ انتخابات میں کوئی امیدوار دستبردار نہیں ہوگا۔

اپنا تبصرہ لکھیں