خیبرپختونخوا: طوفانی بارشوں اور بادل پھٹنے سے تباہ کن سیلاب، اموات 340 تک جا پہنچیں

پشاور(نمائندگان+ایجنسیاں)خیبرپختونخوا میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران طوفانی بارشوں اور بادل پھٹنے کے نتیجے میں آنے والے سیلاب نے تباہی مچا دی، اور ہلاکتوں کی تعداد 340 تک پہنچ گئی ہے۔

“سب سے زیادہ متاثرہ ضلع: بونیر”
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی رپورٹ کے مطابق بونیر سب سے زیادہ متاثرہ ضلع رہا، جہاں صرف دو دن میں 204 افراد جاں بحق ہوئے۔ مزید 50 افراد تاحال لاپتہ ہیں جبکہ 120 افراد زخمی ہیں۔

دیگر اضلاع میں بھی بڑی تعداد میں جانی نقصان ہواجن میں شانگلہ: 36 اموات،مانسہرہ: 23،سوات: 22،باجوڑ: 21،بٹ گرام: 15،لوئر دیر: 5،ایبٹ آباد: 1 بچہ شامل ہے.

ہیلی کاپٹرحادثہ میں جاں بحق ہونے والوں میں صوبائی حکومت کے ہیلی کاپٹر کے 5 عملے کے ارکان بھی شامل ہیں، جو مہمند میں امدادی کارروائیوں کے دوران حادثے کا شکار ہوئے۔

پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق11 مکانات مکمل تباہ،63 مکانات جزوی طور پر متاثر،سوات کے دو اور شانگلہ کا ایک اسکول نقصان کا شکارہوا.

خیبرپختونخوا حکومت نے بونیر، باجوڑ، سوات، شانگلہ، مانسہرہ اور بٹ گرام کو آفت زدہ علاقے قرار دے دیا ہے۔پی ڈی ایم اے کو ایک ارب روپے جاری کیے گئے ہیں تاکہ متاثرین کی فوری مدد اور معاوضہ ممکن بنایا جا سکے۔

کمیونیکیشن اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ کو 1ارب55کروڑ روپے فراہم کیے گئے ہیں تاکہ متاثرہ شاہراہوں اور پلوں کی بحالی کی جا سکے۔

“ریڈ کریسنٹ کی ہیلپ لائن”
گورنر فیصل کریم کنڈی کی ہدایت پر پاکستان ریڈ کریسنٹ نے ایمرجنسی ریلیف سینٹر قائم کر دیا ہے۔ متاثرین درج ذیل نمبرز پر رابطہ کر سکتے ہیں:
📞 0300-5849255 (سیکریٹری)
📞 0334-9086169 (ایڈمن آفیسر)
📞 091-9333666 / 091-2590846

“پاک فوج کا ریلیف آپریشن”
پاک فوج اور فرنٹیئر کور (ایف سی) کی جانب سے بونیر، سوات اور باجوڑ میں فلڈ ریلیف آپریشن جاری ہے۔ ہیلی کاپٹرز کے ذریعے متاثرین تک راشن اور ضروری سامان پہنچایا جا رہا ہے جبکہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل بھی جاری ہے۔ فوج کے مزید دستے بھی ریلیف مشن میں شامل ہو گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں