خیبرپختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کیلئے 4 امیدوار میدان میں آگئے

پشاور (نمائندہ خصوصی)خیبرپختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کیلئےکاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کا مرحلہ مکمل ہوگیا، اور چار امیدواروں نے باضابطہ طور پر اپنے کاغذات جمع کرادیے ہیں۔ انتخابی فہرست کی حتمی تصدیق آج شام جاری کی جائیگی۔

میڈیاکے مطابق وزارتِ اعلیٰ کے منصب کیلئےجن امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ہیں، ان میں پاکستان تحریک انصاف کے نامزد امیدوار سہیل آفریدی، پاکستان پیپلز پارٹی کے ارباب زرک، مسلم لیگ (ن) کے سردار جہان اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مولانا لطف الرحمٰن شامل ہیں۔

خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس کل صبح 10 بجے طلب کیا گیا ہے، جس میں نئے قائدِ ایوان کا انتخاب شو آف ہینڈ کے ذریعے کیا جائے گا۔وزارتِ اعلیٰ کیلئے 73 ووٹ درکار ہیں، جبکہ پاکستان تحریک انصاف 90 آزاد ارکان کی حمایت کے باعث واضح برتری رکھتی ہے۔

واضح رہے کہ 8 اکتوبر کو پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے تصدیق کی تھی کہ علی امین گنڈا پور کی جگہ سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ کا امیدوار نامزد کیا گیا ہے۔ اس اعلان کے بعد علی امین گنڈا پور نے عمران خان کی ہدایت پر وزارتِ اعلیٰ سے استعفیٰ دیتے ہوئے سہیل آفریدی کی مکمل حمایت کا اعلان کیا تھا۔

ترجمان گورنر ہاؤس کے مطابق علی امین گنڈا پور کا استعفیٰ 11 اکتوبر کی دوپہر باقاعدہ طور پر موصول ہوگیا تھا، اور آئینی تقاضوں کے مطابق اس کی جانچ پڑتال مکمل کی جارہی ہے۔

“نامزد وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا پس منظر”
سہیل آفریدی کا تعلق ضلع خیبر سے ہے اور وہ انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی صدر رہ چکے ہیں۔ 2024 کے عام انتخابات میں پہلی مرتبہ رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔ وہ علی امین گنڈا پور کی کابینہ میں معاون خصوصی برائے موصلات کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔

حال ہی میں صوبائی کابینہ میں ردوبدل کے دوران انہیں وزیر برائے اعلیٰ تعلیم مقرر کیا گیا تھا۔ وہ پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کے بھی رکن ہیں۔نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کیلئےکل ہونے والا اسمبلی اجلاس صوبے کی سیاسی سمت کے تعین میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔

اپنا تبصرہ لکھیں