پشاور (نامہ نگار)خیبر پختونخوا حکومت نے دو ماہ کیلئے کفایت شعاری مہم کے فیصلے سے متعلق اعلامیہ جاری کر دیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق اس دوران صوبے میں تعلیمی ادارے ہفتہ اور جمعہ کو بند رہیں گے جبکہ جامعات آن لائن کلاسز کے لیے منصوبہ بندی کریں گی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ پشاور ہائی کورٹ کو کیسز کی سنوائی کے لیے ورچوئل انتظامات کرانے کی سفارش کی گئی ہے۔ انتظامیہ دفتری اوقات کو متعین کر کے ٹریفک کے مسائل کم کرے جبکہ ضلعی انتظامیہ شادی ہالز، بازار اور مارکیٹوں میں غیر ضروری توانائی کے استعمال کو محدود کرے۔
ضلعی انتظامیہ کو رات گئے شادی ہالز میں تقریبات پر پابندی لگانے کی ہدایت دی گئی ہے جبکہ ٹول اور پبلک روڈز کے ٹیکسز میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ صوبائی محکمہ ٹرانسپورٹ کو کرایوں میں اضافے کے معاملے پر نظر رکھنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔
صوبائی حکومت نے کابینہ اجلاسوں کو آن لائن کرنے کا فیصلہ کیا اور کہا کہ جہاں تک ممکن ہو صوبائی اسمبلی اور قائمہ کمیٹی کے اجلاس ورچوئل منعقد کیے جائیں۔
اعلامیے کے مطابق پروٹوکول گاڑیوں کے قافلوں میں کمی کی جائے، غیر ضروری فرنیچر اور آلات کی سرکاری خریداری محدود کی جائے، جبکہ پولیس، ریسکیو اور فیلڈ آپریشنز کی گاڑیوں کو ایندھن میں کمی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
سرکاری اجلاسوں کو ورچوئل کرنے کے ساتھ بین الاضلاعی سرکاری سفر کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پیٹرول کی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دی گئی ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ گندم کی کٹائی کے دوران ڈیزل کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے، ضلعی انتظامیہ پٹرول پمپس پر روزانہ اسٹاک کا معائنہ کرے گی اور بلیک مارکیٹنگ یا اضافی قیمت وصول کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
صوبائی حکومت کے مطابق تمام اضلاع فیول کی دستیابی اور عمل درآمد سے متعلق روزانہ کی رپورٹ صوبائی حکومت کو ارسال کریں گے۔ چیف سیکریٹری آفس میں صوبائی مانیٹرنگ ڈیسک قائم کیا جائے گا، کفایت شعاری اقدامات پر پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا اور ضروری ہونے پر رپورٹس وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو پیش کی جائیں گی۔

