خیبر پختونخوا کو احتجاج کے چیمپئن نہیں، تعمیری قیادت چاہیے

“جب پختونوں کی آنکھوں میں رعب آئے گا تب تم سدھر جاؤ گے، اور جب پختون پاگل پن پر اتر آئیں گے، تب تم اپنا پھٹا ہوا گریبان دیکھو گے۔” یہ الفاظ منتخب ہوتے ہی خود کو “احتجاجی سیاست کا چمپئن” کا خطاب دینے والے پرجوش سہیل آفریدی، وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا نے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہے۔ یہ دراصل ریاست اور ریاستی اداروں کے لیے ایک دھمکی تھی۔ یہ الفاظ، یہ جذباتی پن کوئی نیا نہیں؛ صدیوں سے یہی نعرے، یہی القابات اور یہی جذبات پختونوں کو سنائے جا رہے ہیں۔ بہادری، غیرت، وفاداری اور جرأت کے دعوے ان کے گلے کا طوق بنا دیے گئے ہیں۔ ہر دور میں کسی نہ کسی نے انہی جذبات کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا، اور جب مقصد پورا ہو گیا تو پختونوں کو تنہا، زخموں میں ڈوبا اور برباد حالت میں چھوڑ دیا گیا۔

سیاسی جماعتوں کو عوام ووٹ اس لیے نہیں دیتے کہ وہ اپنے ذاتی مفادات کے لیے انہیں احتجاجوں پر ابھاریں یا سڑکوں پر پٹوائیں، بلکہ اس لیے دیتے ہیں کہ وہ ان کے حقیقی مسائل کا حل نکالیں، امن و استحکام پیدا کریں اور ترقی کا ماحول فراہم کریں۔ جب کوئی پارٹی محض تیس پینتیس فی صد ووٹ لے کر حکومت بناتی ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ باقی پینسٹھ فی صد عوام کا اس صوبے یا ملک پر کوئی حق نہیں، یا اکثریتی پارٹی بلا روک ٹوک اپنی مرضی سے جو چاہے کرتی پھرے۔ بدقسمتی سے خیبر پختونخوا میں گزشتہ تیرہ برسوں سے یہی ہو رہا ہے ـ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت میں ہوتے ہوئے بھی اپوزیشن کے کردار سے باہر نہیں نکل سکی؛ یا مخالف حکومتوں اور جماعتوں سے لڑتی رہی یا اپنے ہی اندرونی جھگڑوں میں الجھی رہی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ صوبے کی حکمرانی کا نظام مسلسل کمزور ہوتا چلا گیا۔

اگر کوئی سیاسی جماعت واقعی صوبے کے عوام کو ریلیف دینے میں مخلص ہو تو اسے وزیرِ اعلیٰ کے لیے ایسا شخص منتخب کرنا چاہیے جو دیانتدار، بالغ نظر، دوراندیش، باصلاحیت منتظم اور عوام کے قریب ہو، جو احتجاجوں اور شور شرابے کا چمپئن بننے کے بجائے مفاہمت، امن، ترقی اور خوشحالی کا ضامن بنے۔ اقتدار میں آ کر ایسے وزیرِ اعلیٰ کا پہلا کام شفاف طرزِ حکمرانی، میرٹ پر مبنی نظام، قانون کی بالادستی اور اداروں کو سیاسی اثر سے آزاد بنانا ہونا چاہیے تاکہ صوبے میں اعتماد اور استحکام پیدا ہو۔ اسے تعلیم، صحت، معیشت، روزگار، انفراسٹرکچر، سماجی بہبود اور ڈیجیٹل گورننس پر خصوصی توجہ دے اور جو کہ عوامی زندگی میں بہتری لائے۔ بالغ نظر قیادت وقتی سیاسی تماشوں کے بجائے طویل المدتی وژن کے ساتھ ترقیاتی منصوبے بناتی ہے، صوبے کے وسائل کو ایمانداری سے استعمال کرتی ہے اور نوجوان نسل کو تعلیم و ہنر کے ذریعے مضبوط بناتی ہے۔ لیکن یہاں المیہ یہ ہے کہ اپنی ذات کا اسیر پارٹی رہنما ہمیشہ ایسے شخص کا انتخاب کرتا ہے جو صرف احتجاج کا چمپئن ہو ، نہ خود کچھ کرے اور نہ کسی کو کرنے دے ، اور یہی رویہ صوبے اور عوام کو مزید پسماندگی اور بدحالی کی دلدل میں دھکیل رہا ہے۔

تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ پختون اس خطے کے سب سے زیادہ آزمائے گئے لوگ ہیں۔ ان کی سرزمین صدیوں سے جنگوں اور طاقت کی کشمکش کا مرکز بنی رہی ہے۔ کبھی برطانوی سامراج کے مفاد کے لیے، کبھی مقامی حکمرانوں کے اقتدار کے لیے، کبھی عالمی طاقتوں کے کھیل کے لیے ـ ہر وقت کسی نہ کسی نے پختونوں کی بہادری کو اپنی ڈھال اور ان کے جسموں کو اپنا میدانِ جنگ بنایا۔ وہ نعرے لگاتے رہے، وفاداری نبھاتے رہے، جنگیں لڑتے رہے، اپنے بیٹے قربان کرتے رہے، اور ہر بار انجام وہی نکلا ، اجڑے گھر، پسماندہ علاقے، خالی ہاتھ اور خون آلود زمین۔

برطانوی راج کے زمانے میں جب سلطنت کو اپنی شمال مغربی سرحدیں محفوظ رکھنی تھیں تو پختون علاقوں کو بفر زون بنا دیا گیا۔ انہیں “مارشل ریس” کا لقب دے کر فوج میں بھرتی کیا گیا۔ وہ انگریزوں کے مفادات کے محافظ بنے، جنگیں لڑیں، جانیں دیں، مگر جب سامراج کے مقاصد پورے ہوئے تو وہی پختون اپنے ہی علاقوں میں لاوارث چھوڑ دیے گئے۔ آزادی کے بعد بھی کہانی بدلی نہیں؛ صرف کردار بدل گئے، طریقے نئے آ گئے۔ کبھی قوم کے نام پر، کبھی مذہب کے نام پر، کبھی غیرت اور وفاداری کے نام پر ، انہیں آگے کر دیا گیا اور طاقتور طبقے پیچھے ہٹ گئے۔

1980 کی دہائی میں جب افغانستان پر سوویت یونین نے حملہ کیا تو ایک بار پھر یہی قوم نشانہ بنی۔ جہاد کے نام پر نوجوانوں کو ہتھیار تھمائے گئے، انہیں بتایا گیا کہ وہ تاریخ کا فیصلہ کن کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ لڑے، مرے، بے گھر ہوئے۔ لاکھوں خاندان برباد ہو گئے، لاکھوں افراد پناہ گزین بنے۔ عالمی طاقتوں کے لیے وہ محض ایک مہرہ تھے۔ جب جنگ ختم ہوئی اور دنیا نے رخ موڑا تو یہی لوگ ملبے اور لاشوں میں بھولے چھوڑ دیے گئے۔ نہ تعلیم کے مواقع دیے گئے، نہ صحت کا نظام بنایا گیا، نہ روزگار کے دروازے کھولے گئے۔ ایک جنگ ختم ہوئی تو دوسری غلامی شروع ہو گئی۔

پختون خطے کی پسماندگی کسی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل اور منظم حکمتِ عملی کا حصہ رہی ہے۔ ان کے علاقوں میں آج بھی پینے کے صاف پانی کی کمی ہے، سڑکیں خستہ حال ہیں، اسکولوں اور اسپتالوں کا انفراسٹرکچر زوال پذیر ہے۔ یہ کوئی قدرتی محرومی نہیں بلکہ دانستہ محرومی ہے ، ایک ایسی محرومی جو لوگوں کو تعلیم اور ترقی سے دور رکھ کر انہیں آسانی سے قابو میں رکھنے کا ہتھیار بنائی گئی ہے۔ جب ایک قوم تعلیم سے محروم ہو، جب نوجوانوں کے پاس مواقع نہ ہوں، جب لوگوں کو بار بار غیرت اور وفاداری کے نعرے سنائے جائیں، تو انہیں استعمال کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

ایک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ پختونوں نے اداروں پر بھروسہ کرنے کے بجائے ہمیشہ شخصیات پر تکیہ کیا۔ قبائلی سردار، مذہبی پیشوا، سیاست دان یا جنگجو ، اور اب ایک کلٹ۔ لوگ اندھی عقیدت سے ان کے پیچھے چلتے رہے۔ ہر بار یہی شخصیات اقتدار اور مفاد کے حصول کے بعد انہیں تنہا چھوڑ گئیں۔ انہوں نے عزت، غیرت اور وفاداری کے نام پر ان کے جذبات کو بھڑکایا، نعرے لگوائے، اور پھر جب واقعی وقتِ امتحان آیا تو یہی لوگ عوام کو پیچھے چھوڑ کر اپنی جانیں بچانے کے لیے دم دبا کر بھاگ گئے۔ یہی وجہ ہے کہ ادارے مضبوط نہ ہو سکے، نظام نہیں بنا، اور قوم صدیوں سے ایک ہی جگہ کھڑی ہے۔

تاریخ بے شمار مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ برطانوی سامراج نے انہیں اپنی سلطنت کے محافظ کے طور پر استعمال کیا۔ افغان حکمرانوں نے ان کے خون سے اپنے اقتدار کو مستحکم کیا۔ پاکستان کی سیاسی و ریاستی اشرافیہ نے انہیں اپنے مقاصد کے لیے آگے کیا۔ سرد جنگ کے دوران عالمی طاقتوں نے انہیں جہاد کے نام پر میدان میں اتارا، اور جب مفاد پورا ہو گیا تو ہیرو سے مجرم بنا دیا۔ جو کل “مجاہد” کہلائے جاتے تھے، وہ اگلے دن “دہشت گرد” قرار دے دیے گئے۔ کسی نے ان کے دکھ پر مرہم نہیں رکھا، کسی نے ان کے بچوں کے مستقبل کا سوچا نہیں۔

یہی لوگ جن کے بیٹے قربان ہوئے، جن کے گھر ملبے میں بدل گئے، جن کے علاقے کھنڈر بنے، آج بھی کسی نہ کسی نعرے کے پیچھے اندھی عقیدت سے دوڑ رہے ہیں۔ وہ اپنی تاریخ سے سبق نہیں سیکھ پا رہے۔ دشمن وہ نہیں جو باہر سے آتا ہے؛ اصل دشمن یہ اندھی تقلید ہے جو انہیں بار بار تباہی کے دہانے پر لے آتی ہے۔

دنیا بدل چکی ہے۔ قومیں بندوقوں سے نہیں بلکہ علم، معیشت اور مضبوط اداروں سے ترقی کرتی ہیں۔ جب باقی دنیا یونیورسٹیاں بنا رہی تھی، پختونوں کو بندوقیں تھمائی جا رہی تھیں۔ جب دوسری قومیں صنعتیں لگا رہی تھیں، یہ لوگ جنگوں میں جھونکے جا رہے تھے۔ بہادری کا نعرہ خوبصورت لگتا ہے، مگر جب بہادری کے ساتھ علم اور ترقی نہ ہو تو یہ نعرہ صرف دوسروں کے مفاد میں کام آتا ہے، اپنے لیے کچھ نہیں چھوڑتا۔

اب وقت آ گیا ہے کہ پختون اپنے گریبان میں جھانکیں، اپنی تاریخ سے سبق سیکھیں اور ان نعروں سے آزاد ہوں جنہوں نے انہیں غلام بنا رکھا ہے۔ تعلیم، ادارے، خودداری اور شعور ہی وہ ستون ہیں جن پر ایک مضبوط قوم کھڑی ہوتی ہے۔ کوئی طاقت، کوئی عالمی قوت، کوئی حکومت ان کے لیے ترقی کا راستہ نہیں بنائے گی۔ انہیں اپنی سمت خود طے کرنی ہوگی۔

اگر وہ اسی اندھی تقلید میں جیتے رہے، اگر وہ ہر بار کسی نئے نعرے یا نام نہاد مسیحا کے پیچھے بھاگتے رہے، تو انجام پھر وہی ہوگا ، اجڑے گھر، برباد علاقے، لاشیں اور مایوسی۔ لیکن اگر وہ اپنی سمت خود طے کریں، اپنی طاقت کو نعرے نہیں بلکہ شعور میں بدلیں، تو تاریخ کا دھارا پلٹا جا سکتا ہے۔

“ځما لوېه ګناه دا ده چه پختون ېم” ، یہ جملہ ایک قوم کا نوحہ بن چکا ہے، مگر یہ ان کا مقدر نہیں۔ مقدر وہی بدلتا ہے جو خود اسے بدلنے کا فیصلہ کرے۔

اپنا تبصرہ لکھیں