دبئی ڈوب رہا ہے!

امریکا و اسرائیل نے ایران کے خلاف ناحق جنگ چھیڑ تو لی ہے مگر اب اُسے سمجھ نہیں آرہا ہے ، کہ یہاں سے ”فیس سیونگ“ کیسے ممکن ہو ؟جبکہ اُدھر ایران نے بھی ماہرین کے نزدیک بہترین حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا کر اُن کے پکے اتحادیوں جن میں سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، قطر، بحرین، عراق وغیرہ کو مشکل میں ڈال دیا ہے،،،جہاں زندگی کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے، بلکہ آپ یوں کہہ لیں کہ یہ ریاستیں خاص طور پر دبئی (متحدہ عرب امارات ) ڈوب رہا ہے،،، یہاں کی معیشت، سیاحت، رئیل اسٹیٹ ، ہوٹلنگ و دیگر کاروبار تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں،،، اگر ہم بات صرف دبئی کی کریں تو اس میں کسی کا قصور نہیں بلکہ یہاں کے حکمرانوں کا اپنا قصور ہے،،، جنہوں نے اپنے بھائی جیسے ملکوں ایران، پاکستان وغیرہ کے ساتھ غداری کی ، ،، اور اسرائیل و امریکا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اُن کی گود میں جابیٹھے۔ چلیں! مان لیا کہ یہ سب کچھ انہوں نے اپنے تحفظ کے لیے کیا، لیکن اس نے اندر کھاتے دوست ممالک کے ساتھ غداری کی،،، جس کی یقینا ایک نہ ایک دن قیمت ضرور چکانی پڑتی ہے،،،

خیر آگے چلنے سے پہلے دبئی اور متحدہ امارات کی دیگر ریاستوں کی تاریخ کو اگر پڑھیں تو ان جزیرہ نماءریاستوں کو جتنی ترقی و شہرت حالیہ تین دہائیوں میں ملی ہے، شاید ہی اس سے پہلے ملی ہوگی،،، لیکن اس شہر میں پہلی انسانی آباد کاری 3000 قبل مسیح میں ہوئی تھی۔دبئی کی اصلیت کا پتہ ابتدائی منون دور سے لگایا جا سکتا ہے۔ آثار قدیمہ کے شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ دبئی جس علاقے میں آج کھڑا ہے وہ کبھی مینگروو دلدل تھا۔ 3000 قبل مسیح تک، دلدل سوکھ چکا تھا اور بدو مویشیوں کے چرواہے یہاں منتقل ہو گئے تھے۔ وہ دبئی میں آباد ہونے والے پہلے لوگ تھے۔ برسوں خانہ بدوش زندگی گزارنے کے بعد، انہوں نے 2500 قبل مسیح تک ریگستان کے ایک پیداواری حصے میں کھجور کے باغات کو کامیابی سے تیار کیا۔ اس سے دبئی میں زراعت کا آغاز ہوا۔ پھر کئی صدیوں تک یہاں مچھیرے آباد رہے،،، جبکہ حالیہ تاریخ میں 1833ءمیں بنی یاس قبیلے سے تعلق رکھنے والے تقریباً 800 افراد مکتوم خاندان کی سربراہی میں خلیج کے دہانے پر آ کر آباد ہوئے۔ اُس وقت تک یہاں ایک قدرتی بندر گاہ بن چکی تھی اور پھر دبئی جلد ہی ماہی گیری، ہیروں اور سمندری تجارت کا مرکز بن گیا۔ پھر بیسویں صدی کے آغاز تک دبئی ایک کامیاب بندرگاہ بن گیا،،، جہاںدور دراز کے تاجر و تجارت کی غرض سے آتے تھے۔ پھر یہاں ساحل سمندر پر سب سے بڑی مارکیٹ تھی جس میں 300 دکانیں تھیں جن پر سیاحوں اور کاروباری لوگوں کا مسلسل ہجوم رہتا تھا۔ 1930 تک دبئی کی آبادی تقریباً 20ہزار تھی جن میں چوتھائی حصہ تارکین وطن لوگوں کا تھا۔ 1950 کے عشرے میں خلیج تہ نشین گاد اور کیچڑ سے بھرنا شروع ہو گئی جو غالباً بحری جہازوں کے بڑھتی ہوئی تعداد میں بندر گاہ کو استعمال کرنے سے ہوا۔ مرحوم حاکم دبئی شیخ رشید بن سعید المکتوم نے خلیج کی اس گزرگاہ کو کھود کر گہرا کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ ایک مہنگا اور دوراندیش منصوبہ تھا۔ اس کارروائی کے نتیجہ میں دبئی میں نجی جہازوں کے کنٹرول کی استعداد میں اضافہ ہوا۔پھر 1960 کی دہائی میں ”دبئی فتح آئل فیلڈ“ سے تیل کے ذخائر کی دریافت نے دبئی کی تقدیر بدل دی۔ اس نے شہر کی معاشی حرکیات کو مستقل طور پر بدل دیا۔ قطر اور دبئی نے ایک نئی کرنسی، ریال بنانے کے لیے تعاون کیا، جس نے دبئی کو بے مثال بلندیوں تک پہنچنے کا موقع دیا۔ اس وقت شہر کے بصیرت والے حکمران شیخ راشد بن سعید المکتوم نے شہر کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے نئی دولت کا استعمال کیا۔ تیل سے پیدا ہونے والی رقم نے جدیدیت اور ترقی کی بنیاد رکھی جو دبئی کے مستقبل کو تشکیل دے گی۔ 1969 میں، دبئی کو تیل کی پہلی کھیپ موصول ہوئی، جس نے دنیا کے سب سے ترقی پذیر شہروں میں اپنا مقام بنا لیا۔

یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ دبئی اصل میں ابوظہبی کا ایک حصہ تھا،برطانوی استعمار کے خلیج سے دستبرداری کے اعلان کے ساتھ ہی ابو ظہبی ، دبئی ، شارجہ ،عجمان ، ام القواین اور فجیرہ کے حکمرانوں کے مابین ایک معاہدہ طے پایا۔ 2 دسمبر 1971 ءکو متحدہ عرب امارات کے نام سے مشہور فیڈریشن کا قیام عمل میں آیا اور اگلے ہی سال میں ساتویں امارت راس الخیمہ نے اس اتحاد میں شمولیت اختیار کی۔ دبئی کے لوگ موتیوں کا کاروبار کرتے تھے اور آس پاس کے علاقوں میں جا کر انہیں فروخت کرتے تھے۔ اسی طرح، دوسرے تاجر بھی اپنا سامان بیچنے کے لیے یہاں آئے۔ یہ علاقہ ایک تجارتی نیٹ ورک بن گیا تھا اور کویت یا بصرہ کے تاجر، ہندوستان میں گجرات، کیرالہ یا زنجبار جاتے ہوئے، دبئی میں رکنے کو یقینی بناتے تھے۔اماراتی لوگوں کو موتیوں کی تجارت سے بہت فائدہ ہوا لیکن جب جاپانیوں نے مصنوعی موتی بنانے کا طریقہ دریافت کیا تو اماراتی موتیوں کی مانگ میں بتدریج کمی آئی اور یہ صنعت آہستہ آہستہ ختم ہو گئی۔پھر یہ ترقی کرتا چلا گیا اور اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیا،،، اگر دیکھا جائے تو پاکستانی فلم رائٹر ریاض بٹالوی کو اس بات کا کریڈٹ دینا چاہیے کہ انہوں نے 1979ءمیں اندازہ لگایا تھا کہ آنے والے وقت میں دبئی دنیا میں ایک ایسی جگہ بنانے جا رہا ہے جس کی طرف دنیا کھنچ جائے گی۔ دبئی کی آزادی کے آٹھ سال بعد انہوں نے سپرہٹ فلم ”دبئی چلو“ بنائی جو آج بھی پاکستان کی کامیاب ترین فلموں میں شمار کی جاتی ہے۔

پھر ایک وقت آیا کہ یہ بات مشہور ہوگئی کہ ایک وقت ایسا تھا جب پوری دنیا میں سب سے زیادہ کرینیں دبئی میں موجود تھیں۔ یہ دور دبئی کی ”تیز رفتار“ تعمیر کا دور تھا۔ اس دوران دبئی کو ابوظہبی سے ملانے والی مرکزی شیخ زید ہائی وے کو جدید بنایا گیا، دبئی مرینا، برج خلیفہ، جمیرہ لیک ٹاورز، جمیرہ ہائٹس، پام جمیرہ جیسے بڑے منصوبے شروع کیے گئے اور دبئی ایئرپورٹ میں ایک سادہ اضافہ کیا گیا۔ دنیا کا مصروف ترین ہوائی اڈہ۔یہاں اس دلچسپ بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ پام جمیرہ جو کہ ایک مصنوعی جزیرہ ہے، کی تعمیر کے لیے کوئی کنکریٹ یا لوہا استعمال نہیں کیا گیا، تاہم اس جزیرے سے سطح سمندر سے 120 ملین کیوبک میٹر ریت کو ہٹا دیا گیا ہے۔اور ان ساری تعمیرات کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کی تعمیر وترقی میں پاکستانیوں نے خوب حصہ ڈالا،،، ایک وقت تھا کہ 70فیصد لیبر اور ہنر مند افراد کا تعلق پاکستان ہی سے ہوتا تھا،،، یعنی پاکستانی مزدوروں، انجینئروں اور ٹیکنیشنز نے دبئی کی بنیادی تعمیرات میں عملی کردار ادا کیا۔اگر آج دبئی کی شاہراہوں پر دوڑتی گاڑیاں، بلند و بالا عمارتیں اور جدید بندرگاہیں نظر آتی ہیں تو ان کی تعمیر میں ہزاروں پاکستانی مزدوروں کی محنت شامل ہے۔ 1970 اور 1980 کی دہائی میں جب دبئی میں تعمیراتی منصوبے زوروں پر تھے تو بڑی تعداد میں پاکستانی مزدور اور ہنر مند وہاں گئے۔ انہوں نے شدید گرمی اور سخت حالات میں کام کر کے اس شہر کی بنیادیں مضبوط کیں۔ دبئی کی کئی مشہور عمارتیں اور سڑکیں ایسی ہیں جن کی تعمیر میں پاکستانی محنت کشوں نے اہم کردار ادا کیا۔صرف مزدور ہی نہیں بلکہ پاکستانی انجینئرز اور تکنیکی ماہرین نے بھی دبئی کی ترقی میں حصہ ڈالا۔ انفراسٹرکچر، بجلی، پانی اور ٹرانسپورٹ کے منصوبوں میں پاکستانی ماہرین نے اپنی خدمات پیش کیں۔ ان کی مہارت نے دبئی کو ایک جدید شہر بنانے میں مدد دی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی متحدہ عرب امارات میں لاکھوں پاکستانی مختلف شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔لیکن بدلے میں آج دبئی نے پاکستانیوں کے لیے ویزے بند کر رکھے ہیں،،، دو ارب ڈالر جو اُس نے پاکستان کو صرف اپنے اکاﺅنٹ میں رکھنے کے لیے دیے ہیں،،، پاکستان کو اس سہولت کو Re-newکروانے کے لیے ہر دو تین مہینے بعد ترلے منتیں کروانی پڑتی ہیں،،،

اور پھر یہی نہیں بلکہ ہماری پی آئی اے نے امارات جیسی ائیرلائن کو دنیا کے اُس مقام پر پہنچایا کہ جہاں پہنچنا محض ایک خواب لگتا ہے، ہم نے Emiratesائیر لائن جو اس وقت دنیا کی مہنگی اور بہترین ائیر لائن ہے کو ہم نے شروع کروایا،،، ہم نے سب سے پہلے انہیں ایک طیارہ لیز پر دیا، تاکہ یہ اپنا کام شروع کر سکیں،،، لیکن جیسے ہی ان کے پاس پیسہ آیا،انہوں نے امریکا و اسرائیل کے ساتھ دوستیاں بڑھا لیں،،، پاکستان جیسے ممالک کو پیچھے کر کے آپ نے مغربی ممالک کے ساتھ کھربوں ڈالر کے معاہدے کر لیے،،، پھر انہوں نے پاکستان کو سپورٹ کرنے کے بجائے گوادر جیسے منصوبوں میں رکاوٹیں ڈالنا شروع کردیں،،، یہی نہیں بلکہ اماراتی حکمرانوں نے مبینہ طور پر بلوچستان میں بی ایل اے کو بھی سپورٹ کیا، ،، پھر سنا ہے کہ انہوں نے افغانستان کو شہہ دی کہ وہ ہماری سرزمین پر کارروائی کرے،،، اور حالیہ پاک افغان کشیدگی میں مبینہ طور پر 80فیصد ہاتھ انہی کا ہی نظر آتا ہے۔ پھر انہوں نے اسرائیل کو تسلیم کیا، اتنا تسلیم کیا کہ اپنے شہر میں موساد کا ہیڈ کوارٹر بنا دیا،،،

بہرحال آج ایران اسرائیل جنگ میں دبئی کا جو حال ہے یہ وہی بتا سکتے ہیں، جو وہاں اس وقت پھنسے ہوئے ہیں،،، وہاں آج بھی ایران کی جانب سے کئی حملے ہوئے ہیں،،، دبئی یہ اُسی منافقت کی قیمت چکا رہا ہے جو اس نے اپنے دوست اور بھائی جیسے ملکوں کے ساتھ کی،،، آج اگر وہاں پر ویرانی ہے،،، تو یہ صرف اس لیے ہے کہ جب انسان اپنے بھائیوں کو چھوڑتا ہے تو پھر مخالف تو ویسے ہی چڑھ دوڑتے ہیں۔ اور پھر جب آپ اچھے دنوں میں اپنے محسنوں کو بھول جاتے ہیں تو پھر پھر کسی نہ کسی کی تو آپ کو بددعا لگتی ہے،،، یعنی اس وقت دبئی کا امیج اس قدر متاثر ہوا ہے کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے تھے،،، کیا کوئی تصور کر سکتا ہے کہ یہ دنیا کا سب سے محفوظ ترین شہر تھا،،، اور کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ لوگ دبئی سے نکلنے کے لیے پرائیویٹ جیٹس کو لاکھوں ڈالر میں ہائیر کریں گے،،، اور پھر بھی نکل نہیں پا رہے ہوں گے،،، اور پھر یہی نہیں بلکہ وہاں سب سے قریبی ملک عمان میں جانے کے لیے ٹیکسیاں ہزاروں ڈالر وصول کر رہی ہیں،،،

بہرکیف اگر مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کی آگ مزید بھڑکی تو اس کے اثرات نہ صرف دبئی بلکہ پوری عالمی معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔ لہٰذا عالمی طاقتوں اور علاقائی ممالک کو چاہیے کہ وہ جنگ کی بجائے سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں۔ کیونکہ جنگ ہمیشہ تباہی لاتی ہے جبکہ امن ہی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہوتا ہے۔اور دبئی جیسی ریاستیں ہی ایسی جنگوں کا باعث بنتی ہیں،،، اس لیے دبئی کو اگر اپنی تباہی بچانی ہے تو جنگ ختم کروانے میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا،،، ایران تو ڈوب ہی رہا ہے،،، وہ ان ریاستوں کو بھی لے ڈوبے گا جن ریاستوں نے غداری کی!