بجٹ منظوری کے آخری مراحل میں ہیں،وفاقی حکومت کی طرف سے بار بار تنخواہ دار طبقے کے لئے فکر مندی کا اظہار کیا گیا اور کہا جا رہا ہے ابھی گذشتہ روز وزیر خزانہ اورنگزیب نے عام بحث سمیٹتے ہوئے تنخواہ دار افراد سے ہمدردی کا اظہار کیا،اِس سے یہ حضرات و خواتین بہت خوش ہیں کہ حکمرانوں کو ان کا خیال ہے ہی تو وہ بار بار ان کا نام لیتے ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ وہ اس طبقے کی اشک شوئی زبانی ہی کر سکتے ہیں۔عملی طور پر تو ان کو ہمارے ملک کی اشرافیہ پر توجہ دینے سے فرصت نہیں کہ ہماری اشرافیہ اس ملک کے لئے بہت قربانیاں دے رہی ہے۔ذرا غور فرمائیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ اس اشرافیہ کی ”توجہ اور مہربانی“ سے چینی کے نرخ عام صارف کی حد سے باہر ہو گئے اور اب چینی 190روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ حکمران مہربان ہیں جنہوں نے شوگر مافیا کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کی پرواہ نہیں کی اور پانچ لاکھ ٹن چینی فوری درآمد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے کہ اس طرح مارکیٹ میں غیر ملکی چینی کی آمد کے بعد قیمتوں پر اثر پڑے گا اور مافیا کو بھی نرخ گرانا پڑیں گے۔چینی کے ایک تاجر اس پر بہت ہنسے اور انہوں نے کہا زرمبادلہ خرچ کر کے چینی درآمد کر لینے کے بعد بھی قیمتوں پر کوئی زیادہ اثر نہیں پڑے گا کہ درآمدی چینی بھی مہنگی ہو گی۔
ہمارے ملک میں سانپ سیڑھی کا کھیل بہت مقبول ہے، اِس کا اندازہ یوں لگا لیں کہ چینی کی برآمد اور پھر درآمد کا کھیل کب سے کھیلا جا رہا ہے اور کسی کو فکر بھی نہیں۔یہ زیادہ عرصہ پہلے کا ذکر تو نہیں کہ شوگر ملز مالکان نے چینی ضرورت سے زیادہ ہونے کی بات کی اور مطالبہ کیا کہ انہیں اپنے ذخائر برآمد کرنے کی اجازت دی جائے کہ اس طرح زرمبادلہ بھی آئے گا۔ وزیراعظم مان نہیں رہے تھے، ان کے بقول اپنے شہریوں کو چینی سستی ملنا چاہئے اور پھر میٹنگوں کا سلسلہ شروع ہوا اور بالآخر وزیراعظم اس شرط پر مان گئے کہ ملک کے اندر چینی کے نرخ150 روپے فی کلو سے کم نہیں ہوں گے اور یہ وعدہ بھی کر لیا گیا،لیکن وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو گیا،چنانچہ150 تو دور کی بات، چینی164 روپے فی کلو بھی تھوڑا عرصہ بڑے گروسری سٹوروں پر دستیاب رہی،عام مارکیٹ میں نرخ زیادہ تھے جو اب 194روپے فی کلو تک پہنچ گئے،حکومت کو بڑا ترس آیا اور اس نے اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کی پرواہ کئے بغیر پانچ لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور یوں گل محمد گھوم کر پھر سے اپنے ہی مقام پر آ کھڑے ہوئے ہیں کہ یہ دھندا تو ہر سال ہوتا ہے۔
اب ذرا ذیا بیطس کے شکار ایک ” محب وطن“ شہری نے مفت مشورہ دے دیا ہے،وہ کہتے ہیں کہ بد پرہیزیوں اور بداعتدالیوں کی وجہ سے ذیا بیطس کے مریضوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور ڈاکٹر حضرات چینی اور میٹھی اشیاءسے منع کرتے ہیں اِس لئے بہتر یہ ہے کہ چینی اور میٹھی اشیاءنہ صرف استعمال نہ کی جائیں،بلکہ ان کی تیاری پر بھی پابندی لگا دینا چاہئے کہ صحت سے بڑی کوئی چیز نہیں،ان صاحب نے مثال دی کہ ہم عوام کو بھی اپنی عادات تبدیل کرنا ہوں گی کہ اب امتداد زمانہ کے اثرات کی وجہ سے مریضوں کی تعداد بڑھی تو ادویات بھی مہنگی ہو گئیں، انسولین تو کئی گنا مہنگی ہو چکی لہٰذا بہتر عمل یہی ہے کہ میٹھا ہی ترک کر دیا جائے، ”نہ ہو گا، بانس نہ بجے گی بانسری“۔
ہمارے مہربانوں کو ہماری بہت فکر ہے اور ہر روز مہنگائی کم کرنے کی ہدایات جاری ہوتی ہیں اور اس کے اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں مثلاً آم کی عام قسم کے نرخ چار سو روپے فی کلو ہیں،آلو بخارا اور سیب ساڑھے سات سو روپے جبکہ کیلے تین سو روپے فی درجن بک رہے ہیں۔یہی حال اب سبزیوں کا ہوا ہے،فارمی کھیرے 100روپے فی کلو سے کم نہیں ہو رہے، دوسری طرف حساب دانوں کے حساب اور عوام کے مطالبے پر کوئی توجہ نہیں،بیکری بدستور سابقہ نرخوں پر ہے، جب مہنگائی کی لہر کے باعث آٹا 176 روپے فی کلو تک پہنچ گیا تھا تب ڈبل روٹی کے نرخ200روپے اور تندوری روٹی کے نرخ 15روپے مقرر کیے گئے تھے اور اِسی تناسب سے بیکری اشیاءاور نان کے نرخ مقرر کیے گئے۔ اشرافیہ کے ایک حصے سے توقع کی گئی کہ آٹے کے نرخ ایک سو روپے سے بھی کم ہو گئے لیکن تاحال بیکری اشیاءاور نان روٹی اِس کے مطابق سستی نہیں ہوئی۔
ایک طرف یہ عالم ہے تو دوسری طرف عام آدمی کی فکر اتنی ہے کہ بزرگوں کی پنشن میں صرف پانچ سے سات فیصد تک اضافے کی رضامندی دی گئی ہے، جبکہ ای او بی آئی والوں کو وہ اضافہ اب تک نہیں دیا گیا،جو بورڈ آف ٹرسٹیز نے منظور کیا اور اس کا نفاذ یکم مئی2024ءسے ہونا ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ اضافہ سرکاری خزانے سے مطلوب نہیں اور نہ ہی حکومت کے خزانے سے کچھ جانا ہے یہ تو ریٹائرڈ اور حاضر سروس ان محنت کشوں کی تنخواہ میں سے کی گئی کٹوتی میں سے دینا ہے،جو وہ اپنی ریٹائرمنٹ سے پہلے تک کٹواتے رہے ہیں۔ای او بی آئی نظام کے بارے پہلے بھی وضاحت کی جا چکی کہ یہ ایک امانت دار ٹرسٹ ہے جس کے پاس رجسٹرڈ اداروں کے رجسٹرڈ ملازمین کی تنخواہوں میں قواعد کے مطابق کٹوتی ہوتی ہے، آجر بھی اپنا حصہ دیتا اور حکومت کو بھی اپنی طرف سے رقم شامل کرنا ہوتی ہے یہ سب جمع ہوتا رہتا ہے اور جب کسی رجسٹرڈ ادارے کا رجسٹرڈ ملازم ریٹائرڈ ہو جائے تو اس کے کوائف کی پڑتال کے بعد وہ ماہانہ پنشن کا حق دار ہوتا ہے جو اب دس ہزار روپے ماہوار ہے، حالانکہ2014ءمیں ہوئے فیصلے کے مطابق یہ حکومت کی طرف سے مقررکردہ مزدور کی کم از کم تنخواہ کے برابر ہونا چاہئے،لیکن ایسا نہیں ہوتا،الٹا کارکنوں کی ملازمت کے دوران اس معنوی کمیٹی کی رقوم میں سے ای او بی آئی کے بورڈ آف ٹرسٹیز، چیئرمین، کئی منیجرز، ڈائریکٹرز اور سینکڑوں ملازمین اسی جمع رقوم سے بڑے بڑے مشاہرے اور مراعات لیتے ہیں۔حال ہی میں اسی بورڈ آف ٹرسٹیز نے اپنے سابقہ اجلاس میں فیصلہ کیا کہ پنشن میں یکم مئی2024ءسے15فیصد اضافہ کر دیا جائے، تین ماہ گذر جانے کے بعد اس خود مختار ادارے کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے اس فیصلے پر نہ تو عمل ہوا اور نہ ہی کوئی وضاحت کی گئی ہے۔

