دفتر خارجہ کی پاک بھارت تناؤ کی صورتحال پر غیرملکی سفیروں کو بریفنگ

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)وزارت خارجہ نے غیرملکی سفیروں اور سفارت کاروں کو پہلگام حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان پیدا ہونے والی صورتحال پر بریفنگ دی ہے۔

ذرائع کے مطابق وزارتِ خارجہ کی سیکریٹری آمنہ بلوچ نے اسلام آباد میں تعینات سفارتی مشنز کے سربراہان اور سفارت کاروں کے ایک گروپ کو بھارت کے غیرقانونی طور پر زیرقبضہ جموں و کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر بریفنگ دی۔

سیکریٹری خارجہ نے غیرملکی سفیروں کو قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے نتائج سے آگاہ کیا، انہوں نے پاکستان کے خلاف بھارتی غلط معلومات پر مبنی مہم کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے حربے خطے میں امن و استحکام کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کریں گے۔

سیکرٹری خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نے ہمیشہ ہر قسم اور ہر شکل میں دہشت گردی کو مسترد کیا ہے۔انہوں نے بھارت کی جانب سے کشیدگی بڑھانے کی کوششوں کے خلاف بھی خبردار کیا اور کسی بھی مہم جوئی کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کی تیاری کا اعادہ کیا۔

قبل ازیں وزارت خارجہ نے پاک بھارت تناؤ کی موجودہ صورتحال پر غیرملکی سفیروں کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا۔سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ دفترخارجہ نے اسلام آباد میں موجود غیر ملکی سفیروں کو پاک بھارت تناؤ کی صورتحال پر اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق مختلف ممالک کے اسلام آباد میں موجود سفارت کاروں اور ہائی کمشنروں کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا جس کے بعد سفارت کاروں کے دفتر خارجہ آمد ہوئی۔سفارتی ذرائع کے مطابق یورپی، مشرق وسطی، افریقا، وسطی ایشیا اور ایشیا پیسیفک کے ممالک کے سفارت کاروں کو طلب کیا گیا۔

ذرائع کےمطابق سعودی عرب، عمان، متحدہ عرب امارات، جرمنی، آذربائیجان، قطر، یورپی یونین، آسٹریلیا، ترکمانستان، ترکی، چین اور جاپان کے سفیر دفترخارجہ پہنچے۔

بھارت نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کو جواز بناتے ہوئے پاکستانی شہریوں کو 48 گھنٹے میں بھارت چھوڑنے کا حکم دیا تھا، جبکہ واہگہ بارڈرکی بندش اور اسلام باد میں بھارتی ہائی کمیشن میں تعینات اپنے ملٹری اتاشی کو وطن واپس بلانے کے علاوہ پاکستان میں تعینات سفارتی عملے کی تعداد میں بھی کمی کردی تھی۔

اپنا تبصرہ لکھیں