نئی دہلی + بیجنگ( نمائندہ خصوصی)تبتی باشندوں کے روحانی پیشوا دلائی لاما کی جانشینی کے معاملے پر بھارت اور چین کے درمیان ایک بار پھر سفارتی کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے، جب کہ بھارت کے وزیر خارجہ ایس۔ جے شنکر چین کے دورے کی تیاری کر رہے ہیں۔
دلائی لاما کی جانشینی میں چین کے ممکنہ کردار کے خلاف بھارتی وزرا اور ماہرین کے بیانات پر چین نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے اندرونی معاملہ قرار دیا ہے، جس سے دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات میں تناؤ کی نئی لہر پیدا ہو گئی ہے۔
غیر ملکی خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق دلائی لاما کی 90ویں سالگرہ کے موقع پر بھارت میں تبتی برادری کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب میں سینئر بھارتی وزرا نے شرکت کی، جہاں دلائی لاما نے واضح الفاظ میں کہا کہ اُن کی جانشینی کے معاملے میں چین کا کوئی کردار نہیں ہو گا۔ ان کے اس بیان نے چینی حکومت کو ایک بار پھر ناراض کر دیا ہے۔
تبتی بدھ مت کے عقیدے کے مطابق، دلائی لاما سمیت دیگر سینئر بدھ راہبوں کی روح ان کی وفات کے بعد نئے جسم میں دوبارہ جنم لیتی ہے، جسے مذہبی طریقۂ کار کے مطابق پہچانا جاتا ہے۔ تاہم، چین کا مؤقف ہے کہ دلائی لاما کا جانشین اس کی منظوری کے بغیر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
چینی سفارت خانے کی ترجمان یو جِنگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ بھارت کی اسٹریٹجک اور علمی برادری کے کچھ افراد نے دلائی لاما کے دوبارہ جنم سے متعلق معاملات پر ’نامناسب تبصرے‘ کیے ہیں، جو قابل مذمت ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ’شی زانگ (تبت) سے متعلق معاملات چین کا داخلی مسئلہ ہیں‘۔
ادھر بھارتی وزیر پارلیمانی و اقلیتی امور کیرن ریجیجو نے واضح کیا کہ بطور عملی بدھ مت پیروکار، وہ سمجھتے ہیں کہ صرف دلائی لاما اور ان کا دفتر ہی ان کی جانشینی کے معاملے کا فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ نے 4 جولائی کو جاری بیان میں کہا تھا کہ نئی دہلی کا مذہب اور عقیدے سے متعلق معاملات پر کوئی سرکاری مؤقف نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ اس پر رائے دیتی ہے۔
دوسری جانب، بھارتی وزیر خارجہ ایس۔ جے شنکر 15 جولائی کو چین کے شہر تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے ایک علاقائی سیکیورٹی اجلاس میں شرکت کریں گے، جہاں ان کی چینی ہم منصب سمیت دیگر علاقائی رہنماؤں سے دو طرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔ اس موقع پر سفارتی کشیدگی مزید واضح ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دلائی لاما 1959 میں تبت میں چینی حکمرانی کے خلاف ناکام بغاوت کے بعد بھارت میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں، اور ان کی موجودگی چین کے لیے ہمیشہ سے حساس معاملہ رہی ہے۔

