واشنگٹن/نئی دہلی (نمائندہ خصوصی+رائٹرز+اے این آئی) — سکھ فار جسٹس کے سربراہ گرپتونت سنگھ پنوں نے کہا ہے کہ دہلی خالصتان کا حصہ بنے گا اور سکھوں کو آزادی کی تحریک کے ساتھ ہونا چاہیے۔سکھ فارجسٹس کے سربراہ گرپتونت سنگھ پنوں نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج کے ساتھ مل کربھارت کامقابلہ کریں گے۔
امریکا میں 17 اگست کو دہلی کے خالصتان میں شامل ہونے کے موضوع پر ریفرنڈم کا اعلان، بھارتی حکومت پر سکھوں پر پابندیوں کا الزام، اور پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار۔
گرپتونت سنگھ پنوں نے بذریعہ ویڈیو لنک پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ “دہلی بنے گا خالصتان” کے موضوع پر 17 اگست 2025 کو امریکا میں ریفرنڈم ہو گا۔ ان کے مطابق خالصتان تحریک کا مقصد دہلی سمیت متعدد بھارتی ریاستوں کو شامل کرنا ہے، جن میں ہماچل پردیش، ہریانہ، راجھستان، اور اتر پردیش کے کچھ علاقے شامل ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتی حکومت مسلسل سکھ برادری پر پابندیاں عائد کر رہی ہے اور ان کی آزادی کے حق کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ پنوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان پر حملہ کر کے خواتین اور بچوں کو شہید کیا اور سکھ برادری پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر بھارت کا مقابلہ کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا وائٹ ہاؤس کا مہمان بننا پاکستان کیلئے اعزاز ہے جبکہ کینیڈا کے وزیر اعظم نے بھارت کو تمام ناخوشگوار واقعات کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

