دنیا بدل رہی، ہم کیوں نہیں بدلتے؟

طویل وقفہ کے بعد بارش نے خشک سالی کا خاتمہ کیا۔ شہریوں نے سکھ کا سانس لیا کہ اس بارش نے موسمی امراض کے لئے ایک حد تک اکسیر کا کام کیا، عام خیال تھا کہ اس مینہہ کی وجہ سے سردی بڑھ جائے گی اور رمضان المبارک کے روزے بہتر گزریں گے، لیکن قدرت کا اپنا نظام ہے، اگرچہ خنکی موجود ہے تاہم درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے اور اس میں مزید اصافہ ہوگا، تاہم مارچ کے ابتدائی دو ہفتوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ یہ قدرے بہتر گزر جائیں گے لیکن درجہ حرارت بڑھتا رہے گا اور گرمی جلد شروع ہو جائے گی۔ روزہ دار دعا کررہے ہیں کہ اس بار موسم بہار اپنی روایت دکھائے اور آتے ہی رخصت نہ ہو جائے کہ پھول کھلنے کا نظارہ دیکھے بھی عرصہ ہو گیا۔

موسم کے رنگ بدلنے کے ساتھ ساتھ دنیا بھی رنگ بدل رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ روز روز رنگ بدلتے ہیں۔ وہ ملکی معاملات میں تو اپنی سی کئے جا رہے ہیں، تاہم عالمی سطح پر بھی وہ اپنی مرضی کے ساتھ حالات کی تبدیلی کے خواہاں ہیں، تاہم یہاں ان کو اپنے رنگ میں بھنگ بھی نظر آنے لگا ہے اور وہ اپنی بڑھک باز پالیسی سے وقفہ بھی لے رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے غزہ کے بارے میں پراپرٹی ڈیلر کا جو انداز اپنایا وہ حتمی نظر آ رہا تھا، لیکن حلیفوں اور حریفوں کے شدید اعتراض پر انہوں نے اب حتمی بات کو تجویز کہہ دیا وہ کہتے ہیں، غزہ واقعی ایک بہترین برموقع خطہ ہے تاہم اس کا فیصلہ عرب ممالک کو کرنا ہے۔ میری تو تجویز ہے، یہ ان کی طرف سے نئی حکمت عملی ہے کہ اپنی مخالفت دیکھ کر قبضہ کو تجویز سے تبدیل کرکے ذمہ داری سعودی عرب پر ڈال دی اور ولی عہد شہزادہ محمد نے بھی قدم بڑھا کر مصر، شام، اردن وغیرہ کے اکابرین کو مدعو کرلیا تاکہ غزہ کی بحالی کے حوالے سے غورکیا جائے۔ غزہ کے لئے امداد تو عالمی سطح پر ہونا چاہیے لیکن مرکزی بوجھ تو پھر انہی مسلمان ممالک ہی کو برداشت کرناہے۔ توقع کرنا چاہیے کہ عرب ممالک، عرب لیگ کی سطح پر معقول اور مضبوط فیصلے کریں گے اور ٹھوس موقف اختیار کریں گے کہ ڈونلڈٹرمپ فیصلے سے تجویز تک تو آئے ہیں لیکن پیچھے نہیں ہٹے۔ وہ اسرائیل کے ساتھ ہیں اور برملا ہیں۔

نئی امریکی انتظامیہ کی پالیسی بتدریج واضح ہو رہی ہے۔ روس، یوکرین کے مسئلہ پر بات چیت کا آغاز ہی نہیں کیا گیا بلکہ یوکرین کے صدر بھی ان کی تنقید کی زد میں ہیں، امریکی وزیر خارجہ کے تازہ ترین بیان سے واضح ہو رہا ہے کہ امریکہ اب روس کے ساتھ سرد جنگ بھی نہیں چاہتا اور بہتر تعلقات استوار کرکے دوسری طرف توجہ دینے کی حکمت عملی اپنا رہا ہے، جنگ بندی کے بعد یوکرین کی بحالی میں تعاون کرنے کی بجائے ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین سے معاوضہ طلب کر لیاہے، اب امریکی انتظامیہ اس جنگ سے جلد از جلد چھٹکارا چاہتی ہے، اس لئے جنگ بندی اور معاہدے کا قوی امکان ہے۔

امریکی حکمت عملی سے واضح ہو رہا ہے کہ وہ روس سے تعلقات بہتر کرکے چین کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی پالیسی پر عمل کرنا چاہتاہے کیونکہ چین کسی لڑائی، مارکٹائی کے بغیر معاشی میدان میں جنگ جیتنا چاہتا ہے اور امریکہ بھی اسی حوالے سے خائف ہو کر چین کی تجارت پر حملہ آور ہو رہاہے۔ چینی درآمدات پر ٹیکس بڑھانا اسی حکمت عملی کا نمونہ ہے تاہم چینی قیادت گرم مزاجی کی بجائے ٹھنڈا کھانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ بقول صدر آصف علی زرداری، چین دوسرے ممالک میں مداخلت کے خلاف ہے وہ کاروبار کرتا لیکن دخل اندازی نہیں کرتا۔

ان حالات سے صرف اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے کہ اب میدانی جنگ،معاشی جنگ اور محاذ آرائی میں تبدیل ہو رہی ہے اور ٹرمپ نے امریکہ اول کا جو نعرہ لگایا اس کے مطابق بیرونی اخراجات کو کم سے کم کرنے کی حکمت عملی بھی اپنائے گا۔ تازہ ترین اطلاع کے مطابق امریکی سینیٹ میں ایک بل پیش کر دیا گیا ہے جس میں نہ صرف اقوام متحدہ کی رکنیت ختم کرنے بلکہ اقوام متحدہ کی فنڈنگ بند کرنے کی شق بھی موجود ہے، اگرچہ امریکی طرز حکومت اور قواعد کے مطاب کسی بھی بل یا قانون کی منظوری کے لئے کئی مراحل ہوتے ہیں، تاہم اندازہ ہوتا ہے کہ ٹرمپ دنیا کو کس گرداب میں پھنسانا چاہتے ہیں۔ افغان پناہ گزینوں کے لئے امداد پہلے ختم کر چکے، پی آئی اے کے روز ویلٹ ہوٹل سے معاہدہ کی ادائیگی کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ صدر ٹرمپ خالص تاجرانہ انداز سے حالات اپنے موافق بنانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔

ایسے میں ہم پاکستانیوں کو بہت ہی سنبھل کر چلنا ہوگا۔ چین اور پاکستان کی دوستی بے مثال ہے تاہم ہم آئی ایم ایف اور عالمی بنک کے حوالے سے امریکی انتظامیہ کے دباؤ میں بھی ہیں اور وہ معاشی طور پر ہمیں گھیرے ہوئے ہے۔ یوں یہ پیچیدہ صورت حال ہے۔ اس کے لئے حکمت عملی بنانا لازم اور ہزار بار سوچ کر بناناہوگی کہ ہم معاشی طور پر سنبھلے ضرور ہیں لیکن بقول نائب وزیراعظم اسحاق ڈار پاکستان کو معاشی استحکام کے لئے بارہ سال درکار ہوں گے، جبکہ ملک میں بے روزگاری اور مہنگائی میں کمی نہیں ہو رہی، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بلاشبہ مہنگائی کی شرح کم ہوئی لیکن عام آدمی متاثر نہیں ہوا کہ یہ بھی ایک تکنیکی عمل ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جو مہنگائی 38فیصد کی شرح سے بڑھ رہی تھی وہ اب 3سے 4فیصد تک آگئی۔ یعنی اب بھی مہنگائی بڑھتی ہے لیکن اس کی شرح بہت کم ہو گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اثرات عام آدمی تک نہیں آ رہے، اس کے لئے نہ صرف مزید محنت اور تحمل کی ضرورت ہے بلکہ تاجر بھائیوں کو بھی عوام کے حال پر رحم کرنا ہوگا لیکن یہاں تو حالت یہ ہے کہ رمضان المبارک کی آمد سے پہلے ہی چھریاں تیز کرلی گئی ہیں اور روزمرہ کی اشیاء خصوصاً خوردنی ابھی سے گراں ہو رہی ہیں، عوام کی حالت یہ ہو چکی ہے کہ اب وہ خوراک سے آگے سوچنے کے قابل نہیں، ورنہ اگر عام استعمال کی اشیاء کے نرخوں پر غور کریں تو ہوش اڑ جاتے ہیں، صرف ایک مثال، جِلٹ شیونگ ڈسپوزایبل سٹک جو 90روپے کی تھی وہ اب تین سوروپے کی ملتی ہے،حالانکہ یہ لوکل میڈ ہے۔ یوں کسی بھی بڑے سٹور سے ٹوٹھ پیسٹ، صابن اور دیگر استعمال کی ضروری اشیاء خریدنا بھی مشکل ہو گیا ہے جبکہ سرکارکے ہر ٹیکس کا بوجھ خریدار (عوام) پر منتقل کر دیا جاتا ہے۔

اب ذرا غور فرمائیں کہ جس سیاسی راہنما سے سوال کریں، سب کہتے ہیں، معاشی استحکام صرف اسی صورت ممکن ہے کہ ملک کے اندر سیاسی استحکام ہو، لیکن حالات یہ ہیں کہ اس پر غور کرنے کے لئے یہ حضرات مل بیٹھنے کو تیار نہیں، بلکہ رقیب تھانے جا کر شکایات لگا رہے ہیں، دو روز قبل اپوزیشن والے چیف جسٹس پاکستان سے وفد کی صورت ملے، ان میں ماہرین قانون بھی شامل ہیں، اگر ان حضرات کی اپنی زبانی کہی گئی باتوں پر غور کرلیں تو حیرت ہوتی ہے کہ قابل احترام چیف جسٹس سے جو مطالبات کئے گئے وہ کیا ہیں اور کیا چیف جسٹس عدلیہ سے متعلق شکایات کے سوا کسی اور مطالبے پر غور کر سکتے ہیں۔

آخر میں یہ عرض کر دوں، ہم بدقسمت قوم ہیں کہ ہماری نمائندگی کرنے والے ساڑھے پانچ کروڑ روپے کی لینڈ کروزر سے کم سواری نہیں رکھتے اور ان کی رہائش گاہیں بھی محل ہیں، ان کو مہنگائی اور عوام کی مشکلات سے کیا لینا دینا،حب الوطنی کا تقاضا مکمل قومی اتفاق رائے ہے، اگر یہ سب اس پر آمادہ نہیں تو یہ قوم اور عوام کے رہنما کیسے ہو سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں