جیسے جیسے زندگی آگے بڑھتی ہے،ویسے ویسے دنیا کے حالات بھی تبدیل ہوتے ہیں اور بزرگوں کے مطابق قیامت اور نزدیک ہو جاتی ہے۔ اس روزِ محشر کے بارے میں ہمیں جو بتایا گیا وہ تو یہی ہے کہ دنیا میں انصاف اُٹھ جائے گا،اخلاقیات کا جنازہ نکل جائے گا، جھوٹ عام ہو گا۔بیٹا باپ اور ماں کا نافرمان ہو گا اور خون کے رشتے ایسے دشمن ہوں گے کہ باپ اولاد اور اولاد باپ کو قتل کرے گی، ویسا ہی ہو رہا ہے اور اِس وقت پوری دنیا پر طاقت کا راج ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں کہا کہ امریکہ ایک بہت بڑا طیارہ بردار جہاز بنا رہا ہے جو بے مثال ہو گا اور ویسا جہاز نہ کہیں ہے اور نہ کوئی بنائے گا۔ امریکی صدر بار بار اپنی طاقت کا اظہار کرتے اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کریڈٹ لیتے اور بار بار کہتے ہیں، میں نے آٹھ جنگیں بند کرائیں۔ ان میں وہ غزہ کی جنگ بندی بھی شامل کرتے ہیں لیکن غزہ کی حالت ِ زار اور صہیونی حکومت کے طرزِ عمل پر بات نہیں کرتے،جس کی طرف سے غزہ جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی جاری ہے اور اب تو صہیونی حکومت کے وزیر دفاع نے ببانگ ِ دہل اعلان کر دیا ہے کہ غزہ سے اسرائیلی فوج نہیں ہٹائی جائے گی اور اسرائیل غزہ میں ایٹمی پلانٹ لگائے گا۔امریکہ کی طرف سے اس حوالے سے کچھ نہیں کہا گیا اور فلسطین دوست ملک پہلے کی طرح مذمت کر کے دِل کا غبار نکال رہے ہیں اور اب تو امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ غزہ میں امن کمیٹی کے لئے پاکستان بھی اپنی افواج بھیجے گا۔اس سلسلے میں یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ فیلڈ مارشل، چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر کی امریکہ یاترا کے حوالے سے بھی انتظامات کئے جا رہے ہیں اگرچہ امریکہ کی طرف سے کوئی تاریخ متعین نہیں کی گئی، مگر امریکی ذرائع ہی یہ بتا رہے ہیں کہ فیلڈ مارشل کے دورہ کے دوران ان کی تیسری بار ٹرمپ سے ملاقات ہو گی اور وہ فیلڈ مارشل سے پاکستانی افواج کی غزہ میں تعیناتی کے بارے میں بات کریں گے۔امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے تو یہ توقع ظاہر کر دی گئی ہے کہ پاکستان رضا مند ہے۔
اِس وقت دنیا کے جو حالات ہیں ان سے واضح ہوتا ہے کہ انصاف اور امن کا دور دور تک پتہ نہیں۔مسلم اُمہ نہ جانے کیسے یہ یقین کئے بیٹھی ہے کہ جو معاہدہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرایا اس پر عمل ہو گا کیا ابھی تک امریکہ کی طرف سے اسرائیلی جارحیت اور معاہدہ کی مسلسل خلاف ورزیوں کے حوالے سے کچھ کہا گیا ہے الٹا حماس کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے اور بار بار اسے غیر مسلح کرنے کی بات کی جاتی ہے۔امریکی صدر بھی یہی چاہتے ہیں کہ حماس کو غیر مسلح کرنا ہو گا، ورنہ اور یہ ورنہ وہی دھمکی جو وہ بار بار دے چکے ہیں اور ابھی تک اسی پر قائم ہیں۔یوں انصاف،طاقت کے سامنے سرنگوں ہے۔
انہی حالات کے باعث میں کئی بار بزرگوں کے اقوال اور حضور اکرمؐ کے فرامین کا ذکر کر چکا ہوا ہوں،ذرا گردن جھکا کر گریبان میں جھانکیں تو شرمندگی ہو گی کہ ہم کیا ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔ اب بھی وقت ہے کہ توبہ کریں اور اللہ سے رجوع کر کے برائیوں سے تائب ہو جائیں تو اللہ مدد ضرور فرمائیں گے اور اگر ہم نے اپنے رویے درست نہ کئے تو پھر پچھتائیں گے۔اس حوالے سے جتنی واضح نشانیاں ہمیں بتائی گئیں اور وہ ظاہر ہو رہی ہیں وہ دنیا کی کسی کتاب میں نہیں ملتیں۔ میں تو اپنے ملکی حالات کے حوالے سے سوچتا اور دُکھی ہوتا ہوں کہ یہاں ہر وہ برائی موجود ہے جس کا ذکر کیا گیا تھا، ہمارے رہنماؤں کے قول و فعل میں تضاد ہے۔ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر ایک مصالحت،مذاکرات اور سیاسی استحکام کا حامی ہے لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ عمل نظر نہیں آ رہا، ہر کوئی اپنے مطلب کی بات کرتا ہے۔تحریک انصاف کے سربراہ اور ان کے پیروکار کسی قانونی راستے کی بجائے بانی کی فوری رہائی چاہتے ہیں۔اس کے سوا ان کے سامنے اور کوئی لائحہ عمل نہیں ہے۔دوسری طرف مذاکرات کی دعوت دی جاتی ہے تو وہ مشروط کر کے دی جاتی ہے جبکہ وزراء اس سے انکار کرتے ہیں ایسے میں سنجیدگی کہاں سے آئے گی۔میں نے مولانا فض الرحمن اور محمود اچکزئی سے توقع باندھی اور عرض کیا تھا کہ یہ حضرات مصالحت کے لئے قدم بڑھائیں اور سب کو مذاکرات کی میز پر لائیں مگر مولانا نے کراچی میں اعزازی ڈگری وصول کرتے وقت جو گفتگو کی اُس سے اس یقین کی نفی نظر آتی ہے جبکہ بانی کی طرف سے بھی انکار ہے اور محمود اچکزئی بقول چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر مذاکرات کے حوالے سے اختیار ان کے پاس ہے اور محمود اچکزئی نے مذاکرات کی بات کئے بغیر یوم سیاہ کی کال دی ہے جو آٹھ فروری کو ہو گا۔کے پی کے والوں کی طرف سے اسی ہڑتال کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے اور مظلومیت کی چادر اوڑھ کر تحریک کی بات کی جاتی ہے۔
ان حالات میں ہم گو سفارتی سطح پر بھی اپنی حیثیت منوا کر مطمئن سے ہیں لیکن دنیا یو ٹرن کی ماہر ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ بھی انہی میں سے ایک ہیں اور اب تو ان کی اپنی بے جا باتوں پر بھی حمایت کا یقین ہے۔ان حالات میں مسلم اُمہ کو متحد ہو کر ردعمل دینا چاہئے،لیکن یہاں لیبیا کے جنرل طیارہ حادثہ میں وفات پا جاتے ہیں اور غور نہیں کیا جاتا۔ہمارے فیلڈ مارشل نے حال ہی میں لیبیا کا دورہ کر کے اسلحہ کی ایک بڑی ڈیل پر معاہدہ کرایا،اس اسلحہ کے پہنچ جانے سے پہلے ہی طیارہ حادثہ ہو گیا۔
قارئین! بہت کچھ کہا جا سکتا ہے لیکن حالات مانع ہیں اس لئے اسی پر اکتفا کر کے اجازت چاہوں گا۔

