لندن (خصوصی رپورٹر+دی گارڈین)برطانوی میڈیکل ٹریبیونل نے پاکستانی نژاد 44 سالہ کنسلٹنٹ اینستھیٹسٹ ڈاکٹر سہیل انجم کو کام کرنے کا اہل قرار دیتے ہوئے برطانیہ میں فرائض انجام دینے کی اجازت دے دی۔
برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ کے مطابق ڈاکٹر سہیل انجم پر الزام تھا کہ انہوں نے 16 ستمبر 2023 کو ٹیمسائیڈ ہسپتال میں ایک مریض کو بے ہوش کرنے کے بعد دوسرے آپریشن تھیٹر میں جاکر ہسپتال کی نرس کے ساتھ جنسی عمل کیا تھا۔ اس دوران انہوں نے ایک اور نرس کو مریض کی نگرانی کی ہدایت دی تھی۔ انہیں ایک تیسری نرس نے نامناسب حالت میں دیکھ لیا تھا۔
میڈیکل ٹریبیونل کو بتایا گیا کہ ڈاکٹر سہیل انجم تقریباً آٹھ منٹ تک آپریشن روم سے غیر حاضر رہے، تاہم اس دوران مریض کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ واقعے کی اطلاع ہسپتال انتظامیہ کو دی گئی اور فروری 2024 میں ڈاکٹر انجم کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔
سماعت کے دوران ڈاکٹر سہیل انجم نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے اسے ’’غلطی‘‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ مریض، ساتھیوں اور ہسپتال کی عزت کو نقصان پہنچانے پر شرمندہ ہیں۔ انہوں نے ٹریبیونل کو بتایا کہ وہ برطانیہ میں اپنا کیریئر دوبارہ شروع کرنا چاہتے ہیں اور اپنے خاندان کے ساتھ واپس آنا چاہتے ہیں جو فی الحال پاکستان منتقل ہو چکے ہیں۔
میڈیکل پریکٹیشنرز ٹریبونل سروس کی چیئرپرسن ربیکا ملر نے قرار دیا کہ ڈاکٹر سہیل انجم نے ذاتی مفادات کو مریض کی دیکھ بھال پر ترجیح دی، تاہم اب ان کے دوبارہ ایسی غلطی کرنے کے امکانات کم ہیں۔ ٹریبونل نے فیصلہ دیا کہ ان پر کوئی پابندی عائد نہیں کی جائے گی اور انہیں کام کرنے کی اجازت دی جائیگی، البتہ ان کی رجسٹریشن پر وارننگ جاری کرنے یا نہ کرنے سے متعلق مزید فیصلہ بعد میں کیا جائیگا۔

