پاکستانی سیاست کی سب سے تلخ اور مستقل حقیقت یہ ہے کہ یہاں جمہوریت کا نام تو بار بار لیا جاتا ہے، مگر اس کی روح کو کبھی سنجیدگی سے قبول نہیں کیا گیا۔ تقریریں “میرے عوام” اور “میرے پاکستانیوں” سے شروع ہوتی ہیں، ووٹ کے لیے عوام کے دروازے کھٹکھٹائے جاتے ہیں، جلسوں، جلوسوں اور احتجاجوں میں عوام کو آگے رکھا جاتا ہے، مگر اقتدار کیلئے عوام پر اعتماد کے بجائے ہمیشہ جرنیلوں کا سہارا لیا جاتا ہے۔ لیکن جب وہی سہارا ہاتھ اٹھا لیتے ہیں تو “میرے عوام”اور “میرے پاکستانی”پھر اچانک یاد آ جاتے ہیں۔
اسی بنیادی تضاد کا عملی مظاہرہ حال ہی میں اسلام آباد میں دیکھنے میں آیا، جہاں تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان کے زیرِ اہتمام خیبر پختونخوا ہاؤس میں دو روزہ قومی کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، وکلا، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی، اور اختتام پر ایک متفقہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں آئین کی بالادستی، آزاد عدلیہ، شفاف انتخابات، انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کے فروغ کا عزم دہرایا گیا۔ فروری 2024 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا، 8 فروری 2026 کو بین الاقوامی سطح پر یومِ سیاہ، ملک گیر پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا گیا، اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کیلئے بھی کہا گیا۔
بیشتر باتیں بظاہر درست تھیں، الفاظ متاثر کن تھے، اور مطالبات ایسے تھے جن پر کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا۔ مگر مسئلہ مطالبات کا نہیں، مسئلہ نیت، تسلسل اور دیانت کا ہے۔ پاکستان کی سیاست میں آئین، انصاف اور حقوق اکثر تب یاد آتے ہیں جب اقتدار ہاتھ سے نکل جائے۔ اقتدار میں یہ اصول “سیاسی مصلحت” کے نام پر خاموشی میں دفن ہو جاتے ہیں، اور اپوزیشن میں اچانک قومی ضمیر جاگ اٹھتا ہے۔ سیاستدان اقتدار میں جس سچ کو جھوٹ کہتے ہیں، اپوزیشن میں آ کر اسی کو سچ بنا کر پیش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کانفرنس کو بھی آئینی بیداری سے زیادہ یادداشتِ سیاست کے طور پر دیکھا گیا: صرف کچھ چہرے بدلے ، دعوے وہی ، غصہ وہی ، صرف مخاطَب بدل گیا تھا۔
کانفرنس میں پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے بہت سے رہنما، وکلا اور سیاسی نما صحافی موجود تھے جو کل پی ٹی آئی کو اقتدار میں لانے اور پھر دورانِ اقتدار اپوزیشن کے خلاف جھوٹے مقدمات، سزاؤں، میڈیا ٹرائل، اور ہر غیر قانونی و غیر آئینی اقدام کو ‘ آئین کی بالادستی، آزاد عدلیہ، شفاف انتخابات، انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کا فروغ’ قرار دیتے اور پیش کرتے رہے۔ آج وہی زبان موجودہ حکومت کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ اگر کل “عدلیہ کی آزادی” کا مطلب صرف اپوزیشن کے خلاف فیصلے تھے تو آج اپنے خلاف فیصلے کیوں “عدلیہ کی غلامی” قرار پا رہے ہیں؟ اگر کل 2018 کے “شفاف انتخابات” اپنے جیتنے کی ضمانت تھے تو 2024 میں بالکل اسی طرز کے انتخابات غلط کیسے ہو گئے؟ اصول اگر واقعی اصول ہیں تو وہ حکومت اور اپوزیشن دونوں میں ایک جیسے ہونے چاہئیں۔ ورنہ سچ یہ ہے کہ ہماری سیاست میں آئین اکثر ہتھیار رہا ہے، منزل نہیں۔ یہی وہ دائرہ ہے جو پاکستان کی سیاست کو مسلسل پیچھے کھینچتا رہا ہے۔ اس عمل میں نہ قانون مضبوط ہوتا ہے، نہ انصاف معتبر رہتا ہے، اور نہ ہی جمہوریت آگے بڑھتی ہے۔
کانفرنس میں “مزاحمت” اور “سڑکوں پر نکلنے” سے متعلق تند و تیز اور جذباتی بیانات نے خاصی توجہ حاصل کی، تالیاں بجیں ، مگر یہاں ایک سنجیدہ سوال پیدا ہوتا ہے: مزاحمت کون کرے گا؟ قربانی کون دے گا؟ اس ملک میں انقلاب کی تقریریں عموماً وہی کرتے ہیں جن کی اپنی سیاست ہمیشہ محفوظ راستوں سے گزری ہو، جبکہ قیمت وہ طبقے ادا کرتے ہیں جو پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور ریاستی دباؤ کا شکار ہیں۔ بعض تقاریر میں حسبِ معمول احتجاج کیلئے خصوصاً پختونوں کو بار بار فرنٹ لائن پر آنے کی بات کی گئی۔ یہ باتیں کرنے والے خود تو ہمیشہ اپنی گاڑیوں میں بیٹھ کر ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کے بعد غائب ہو جاتے ہیں، مگر پختونوں کو “بہادری اور وفاداری” کے نام پر سڑکوں پر لا کر قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے۔ اس وقت بھی گزشتہ احتجاجوں کے نتیجے میں جو پختون جیلوں میں ہیں، ان کا پوچھنے والا کوئی نہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں آئینی جدوجہد جلسہ گاہ کی شاعری سے نکل کر حقیقی قومی حکمتِ عملی کا تقاضا کرتی ہے۔ اگر تحریک تحفظِ آئین واقعی آئین کی بالادستی چاہتی ہے تو اسے سب سے پہلے “منتخب اصول” سے نکلنا ہوگا۔ جو چیز اپنے لیے ناجائز ہے وہ دوسروں کیلئےبھی ناجائز ہونی چاہیے۔ جو پابندی اپوزیشن پر ظلم ہے، وہی پابندی حکومت میں بھی ظلم رہے۔ ورنہ عوام کے نزدیک یہ سب محض اقتدار کی کشمکش ہی رہے گی۔ اگر آج کی اپوزیشن واقعی اصلاح چاہتی ہے، آئین اور قانون کی بالادستی چاہتی ہے، تو اسے 2018 اور 2024 دونوں انتخابات کی تحقیقات کا مطالبہ کرنا چاہیے، اور ان تمام جرنیلوں، ججوں، صحافیوں اور سیاستدانوں کے غیر جانبدار احتساب کا مطالبہ کرنا چاہیے جو خصوصاً گزشتہ پندرہ برسوں میں ملک اور معاشرے کا حلیہ بگاڑنے میں ملوث رہے۔
اسی طرح سوال یہ بھی ہے کہ کیا مزاحمت ہی واحد راستہ ہے؟ تاریخ بتاتی ہے کہ جب مزاحمت کے ساتھ کوئی واضح، پرامن اور آئینی روڈ میپ نہ ہو تو یا تو ریاست سختی بڑھا دیتی ہے یا تحریک اندرونی اختلافات میں بکھر جاتی ہے۔ دونوں صورتوں میں نقصان عام کارکن اور عام شہری اٹھاتے ہیں۔ پہلے تو جتنے لوگ اس کانفرنس میں شریک تھے، خصوصاً جنہوں نے انقلابی بنتے ہوئے سڑکوں پر نکلنے کی زور دار تقاریر کیں، ان میں سے کسی کی بھی یہ اہلیت نہیں کہ وہ واقعی لوگوں کو سڑکوں پر نکال سکیں، بلکہ قوی امکان ہے کہ وہ خود بھی نہ نکلیں۔ لیکن اگر فرض کر لیا جائے کہ عام لوگ بڑی تعداد میں نکل آتے ہیں اور کوئی مزاحمتی تحریک چل پڑتی ہے، تو آگے جو ہوگا اس کی مثال 1977 میں ہمارے سامنے موجود ہے: نہ رہے گا بانس، نہ رہے گی بانسری۔
اگر واقعی آئینی شعور بیدار کرنا مقصود ہے تو جذبات سے ہٹ کر چند بنیادی کام ناگزیر ہیں: داخلی احتساب، غیر مبہم مطالبات، عدم تشدد کی واضح لکیر، اور ملکی سطح پر مساوی شرکت۔ آئین کا دفاع صرف حکمرانوں کو چیلنج کرنے کا نام نہیں، بلکہ سب کو پہلے اپنی غلطیاں مان کر خود اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کرنے، اور اپنے پسندیدہ رہنماؤں کو بھی قانون کے دائرے میں رکھنے کا نام ہے۔ ایک بہت سادہ سا سوال ہے: کیا ہم آئین کو واقعی “ہم سب کا آئین” بنانا چاہتے ہیں، یا محض اپنے مطلب کا حوالہ؟
اگر تمام سیاستدان، حکومت اور اپوزیشن، واقعی یہ مان چکے ہیں کہ موجودہ راستہ ملک کو آگے نہیں لے جا رہا، تو پھر وقت آ گیا ہے کہ جذبات، نفرت اور انتقام سے نکل کر مکالمہ، مفاہمت اور عقل کو سیاست کی بنیاد بنایا جائے۔
اپنے لیے سب نے بہت سوچ لیا۔ اب ذرا عوام کیلئےبھی سوچیں۔
ورنہ کانفرنسیں ہوتی رہیں گی، اعلامیے جاری ہوتے رہیں گے، اور عوام ہمیشہ کی طرح رولتے ہی رہیں گے۔ عوام کیلئےبھی سوچنے کا مقام ہے کہ ان کا ان بازی گروں کی بازی گری سیاست میں کیا مقام ہے، سوچ کر آگے فیصلہ خود کریں۔

