دہشت گردی کا نیا خطرہ افغان سرزمین سے سر اٹھارہا ہے: وزیر اعظم شہباز شریف

اشک آباد (اے پی پی)وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کا نیا خطرہ افغان سرزمین سے سر اٹھا رہا ہے، عالمی برادری افغان حکومت پر ذمہ داریوں کی ادائیگی کیلئے زور ڈالے۔ ترکمانستان کے شہر اشک آباد میں عالمی امن فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تنازعات کا پرامن حل پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی حمایت سے غزہ امن منصوبہ منظور ہوا، جنگ بندی کیلئے تعاون پر قطر، ترکیہ، سعودی عرب، یو اے ای اور ایران کے مشکور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قرار داد 2788 پاکستان کے وژن کی تائید ہے، مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی ضروری ہے، 8 عرب اسلامی ممالک کے گروپ کے رکن کی حیثیت سے پاکستان کا امن مشن میں اہم کردار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ غزہ جنگ بندی کی مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں آج لاکھوں فلسطینیوں نے سکون کا سانس لیا، پائیدار امن اور پائیدار ترقی لازم و ملزوم ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کا صاف اور سرسبز ترقیاتی ماڈل عالمی مثال ہے، موسمیاتی تبدیلی اور عدم مساوات ترقی پذیر ممالک کے بڑے چیلنجز ہیں، مالیاتی شمولیت اور خواتین کو معاشی دھارے میں لانا ہماری ترجیح ہے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ترقی یافتہ ٹیکنالوجیز تک منصفانہ رسائی ناگزیر ہے، دنیا کو صفر جمع سوچ سے نکل کر مشترکہ تعاون اپنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تجارت ہی نہیں انسانوں اور خیالات کو جوڑنے والے پل تعمیر کرنا ضروری ہے، ترکمانستان کی قیادت کا عالمی امن میں کردار لائق تحسین ہے، مکالمہ اور سفارتکاری ہی تنازعات کے حل کا واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ امن، باہمی اعتماد اور مشترکہ خوشحالی ہماری مشترکہ منزل ہے، نفرت اور تنازعات نے دنیا کو تاریکی میں دھکیل رکھا ہے، آج امن کی فاختہ کو دوبارہ پرواز دینے کی ضرورت ہے۔

قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی رہنماؤں کے ہمراہ ’’یادگارِ غیرجانبداری‘‘ کا دورہ کیا اور پھول چڑھائے۔ اس موقع پر روسی صدر ولادی میر پیوٹن، ترک صدر رجب طیب اردوان اور ترکمانستان کے صدر بردی محمدوف سمیت متعدد عالمی رہنما موجود تھے جن سے وزیراعظم کا خوشگوار جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ وزیراعظم بین الاقوامی سال برائے امن و اعتماد، عالمی دن برائے غیرجانبداری اور ترکمانستان کی 30 سالہ مستقل غیرجانبداری کی سالگرہ کے حوالے سے فورم میں شرکت کیلئے دو روزہ دورے پر ہیں، جہاں وہ عالمی رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔