دہشت گردی کیخلاف جنگ: ریاست، سیاست اور اجتماعی ذمہ داری

دہشت گردی کے حالیہ واقعات نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ یہ جنگ صرف سیکورٹی اداروں کی نہیں بلکہ پوری قوم کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ایسے نازک وقت میں احتجاج، سیاسی محاذ آرائی اور پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے مکالمہ، اتحاد اور مشترکہ قومی فیصلے ہی پاکستان کو اس عفریت سے نجات دلا سکتے ہیں۔

خیبر پختون خوا، بلوچستان اور اسلام آباد میں دہشت گردی کے پے در پے واقعات اور سینکڑوں شہریوں اور سیکورٹی فورسز کے جوانوں کی شہادتوں نے پورے ملک کو سوگ اور شدید تشویش کی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ ہر نئے سانحے کے بعد یہی سوال شدت سے ابھرتا ہے کہ یہ سلسلہ آخر کب رکے گا، کب تک بے گناہ جانیں قربان ہوتی رہیں گی، اور کب ریاست اور معاشرہ اس عفریت پر قابو پانے میں کامیاب ہوں گے۔ دہشت گردی اب محض ایک سکیورٹی مسئلہ نہیں رہی بلکہ ایک ہمہ جہت قومی بحران بن چکی ہے، جس کے سماجی، سیاسی اور فکری پہلوؤں کو نظرانداز کر کے کوئی پائیدار حل ممکن نہیں۔

پاکستان میں دہشت گردی کوئی نیا مسئلہ نہیں بلکہ اس کی ایک طویل اور پیچیدہ تاریخ ہے۔ مختلف ادوار میں اس کے اسباب بھی مختلف رہے ہیں۔ یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ ماضی کی بعض ریاستی پالیسیاں، علاقائی تنازعات اور عالمی طاقتوں کے مفادات نے اس مسئلے کو جنم دیا اور پروان چڑھایا۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے ریاست نے اپنی سمت درست کی ہے اور بلا امتیاز تمام دہشت گردوں اور انتہاپسند عناصر کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان، انٹیلی جنس اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی اور متعدد خطرناک نیٹ ورکس کا خاتمہ اسی پالیسی تبدیلی کا نتیجہ ہے۔

ریاست کی اس واضح اور سخت پالیسی کے بعد اندرونی اور بیرونی دشمن عناصر نے باہمی گٹھ جوڑ کے ذریعے ملک کو دوبارہ عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ یہ عناصر اب صرف مسلح حملوں تک محدود نہیں رہے بلکہ ایک ہمہ جہت جنگ لڑ رہے ہیں۔ ایک طرف خودکش دھماکے، ٹارگٹ کلنگ اور سیکورٹی فورسز پر حملے ہیں، تو دوسری جانب جھوٹے بیانیے، لغو پروپیگنڈا اور سوشل میڈیا کے ذریعے ذہن سازی کی منظم مہم جاری ہے۔ خاص طور پر خیبر پختون خوا اور بلوچستان کے نوجوانوں کو ریاست کے خلاف اکسانا ان کی ترجیح بن چکا ہے تاکہ ان کے احساسات کو بغاوت میں بدلا جا سکے۔

اس تناظر میں بیرونی دشمنوں کا کردار بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ سرحد پار سے مالی، عسکری اور نظریاتی معاونت کے ذریعے دہشت گرد گروہوں کو سہارا دیا جا رہا ہے۔ خیبر پختون خوا میں افغانستان سے ملحقہ علاقوں میں ریاستی رٹ کو چیلنج کیا جا رہا ہے، جبکہ بلوچستان میں بھی دہشت گرد اور علیحدگی پسند عناصر منظم انداز میں سرگرم ہیں۔ یہ سب محض اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہو رہا ہے، جس کا مقصد پاکستان کو مسلسل دفاعی پوزیشن پر رکھنا ہے۔

ایسے نازک حالات میں دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری نہیں رہتی بلکہ یہ پوری قوم کا اجتماعی فرض بن جاتی ہے۔ سیکورٹی فورسز کے جوان دن رات اپنی جانوں کی قربانی دے کر اس ملک کا دفاع کر رہے ہیں، مگر بدقسمتی سے کچھ عناصر ذاتی مفادات اور سیاسی ایجنڈوں کی خاطر قومی اتحاد کو کمزور کرنے میں مصروف ہیں۔ ان میں مختلف مافیا گروہوں کے علاوہ بعض سیاسی عناصر بھی شامل ہیں، جو اس حقیقت کو نظرانداز کر دیتے ہیں کہ اگر ملک میں استحکام نہیں ہوگا تو سیاست، معیشت اور جمہوریت سب خطرے میں پڑ جائیں گے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں سنجیدگی اور بالغ نظری کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ یہ وقت سڑکوں پر نکل کر احتجاجوں، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا نہیں بلکہ مکالمے، مشاورت اور قومی ذمہ داری کا ہے۔ جب ملک دہشت گردی کی منظم جنگ کا سامنا کر رہا ہو تو اندرونی محاذ آرائی دشمن کے ہاتھ مضبوط کرتی ہے۔ اگر عوام یا کسی طبقے کے کچھ جائز مطالبات ہیں تو ان کا حل دھرنوں، تصادم یا ریاستی اداروں کو مفلوج کرنے میں نہیں بلکہ مذاکرات، پارلیمنٹ اور باہمی گفت و شنید میں ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سیاسی مفاد کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دیں، ایک میز پر بیٹھیں اور ایسے قابلِ عمل حل نکالیں جو سیاسی استحکام کے ساتھ ساتھ ریاست کو دہشت گردی کے عفریت سے نجات دلانے میں معاون ثابت ہوں۔

یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جانی چاہیے کہ ملک کی تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتیں مختلف ادوار میں اقتدار میں رہ چکی ہیں اور بعض اب بھی اقتدار کا حصہ ہیں۔ ہر دور میں دہشت گردی کے سنگین واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ جیسے وہ اپنے دورِ حکومت میں کئی بار بے بس دکھائی دیے، ویسے ہی ہر حکومت کو انہی حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود اقتدار میں ہوتے ہوئے ایک بیانیہ اور اپوزیشن میں آتے ہی بالکل مختلف مؤقف اختیار کیا جاتا ہے، جو قومی مفاد کے منافی ہے۔

دہشت گرد کسی کے دوست نہیں ہوتے۔ وہ نہ کسی قوم کے خیر خواہ ہیں اور نہ کسی نظریے کے علمبردار۔ ان کا مقصد صرف خوف، خونریزی اور انتشار پھیلانا ہے۔ اس لیے ہر پاکستانی پر لازم ہے کہ وہ ذاتی، لسانی اور سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر دہشت گردی کے خلاف متحد ہو۔ ریاستی اداروں پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ صرف عملی دہشت گردوں کے خلاف ہی نہیں بلکہ فکری محاذ پر بھی پوری قوت سے کارروائی کریں۔ سوشل میڈیا پر بھی مؤثر اور ذمہ دارانہ نگرانی ناگزیر ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف بہادری سے لڑ کر جامِ شہادت نوش کرنے والے سیکورٹی فورسز اور پولیس کے جوانوں، اور مساجد و عبادت گاہوں میں دھماکوں اور نماز پڑھتے بے گناہ افراد کی شہادت پر سوشل میڈیا پر خوشی کا اظہار کرنے والے عناصر دراصل ایک ہی ذہنیت کے عکاس ہیں، اور دونوں یکساں طور پر قابلِ مذمت اور قابلِ گرفت ہیں۔ سفاک قاتلوں کا خاتمہ اکثر سخت اور فیصلہ کن اقدامات کا متقاضی ہوتا ہے، کیونکہ یہ عناصر صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں۔

ایک بات بالکل واضح ہے کہ پاکستان اس جنگ میں اسی وقت کامیاب ہو سکتا ہے جب قوم بحیثیتِ مجموعی ایک صف میں کھڑی ہو۔ اتحاد، اعتماد اور مشترکہ عزم ہی وہ طاقت ہے جو دہشت گردی جیسے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ سکتی ہے۔ آج فیصلہ کن لمحہ ہے: یا تو ہم باہمی اختلافات میں الجھے رہیں اور دشمن کو موقع دیں، یا اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک مضبوط، پرامن اور محفوظ پاکستان کی بنیاد رکھیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب قومیں متحد ہوتی ہیں تو بڑے سے بڑا بحران بھی ان کے حوصلے پست نہیں کر سکتا۔