نئی دہلی (انڈین ایکسپریس/الجزیرہ)بھارت کے دارالحکومت دہلی میں جاری ورلڈ پیرا ایتھلیٹکس چیمپئن شپ 2025 میں افسوسناک واقعہ پیش آیا، جب جواہر لعل نہرو اسٹیڈیم کے وارم اپ ٹریک پر آوارہ کتوں نے کینیا کے اسپرنٹ کوچ ڈینس موانزو اور جاپان کی اسسٹنٹ کوچ میئیکو اوکوماتسو کو کاٹ لیا۔
اہم بین الاقوامی مقابلے کے دوران پیش آنے والے ان واقعات نے بھارتی حکام کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ماہرین کے مطابق اس صورتحال نے بھارت کے کامن ویلتھ گیمز 2030 اور اولمپکس 2036 کی میزبانی کے عزائم پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
واقعہ 3 اکتوبر کی صبح تقریباً ساڑھے 9 بجے پیش آیا، جب ڈینس موانزو اپنے ایتھلیٹ اسٹیسی اوبونیؤ کی ٹریننگ کے دوران اسٹارٹنگ بلاکس درست کر رہے تھے کہ اچانک ایک کتے نے انہیں دائیں پنڈلی پر کاٹ لیا۔ انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کرکے ریبیز کا ٹیکہ لگایا گیا۔
اسی روز جاپان کی اسسٹنٹ کوچ میئیکو اوکوماتسو کو بھی ٹریننگ کے دوران کتے نے کاٹ لیا۔ اوکوماتسو نے بتایا کہ “شکر ہے میڈیکل ٹیم نے بروقت علاج فراہم کیا۔”آرگنائزنگ کمیٹی نے واقعات کی ذمہ داری ان افراد پر ڈالی جو اسٹیڈیم کے قریب آوارہ کتوں کو کھانا کھلاتے ہیں۔
بھارتی پریس انفارمیشن بیورو کے مطابق دہلی میں2024 میں 25210 اور 2023 میں 17874جبکہ صرف جنوری 2025 میں 3200 کتے کے کاٹنے کے کیس رپورٹ ہوئے۔دہلی میں تقریباً 8 لاکھ آوارہ کتے موجود ہیں۔
بھارتی سپریم کورٹ نے 11 اگست 2025 کو حکم دیا تھا کہ دارالحکومت سے تمام آوارہ کتوں کو ہٹا کر شیلٹرز میں رکھا جائے، تاہم عوامی احتجاج کے بعد عدالت نے چند دنوں میں فیصلہ نرم کرتے ہوئے ہدایت دی کہ کتوں کو ویکسینیشن کے بعد دوبارہ اسی علاقے میں چھوڑا جائے۔
کینیا ٹیم کے ڈاکٹر مائیکل اوکارو نے کہا کہ یہ ہمارے لیے انتہائی پریشان کن ہے۔ڈینس موانزو نے کہا کہ “پہلے مجھے لگا کسی نے پکڑ لیا ہے لیکن جب دیکھا تو کتا تھا، ہمیں معلوم نہیں تھا کہ اسے ویکسین لگی تھی یا نہیں۔”
آرگنائزنگ کمیٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ میونسپل کارپوریشن آف دہلی (MCD) نے پہلے ہی اسٹیڈیم کو کلیئر کر دیا تھا اور ایونٹ کے آغاز سے ہی کتا پکڑنے والی گاڑیاں تعینات تھیں، لیکن لوگوں کے کھانا کھلانے کی وجہ سے جانور دوبارہ اندر داخل ہوئے۔
بین الاقوامی سطح پر جگ ہنسائی کا باعث بننے والے ان واقعات نے بھارتی انتظامی دعووں کو بے نقاب کر دیا ہے، اور عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ دہلی میں کھیلوں کے انفراسٹرکچر اور سیکیورٹی انتظامات پر سنجیدہ سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

