دیر: سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 10 دہشتگرد ہلاک،یرغمالیوں کی جانیں بچاتے 7 جوان شہید

دیر ( آئی ایس پی آر) –خیبرپختونخوا کے علاقے دیر میں سیکیورٹی فورسز نے بھارتی حمایت یافتہ فتنۃ الخوارج کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 10 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا جبکہ یرغمال بنائے گئے شہریوں کی جانیں بچانے کی کوشش میں 7 جوان شہید ہوئے۔ آپریشن کے بعد علاقے میں کلیئرنس کارروائی جاری ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 11 ستمبر 2025 کو سیکیورٹی فورسز نے لوئر دیر کے علاقے لال قلعہ میدان میں بھارتی پروکسی فتنۃ الخوارج کی موجودگی کی اطلاع پر آپریشن کیا۔ آپریشن کے دوران فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانے کو مؤثر نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے میں 10 بھارتی حمایت یافتہ خوارج کو ہلاک کر دیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق شدید جھڑپ کے دوران 7 بہادر جوانوں نے یرغمال بنائے گئے معصوم شہریوں کی جانیں بچاتے ہوئے شہادت کا درجہ حاصل کیا۔ شہداء میں نائیک عبدالجلیل (39 سالہ، شمالی وزیرستان)، نائیک گل جان (38 سالہ، لکی مروت)، لانس نائیک عظمت اللہ (28 سالہ، لکی مروت)، سپاہی عبدالملک (28 سالہ، ضلع خیبر)، سپاہی محمد امجد (27 سالہ، مالاکنڈ)، سپاہی محمد داؤد (23 سالہ، صوابی) اور سپاہی فضل قیوم (21 سالہ، ڈیرہ اسماعیل خان) شامل ہیں۔

آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ انٹیلی جنس رپورٹس نے ان دہشتگرد کارروائیوں میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کی واضح تصدیق کی ہے۔ پاکستان نے توقع ظاہر کی کہ افغان عبوری حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی اور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے گی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ علاقے میں کسی بھی دوسرے بھارتی حمایت یافتہ خوارج کو ختم کرنے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے پرعزم ہیں اور ہمارے بہادر جوانوں کی قربانیاں اس عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل خیبرپختونخوا میں آپریشنز کے دوران مجموعی طور پر 35 بھارتی حمایت یافتہ خوارج ہلاک کیے جا چکے ہیں جن میں باجوڑ میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں 22 دہشتگرد شامل تھے، ان کارروائیوں میں 12 جوان بھی شہید ہوئے تھے۔

اپنا تبصرہ لکھیں