رحیم یار خان (نمائندہ خصوصی)پنجاب کے ضلع رحیم یار خان میں سکھر-ملتان موٹروے پر ڈاکوؤں نے گاڑیوں پر فائرنگ کر کے 10 افراد کو اغوا کر لیا، جبکہ فائرنگ کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوگئے۔ واردات کی ایف آئی آر بھوگ پولیس اسٹیشن میں درج کر لی گئی ہے۔
یہ واقعہ جمعرات کی صبح کے وقت پیش آیا، جب جدید اسلحہ سے لیس 20 سے 25 افراد نے اچانک موٹروے پر گاڑیوں پر حملہ کیا۔ حملہ آور تقریباً آدھے گھنٹے تک خودکار رائفلوں اور راکٹ لانچرز سے فائرنگ کرتے رہے۔
ایڈیشنل آئی جی پولیس جنوبی پنجاب کامران خان نے بتایا کہ فائرنگ سے تین افراد زخمی ہوئے جن میں سے دو کو معمولی زخم آئے اور طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا، جبکہ ایک زخمی کمر اور ٹانگ میں گولی لگنے کے باعث زیر علاج ہے۔
شیخ زید میڈیکل کالج ہسپتال کے ترجمان رانا الیاس احمد نے بتایا کہ زخمیوں کا تعلق شیخوپورہ سے ہے اور یہ سب ایک کوچ پر سوار تھے۔
رحیم یار خان پولیس کے ترجمان سب انسپکٹر ذیشان رندھاوا کے مطابق یہ حملہ ضلع کے کچہ رونتی علاقے میں ڈاکوؤں کے ایک ٹھکانے پر گزشتہ روز کیے گئے ڈرون آپریشن کے ردعمل میں کیا گیا۔ ان کے مطابق ڈاکو گروہوں نے پہلے ہی جوابی کارروائی کی دھمکیاں دے رکھی تھیں۔
بھوگ پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر کے مطابق حملہ آوروں نے کسی مالی نقصان یا سامان کی لوٹ مار نہیں کی بلکہ 10 افراد کو اغوا کر کے لے گئے۔ ایف آئی آر میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 148، 149، 186، 324، 353، 365، 431، 440 کے ساتھ انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 7 بھی شامل کی گئی ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ نشانہ بننے والی گاڑیوں میں ایک بکتر بند سرکاری گاڑی بھی شامل تھی جس پر گولیوں کے نشانات اور ٹائر پھٹنے کے شواہد ملے۔ جائے وقوع سے ملنے والی ویڈیوز اور تصاویر میں بھی ٹرکوں اور گاڑیوں پر فائرنگ کے واضح اثرات دکھائی دیتے ہیں۔
خیال رہے کہ یکم اگست کو رحیم یار خان کے کچہ علاقے میں ڈاکوؤں نے پولیس چیک پوسٹ پر حملہ کر کے 5 اہلکاروں کو شہید کر دیا تھا۔ اس سے قبل مارچ میں ڈاکوؤں نے ایک یوٹیوبر کے قتل کے بدلے میں صادق آباد کے علاقے جمال دین والی میں تین افراد کو قتل کیا تھا۔

