رمضان کے مہینے میں ہم۔ شاید نہیں

جب پھول کِھلتے ہیں، گھاس مسکراتی ہے اور درخت ہنستے ہیں تو خوشبو مفت ملتی ہے۔ رنگ بھری مستی کے اس موسم کو بہار کہتے ہیں۔ بہار اپنے اندر ایسا جادو رکھتی ہے کہ اس کے اثر سے کوئی نہیں بچتا۔ یہاں تک کہ محسوس ہوتا ہے کہ پتھروں سے بھی خوشبو آنے لگی ہے۔ اس جنتی موسم کے فارمولے کو سامنے رکھ کر اگر ہم رمضان کے مہینے پر غور کریں تو یہ نیکیوں کا موسمِ بہار ہوتا ہے۔ اس میں بھی قدرت مہکتی ہے، مسکراتی ہے اور جھومتی ہے۔ اس کی خوشبو جاندار اور بے جان بھی محسوس کرتے ہیں لیکن جیسے ہم میں سے اکثر موسمِ بہار کو موسموں میں ایک روٹین کی تبدیلی سمجھ کر گزارتے ہیں ویسے ہی ہم میں سے بہت سے رمضان کے مہینے کو مذہبی عادت کے طور پر نبھاتے ہیں۔ وہ کیسے؟ وہ ایسے کہ بھوک پیاس کے ساتھ عبادات تو کرتے ہیں اور گناہوں کی معافی بھی مانگتے ہیں مگر وہ بیشمار چھوٹے چھوٹے کرتوت جن کی معافی رب نے اُن سے مانگنے کو کہا ہے جو اِن کرتوتوں سے متاثر ہوتے ہیں۔ مثلاً اگر ہم کاروباری ہیں تو لوگوں کے احتجاج پر کہتے ہیں کہ رمضان میں چیزیں اس لیے مہنگی بکتی ہیں کہ یہ پیچھے سے ہی مہنگی آتی ہیں۔ پیچھے کی غائبانہ وجہ چھوڑ کر دیکھیں تو کیا کسی کاروباری نے انفرادی حیثیت میں اپنے ذاتی منافع کی شرح کو کچھ کم کیا ہے؟ صرف رمضان کے مہینے میں؟ شاید نہیں۔ اگر آپ سرکاری ہیں تو نوکری کے کرپشن، منافقت، خوشامد، لت کھینچ (Leg Pulling) جیسے سنہری اصولوں کو چھوڑ کر کیا میرٹ پر فیصلے کئے ہیں؟ صرف رمضان کے مہینے میں؟ شاید نہیں۔ اگر ہم عدالتی معاملات سے دوچار ہیں تو اگلی تاریخ دینے، پیشی بھگتانے یا عدالتی نقل فراہم کرنے کے لیے مانگے جانے والے چندسو روپے نہ مانگ کر کیا یہ سب کام کئے ہیں؟ صرف رمضان کے مہینے میں؟ شاید نہیں۔

اگر کوئی پولیس میں ہے تو وہ کرارے نوٹوں اور تعلقات بڑھاتی سفارشوں کو چھوڑ کر کیا اصل مجرموں کو سامنے لایا ہے؟ صرف رمضان کے مہینے میں؟ شاید نہیں۔ اگرکوئی موبائل فون کمپنی کا بااختیار ہے تو اُس نے ینگ لڑکے لڑکیوں میں وائرس کی طرح بہت زیادہ پھیلی ہوئی ڈیٹنگ کو روکنے کے لیے کیا رات کے سستے فون پیکج بند کئے ہیں؟ صرف رمضان کے مہینے میں؟ شاید نہیں۔ میڈیا اور اشتہارات میں نظر آنے والی عورتیں اور مرد اپنے جسموں کو نت نئے کپڑوں سے سجاکر اور اپنے چہروں کو میک اپ سے تابناک بناکر اپنے اندر اکثر جنسی اٹریکشن پیدا کرتے ہیں۔ کیا یہ لوگ تھوڑے بہت سادہ سادہ اور حقیقی چہروں میں نظر آئے ہیں؟ صرف رمضان کے مہینے میں؟ شاید نہیں۔ رمضان کا مہینہ صبر اور انکساری کا مہینہ ہوتا ہے لیکن دیکھا گیا ہے کہ اکثر لوگ اس مہینے میں پہلے سے زیادہ ’’آوازار‘‘ پھرتے ہیں اور زیادہ غصیل نظر آتے ہیں۔ کس لیے؟ شاید وہ اس لیے کہ یہ مہینہ بعض مسلمان مذہبی خلوص کی بجائے اپنی ایک عادت کے طور پر گزارتے ہیں۔ تو پھر بھوک، پیاس اور تھکن میں آوازاری اور غصہ تو آتا ہی ہے۔

گھروں میں اکثر چھوٹے موٹے جھگڑے چلتے ہیں۔ میاں بیوی، اولاد والدین، ساس بہو، داماد سسر اور ہمسائے ہمسائے آپس میں الجھتے رہتے ہیں۔ کیا جَھک مارنے کے یہ سلسلے چھوڑے نہیں جاسکتے؟ صرف رمضان کے مہینے میں؟ رمضان کے مہینے میں ہمارے ملک میں سرکاری دفاتر میں کام کرنے کا وقت کم کردیا جاتا ہے۔ اس لیے کہ بھوک اور پیاس کے باعث ملازم اپنی پوری توجہ کام پر نہیں دے سکتے مگر ہمارے اِردگرد کچھ ایسے بھی ہیں جو 12مہینے بھوک اور پیاس کے ساتھ گزارتے ہیں، کام کرتے ہیں اور زندہ انسان کہلاتے ہیں۔ یعنی وہ لوگ جو غریب ہیں یا غربت کی لکیر سے نیچے ہیں۔ کیا ہم نے کبھی ان کے بارے میں سوچا ہے؟ صرف رمضان کے مہینے میں؟ شاید نہیں۔ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ اوپر بتائی گئی وہ چھوٹی چھوٹی برائیاں اور اِن جیسی دوسری چھوٹی چھوٹی خودغرضیوں کو چھوڑے بغیر ہم رمضان گزارتے ہیں؟ شاید نہیں۔ اِن سوشل باتوں سے ہٹ کر دیکھیں تو پاکستانی سیاست پر بھی رمضان کے مہینے میں کیا کوئی اثر ہوتا ہے؟ اپوزیشن کی خونخوار آنکھیں اور آگ بگولہ بیانات ختم نہیں ہوتے۔ حکومت کے چھری کانٹوں والے جوابات اور خودپرستی والے بیانات بھی ختم نہیں ہوتے۔ کیا ہم کم از کم رمضان کے مہینے میںاپنی اُن چھوٹی چھوٹی عادتوں کو چھوڑ سکتے ہیں جن سے دوسروں کو ذہنی، جسمانی، سماجی یا مالی نقصان پہنچتا ہے؟ کیا ہم مل کر یہ دعا کرسکتے ہیں؟ صرف رمضان کے مہینے میں۔ کیا ہم رمضان کے آخری عشرے میں اپنی مفاداتی خواہشات کی کچھ عادتوں سے لاتعلق ہوکر نیکیوں کے بہار کے موسم کی خوشبو سے زیادہ سے زیادہ روحانی تازگی حاصل کرسکتے ہیں؟