ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز لیفٹیننٹ جنرل شریف چودھری نے آج اس امر کی تصدیق کی کہ بھارت کی طرف سے پاکستانی فضائی حدود کی کھلم کھلا خلاف ورزی اور اس بار طیاروں کی بجائے ڈرونز استعمال کئے گئے۔ پاکستانی سکیورٹی عملے نے بارہ ڈرون مار گرائے ہیں، یہ اطلاعات صبح ہی سے گردش کررہی تھیں اور لاہور کے علاوہ گوجرانوالہ اور کئی دیگر شہروں سے دھماکوں کی اطلاعات کے علاوہ گرے ہوئے ڈرونز کے ملبے کی نشاندہی کی گئی تھی۔ ڈی جی محترم نے اپنی روائت کے مطابق ان حملوں کی اطلاع اور نتائج بتانا فرض جانا اوربتایا کہ سندھ کے شہروں، لاہور، گوجرانوالہ، چکوال اور بعض دوسرے مقامات پر اس مرتبہ ڈرون استعمال کئے گئے جو گرالئے گئے، لاہور کی فضا میں درآنے والے چار ڈرون گرائے گئے جبکہ کل تعداد بارہ تک پہنچی اس کے بعد مزید خبر آنے پر بتا دیا جائے گا۔
پاک فوج اور حکومت کی طرف سے اس کی نہ صرف مذمت کی گئی بلکہ یہ قرار دیا گیا کہ یہ سب بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، بھارت نے ہر بار شہری آبادیوں اور شہریوں کو نشانہ بنایا ہے جس میں معصوم شہری اور بچے بھی شہید ہوئے، حکومت اور پاک فوج کے ترجمان کی طرف سے خبردار کیا گیا اور کہا گیا کہ یہ ناقابل برداشت ہے اور ہم جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔
بھارت کی ہندوتوا ذہنیت نے ایک سوچی سمجھی حکمت عملی اور سہ فریقی سازش اور گٹھ جوڑ کے بعد پاکستان کو حالت جنگ تک پہنچایا ہے اب تک کسی بڑے حملے سے گریز تو کیا گیا تاہم لائن آف کنٹرول پر شدید نقصان اٹھائے اور فضائی حملے کی ناکامی اور رافیل جیسے طیاروں سمیت پانچ جنگی طیاروں کے نقصان کے بعد اب بنیا ذہنیت بروئے کار آئی ہے اور طیاروں کی بجائے ڈرونز کا استعمال شروع کیا گیا ہے کہ طیارے بہت مہنگے اور ڈرون ان سے کہیں سستے ہیں اور پھر ان کے گرنے سے جانی نقصان نہیں ہوتا، کہ پائلٹ تو ہوتا نہیں، تاہم اس حوالے سے بھی بھارتی مہارت ناکام نظر آئی کہ حملے کے لئے ہدف کوئی سیکیورٹی یا فوجی والا نہیں بنا بلکہ سب ڈرونز شہری آبادیوں ہی میں مار گرائے گئے ہیں، اب حالات یہ ہیں کہ ان ڈرونز حملوں کے بعد عوامی جذبات میں شدت پیدا ہوئی ہے اور ان کی طرف سے پوچھا جا رہا ہے کہ پاکستان جواب کب دے گا؟
میں نے گزشتہ روز بھارت کے اس تازہ سلسلے کو جو سازش قرار دیا وہ یوں بھی ثابت ہو رہی ہے کہ بھارت کو جو ملک اور قوت اس ایڈونچر سے روک سکتی ہے اس کی طرف سے دونوں ممالک کو بس کرنے ہی کا کہا گیا ہے، ہمارے دفاعی اور سیاسی تجزیہ نگار حضرات تفصیل سے تقابل کرکے جنگ کے نقصانات کے بارے میں بتا رہے ہیں اور ان کے تجزیئے سے اندازہ ہوتا ہے اور ثابت بھی ہوگیاکہ دنیاوی اسباب (اسلحی) کے لحاظ سے بلاشبہ بھارت کے مقابلے میں پاکستان قدرے کم حیثیت کا حامل ہے لیکن ہمارا کئی بار امتحان ہو چکا کہ جذبہ شہادت ہمارے تمام حوالوں پر حاوی ہے اور اب پھر ثابت ہو گیا کہ پاکستان کے جانباز زیادہ جذبے والے ہی نہیں، زیادہ مہارت کے بھی حامل ہیں جو 2019ء فروری کے بعد اب پھر ثابت ہو چکا ہے۔ ہمارے وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک سے زیادہ بار کہا ہے کہ دونوں ایٹمی قوت کے حامل ملک ہیں اور جنگ ہوگی تو روائتی نہیں ایٹمی ہوگی۔ اس حوالے سے پاکستان کی برتری بھی مسلم ہے تاہم بھارت کی طرف سے جو چھیڑ چھاڑ کی گئی اور کی جا رہی ہے اس کی حکمت عملی اسے محدود رکھنے کی ہے، پہلے یہ بھارتی منصوبہ طشت از بام ہو چکا ہے کہ اس کی طرف سے کنٹرول لائن پر حملہ کرکے آزاد کشمیر کے کچھ بڑے حصے پر قبضہ کرنا مقصود ہے، اسی حوالے سے آبی جارحیت بھی شروع کی گئی، لیکن اللہ کے کرم اور جوانوں کے جذبے اور مہارت نے نہ صرف یہ کوشش ناکام بنا دی بلکہ بھارتی سورماؤں کو زبردست نقصان پہنچایا گیا، بریگیڈہیڈ کوارٹر کے علاوہ بٹالین ہیڈکوارٹر بھی تباہ کر دیا گیا۔ بھارتی قابض فوجوں اور دراندازوں کو سفید پرچم لہرانا پڑ گئے، تاہم یہ بھی ایک چال تھی کہ اس کے بعد دشمن کی طرف سے دوسری بار فضائی خلاف ورزی کی گئی اس کو یہاں بھی پورا پورا جواب ملا ہے، اب یقینا ٹھنڈ پڑی ہوگی اور سوچنا پڑے گا۔
قارئین! اب ذرا ان حالا ت سے ہٹ کر اس امر پر غور کریں کہ یہ ایک سہ فریقی سازش ہے، اس حوالے سے پھر پنجابی ضرب المثل یاد آ گئی یہ یوں ہے، ”رنڈی تے رنڈاپا کٹ دی اے، پرمشٹنڈے، نئیں کٹن دیندے“ مطلب یہ کہ کوئی خاتون بیوہ ہو جائے تو وہ اس بیوگی کو نبھانا پسند کرتی ہے لیکن اردگرد کے شرانگیز ایسا نہیں کرنے دیتے، بزرگوں کا قول ہے کہ ایسے شرپسندوں کو کچھ بااثر افراد کی آشیرباد بھی حاصل ہوتی ہے، ایسا کچھ سلسلہ بھارت کی طرف سے یہ حالات پیدا کرنے والا ہے کہ بھارتی عوام تو پاکستانیوں کی طرح امن سے رہنا چاہتے ہیں لیکن آر ایس ایس کے مشٹنڈے ایسا نہیں کرنے دیتے کہ ان کی حکومت بھی ہے، اب یہ خالی از علت نہیں کہ پس پردہ ایسا عنصر موجود ہے جو دنیا پر غالب آنے کی خواہش رکھتا ہے، اسلئےاس کی آشیرباد شامل ہے۔
ذرا غور کریں تو صاف نظر آئے گا کہ دو ایٹمی حیثیت کے مالک ممالک کے درمیان جنگی حالات پیدا کر دینے سے فائدہ کسے ہوا ہے اور یہ اسرائیل کو ہوا، امریکی صدر ٹرمپ نے غزہ خالی کرانے کا جو منصوبہ پیش کیا، اسے اسرائیل نے غنیمت جانا تھا، جب مسلم ممالک اور بعض یورپی ملکوں نے مخالفت کی تو ٹرمپ خاموش ہو گئے تاہم نیتن یاہو اس پر عمل پیرا ہو چکا اور اس نے اپنی نام نہاد کابینہ سے اجازت لے کر غزہ والوں کو چلے جانے اور غزہ پر مکمل قبضہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ بہت بڑا غاصبانہ اور ظالمانہ اقدام اور اعلان ہے جس پر دنیا بھر کو بھڑک اٹھنا تھا لیکن چانکیہ کے مقلد بھارتی وزیراعظم نے پاکستان کے خلاف جارحیت شروع کرکے دنیابھر کی توجہ غزہ سے ہٹا کر برصغیر پر مبذول کرا دی اور ہمارے ٹرمپ بیٹھے بیٹھے کہہ رہے ہیں، اب نہیں کرو، ایک دوسرے نے اپنا اپنا جواب دے دیا ہے، حالانکہ اسے تو پاکستان کی سفارتی کوششوں کا ساتھ دینا چاہیے کہ ہم حق پر ہیں، لیکن کون سنتا ہے کسی نے فلسطینیوں کی سنی ہے اور پھر کیا یہ غلط ہے کہ بھارت کی درخواست پر اسرائیلی ماہرین مقبوضہ کشمیر آ چکے کہ وہاں تل ابیب کی طرح دفاعی حصار ”ڈوم“ نصب کیا جائے، تاکہ میزائل اور راکٹ فضا میں تباہ کئے جا سکیں، اسی لئے توجہ طیارے رافیل گروا کر واپس بھاگے انہوں نے سری نگر کے ہوائی اڈے پر لینڈ کیا تھا،اور اب تو یہ بھی ثابت ہو چکا کہ گرائے جانے والے ڈرونز اسرائیل ساختہ ہیں۔اس سلسلے کی ابتداء کھچی سے کی گئی جب دہشت گردوں نے بھارتی رعائت سے ایل ای ڈی دھماکے سے سات جوان شہید کئے تھے۔ قارئین! کیا ہم سب مسلمان ممالک کو اب بھی ہوش نہیں آئے گا؟

