ٹورنٹو (اشرف لودھی سے)سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے روحانی پیشوا اور تنظیم الاخوان پاکستان کے سربراہ حضرت امیر عبدالقدیر اعوان نےٹورنٹو میں اپنے سالانہ روحانی دورۂ شمالی امریکہ کے دوران ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا، جس میں انہوں نے صحافت کے معاشرتی و اخلاقی کردار پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
پریس کانفرنس کا اہتمام لاہورفلیم کے افتخارخان نے کیا تھا، جس میں مقامی میڈیا نمائندگان اور روحانی عقیدت مندوں نے شرکت کی۔ابتدائی کلمات میں حضرت امیر عبدالقدیر اعوان نے فرمایا کہ “صحافت ایک نہایت خوبصورت پیشہ ہے جو زندگی میں خوشی اور روشنی کا باعث بنتا ہے۔ یہ صرف خبر رسانی نہیں بلکہ معاشرے کے دکھ درد کو نمایاں کر کے ان کے حل کی راہیں کھولتا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ “ایک صحافی کا قلم سماج کا ضمیر ہوتا ہے، جو حقائق کو سامنے لا کر قوموں کی اصلاح اور ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔”حضرت امیر عبدالقدیر اعوان نے بتایا کہ وہ خود بھی شعبۂ صحافت سے وابستہ رہے ہیں اور اس شعبے سے منسلک تمام افراد کا احترام لازم سمجھتے ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران میزبان راحت عباس مرزا نے کہا کہ حضرت امیر صاحب ہر سال روحانی تربیت کے سلسلے میں امریکہ اور کینیڈا کا دورہ فرماتے ہیں، اور اس موقع پر میڈیا سے براہِ راست مکالمہ ایک مثبت روایت کی حیثیت رکھتا ہے۔پریس کانفرنس کے اختتام پر حضرت امیر عبدالقدیر اعوان نے صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیے اور میڈیا کے نمائندوں کو روحانی تربیت اور باطن کی اصلاح کے پیغام سے آگاہ کیا۔
سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے پیشوا اور تنظیم الاخوان پاکستان کے سربراہ حضرت امیر عبدالقدیر اعوان نے اپنے شمالی امریکا کے سالانہ روحانی دورے کے دوران ٹورنٹو میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحافت ایک خوبصورت اور معاشرتی اعتبار سے نہایت اہم پیشہ ہے، جو محض خبریں دینے کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشرے کے ان پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے جنہیں عام طور پر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔
حضرت امیر عبدالقدیر اعوان نے اپنے خطاب میں کہا کہ “صحافت محض واقعات بیان کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ معاشرے کے پوشیدہ اور بعض اوقات تکلیف دہ مسائل کو سامنے لاتی ہے، تاکہ قوم ان کا حل تلاش کر سکے۔”انہوں نے بتایا کہ ان کا سالانہ دورۂ امریکا و کینیڈا دراصل روحانی تربیت (روحانی تربیت) کا تسلسل ہے، جس کا مقصد بیرونِ ملک مقیم کمیونٹیز کو تصوف کی حقیقی تعلیمات سے روشناس کرانا ہے۔
حضرت امیر عبدالقدیر اعوان، عالم دین حضرت مولانا محمد اکرم اعوانؒ کے جانشین ہیں، جن کا انتقال 2017 میں ہوا۔ وہ اپنے والد کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے قرآن و سنت کی تعلیمات پر مبنی تصوف (Tasawwuf) کے پیغام کو عام کر رہے ہیں، جو دل کی تطہیر اور خالق سے قرب حاصل کرنے کی تربیت دیتا ہے۔
کانفرنس کے بعد سوال و جواب کا سیشن ہوا جس میں صحافیوں نے مذہبی رہنماؤں کے معاشرتی کردار اور پاکستان میں ان کے اثرات کے حوالے سے سوالات کیے۔ یہ تقریب سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کی اس جدوجہد کی عکاس تھی جس کا مقصد دنیا بھر میں مسلمان برادریوں کے درمیان روحانی رہنمائی اور مثبت مکالمے کو فروغ دینا ہے۔
سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے روحانی پیشوا اور تنظیم الاخوان پاکستان کے امیر حضرت امیر عبدالقادر اعوان کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال و جواب کا سیشن منعقد ہوا جس میں شرکاء نے مختلف علمی و سماجی موضوعات پر سوالات کیے۔
ایک سوال کرنے والے صحافی نے کہا کہ “گزشتہ سال میری آپ سے ایک نشست میں ملاقات ہوئی تھی اور ہم نے سوال و جواب کا سلسلہ کیا تھا۔ میں نے وعدہ کیا تھا کہ جب پاکستان آؤں گا تو آپ کے مرکز ضرور حاضر ہوں گا، مگر ایسا ممکن نہ ہو سکا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “میرا سوال یہ ہے کہ، ماشاءاللہ، آپ جیسے علماء اور بزرگان پاکستان میں موجود ہیں اور دنیا بھر میں دینِ اسلام کی خدمت کر رہے ہیں، لیکن ہم اس کے اثرات پاکستان کے معاشرے میں زیادہ نمایاں کیوں نہیں دیکھتے؟”
سوال کرنے والے نے اس بات پر بھی زور دیا کہ “ہمارے ملک میں بے شمار نیک اور باعلم علماء ہیں، لوگ مساجد سے وابستہ ہیں، مگر معاشرتی سطح پر تبدیلی کے اثرات کم نظر آتے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے؟”حضرت امیر عبدالقادر اعوان نے سوال کو تحمل سے سنا اور کہا کہ یہ ایک نہایت اہم اور غور طلب نکتہ ہے، جس پر تفصیلی جواب دیا جائے گا تاکہ دینی تعلیمات کو معاشرتی سطح پر مؤثر بنانے کے اقدامات واضح ہو سکیں۔
اختتام پر دعاکی کہ اے اللہ تعالی ہمیںاپنی محبت عطافرما،ہمیں نبی کریم ﷺکی محبت عطافرما،دین اسلام کی سمجھ اور عمل کی توفیق مخلوق تک پہنچانے کی استطاعت عطافرما،یااللہ ہمارے بڑے جواس دنیاسے گزرچکے ہیں ان کومعاف فرماناہمیں بخش دے انہیں جنت عطافرمانا،ہمیں ہماری اولادکے فرض سے بری فرما.
یااللہ ہم جوبیمارہیں ہمیںشفاعطافرما،یااللہ ہمارے جن گھروں میں تنگیاں ہیں وہاں آسانیاں فرما،جھگڑوں اورفساد ہے وہاں محبت عطافرما،یااللہ ہماری امت پررحم فرما،اس قوم پررحم فرما،یارب العالمین ہمیںاچھے کی تافیق عطافرما،یااللہ دنیامشتعل ہے جب اس دنیاسے جانابحالت ایمان نصیب فرمااور فساعت محمدی ﷺعطافرماامین ثمہ امین.

