کیف/ماسکو(سی این این/نمائندہ خصوصی) یوکرین کے دارالحکومت کیف اور دیگر شہروں پر روس نے جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب بڑا فضائی حملہ کیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ مرنے والوں میں چار بچے بھی شامل ہیں۔
“سب سے بڑا فضائی حملہ”
یوکرینی فضائیہ کے ترجمان یوری اِہنات کے مطابق روس نے صرف ایک ہی رات میں 598 ڈرونز اور 31 میزائل داغے، جو جنگ کے دوران ہونے والے سب سے بڑے حملوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
کیف سٹی ملٹری ایڈمنسٹریشن کے سربراہ تیمور تکاچینکو نے بتایا کہ مرنے والوں میں 2، 14 اور 17 سال کے تین بچے بھی شامل ہیں۔
روس کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں یوکرین کے ’’فوجی صنعتی ادارے اور فضائی اڈے‘‘ نشانہ بنائے گئے، تاہم مقامی حکام کے مطابق عام شہریوں کی بڑی تعداد متاثر ہوئی ہے۔
“یورپی یونین اور برطانیہ کی عمارتیں متاثر”
حملوں میں کیف میں موجود یورپی یونین مشن اور برٹش کونسل کی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔ یورپی یونین مشن کی عمارت 1993 سے قائم ہے اور یوکرین کے ساتھ سیاسی و معاشی تعلقات کے فروغ میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔اس واقعے کے بعد یورپی یونین اور برطانیہ دونوں نے ماسکو میں روسی سفیروں کو طلب کر لیا ہے۔
“عالمی ردِعمل”
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے ان حملوں کو ’’شہریوں کا دانستہ قتلِ عام‘‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ اُن سب کیلئے جواب ہے جو جنگ بندی اور مذاکرات کی اپیل کر رہے تھے۔
یورپی کمیشن کی صدر اُرسولا وان ڈیر لائن نے کہا کہ ’’کریملن یوکرین کو دہشت زدہ کرنے کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ یہ حملے بچوں، خواتین اور شہریوں کے خلاف اندھا دھند قتلِ عام ہیں اور حتیٰ کہ یورپی یونین کو بھی نشانہ بنایا گیا۔‘‘ انہوں نے صدر زیلنسکی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کرنے کے بعد روسی صدر ولادیمیر پیوٹن پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کی میز پر آئیں۔
برطانوی وزیراعظم کیر اسٹارمر نے کہا کہ روسی صدر ’’امن کی امیدوں کو تباہ کر رہے ہیں‘‘۔ وزیرِ خارجہ ڈیوڈ لیمی نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ لندن نے روسی سفیر کو طلب کیا ہے اور واضح کیا کہ ’’یہ قتل و غارت اور تباہی اب رکنی چاہیے‘‘۔
“ماسکو کا مؤقف”
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ ماسکو اب بھی امن مذاکرات میں دلچسپی رکھتا ہے لیکن اس کے ساتھ زور دیا کہ ’’خصوصی فوجی آپریشن‘‘ جاری رہے گا۔

