ریاض( سعودی وزارتِ خارجہ، عرب میڈیا)سعودی عرب نے مطالبہ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات یمن کی درخواست پر عمل کرتے ہوئے 24 گھنٹے کے اندر اپنی فوج یمن سے واپس بلائے اور کسی بھی فریق کی فوجی امداد بند کرے۔ یہ مطالبہ سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد کی جانب سے یمن میں کیے گئے فضائی حملوں میں یو اے ای سے آنے والے ہتھیاروں اور فوجی گاڑیوں کو نشانہ بنانے کے بعد سامنے آیا ہے۔
سعودی وزارتِ خارجہ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے اقدامات انتہائی خطرناک ہیں، کسی بھی خطرے کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ بیان میں کہا گیا کہ یو اے ای کی جانب سے سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) کو فوجی مدد فراہم کرنا یمن اور سعودی عرب کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور یہ اتحاد کے اصولوں کے خلاف ہے، جس سے یمن میں قیامِ امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا ہے۔
سعودی بیان میں مزید کہا گیا کہ یو اے ای کے اقدامات کے باعث حضرموت اور المہرا کے صوبوں میں فوجی کارروائیاں ہوئیں جو سعودی عرب کی قومی سلامتی اور یمن و خطے کے امن و استحکام کیلئے خطرہ تصور کی جاتی ہیں۔ وزارتِ خارجہ نے یمن کی خودمختاری، سلامتی اور اتحاد کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے زور دیا کہ بحران کا واحد حل یمنی قیادت کے درمیان جامع مکالمہ ہے جس میں تمام فریق، بشمول ایس ٹی سی، شامل ہوں۔

