اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)وفاقی حکومت نے ریکوڈک سونے اور تانبے کے منصوبے کے پہلے مرحلے کی ترمیم شدہ لاگت 7 ارب 72 کروڑ ڈالر منظور کر لی، جس کے بعد اگلے دو ہفتوں میں حتمی معاہدے پر دستخط متوقع ہیں۔ منصوبہ 2028 کے آخر تک پیداوار شروع کریگااور اس سے 90 ارب ڈالر کا متوقع آپریٹنگ کیش فلو حاصل ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے ریکو ڈک منصوبے کے پہلے مرحلے کیلئےترمیم شدہ مالیاتی پیکج اور ریاستی ملکیتی اداروں، بلوچستان حکومت اور قرض دہندگان کے درمیان معاہدوں کی توثیق کر دی۔
پہلے مرحلے کی لاگت مارچ میں 6 ارب 76 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 7 ارب 72 کروڑ ڈالر ہو گئی، جس کی بنیادی وجوہات میں قرضوں کی لاگت میں اضافہ اور منصوبے کے تخمینی اخراجات شامل ہیں۔ منصوبے کا مالی ڈھانچہ 3 ارب 50 کروڑ ڈالر قرض اور باقی سرمایہ کاری کی صورت میں ہوگا، جس میں تقریباً 35 فیصد لاگت روپے میں برداشت کی جائے گی تاکہ غیر ملکی زرِمبادلہ کے خطرات کم ہوں۔
پاکستان مائنرلز پرائیویٹ لمیٹڈ اور بلوچستان مائنرل ریسورس لمیٹڈ کی متناسب مالی ذمہ داریاں 2 ارب 14 کروڑ ڈالر اور 1 ارب 28 کروڑ ڈالر سے کم ہو کر بالترتیب 1 ارب 17 کروڑ اور 70 کروڑ ڈالر رہ جائیں گی۔ او جی ڈی سی ایل اور پی پی ایل اپنی ابتدائی غیر ملکی زرِمبادلہ کی ضرورت اپنے ذخائر سے پوری کریں گے، جبکہ کسی کمی کو اسٹیٹ بینک پورا کرے گا۔
“شیڈول اور منافع”
پہلے مرحلے سے 2028 کے آخر تک پہلی کانسنٹریٹ حاصل ہونے کی توقع ہے۔ منصوبے کی تخمینی عمر 37 سال ہے اور اس سے 90 ارب ڈالر کا آپریٹنگ کیش فلو اور 70 ارب ڈالر فری کیش فلو متوقع ہے، جن میں سے 53 ارب ڈالر پاکستان میں رہیں گے۔ اس آمدن میں وفاقی حکومت کا حصہ 11 ارب ڈالر، بلوچستان حکومت کا 11 ارب ڈالر اور بی ایم آر ایل کا 9 ارب ڈالر شامل ہیں۔
منصوبے کے دوران چاغی کے دیہاتوں میں صاف پانی کی فراہمی، سات پرائمری اسکولز اور مقامی نوجوانوں کیلئےتربیتی پروگرام بھی شامل ہیں۔ تعمیر کے دوران 7,500 جبکہ آپریشن کے دوران 3,500 افراد کو روزگار ملے گا۔
“ریلوے لنک”
ای سی سی نے 39 کروڑ ڈالر کے برج فنانسنگ پلان کی منظوری بھی دی، جس کے تحت 1,350 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک تعمیر ہوگا تاکہ کان کی کانسنٹریٹ بلوچستان سے پورٹ قاسم پہنچائی جا سکے۔ یہ ریلوے لنک منصوبے کی تجارتی صلاحیت کے لیے اہم قرار دیا گیا ہے اور اسے فارن انویسٹمنٹ پروموشن اینڈ پروٹیکشن ایکٹ 2022 کے تحت اہلیت یافتہ سرمایہ کاری قرار دیا گیا ہے۔
وزارت ریلوے کو ایم ایل-III کے نوکندی تا روہڑی حصے کو فوری بہتر بنانے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ زیادہ مال برداری کو سنبھالا جا سکے اور مارچ 2026 تک ای سی سی کو پیش رفت رپورٹ فراہم کی جائے۔
ریاستی اداروں اور وفاقی حکومت کی حمایت کے بعد ریکوڈک منصوبے کا پہلا مرحلہ عملی شکل اختیار کرنے کے قریب ہے، جو ملکی معیشت، روزگار اور برآمدات کے لیے ایک بڑا پیش رفتی سنگِ میل سمجھا جا رہا ہے۔

