زاہدان: عدالتی کمپاؤنڈ پر حملہ، 5 افراد جاں بحق، پاسدارانِ انقلاب کے اڈے پر بھی فائرنگ

تہران/زاہدان/سردشت(نمائندہ خصوصی)ایران کے جنوب مشرقی شہر زاہدان میں مسلح دہشتگردوں نے عدالتی کمپاؤنڈ پر حملہ کر کے ججوں کے کمروں میں اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں پانچ افراد جاں بحق اور تیرہ زخمی ہو گئے۔ واقعے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم جیش العدل نے قبول کی ہے۔ ادھر مغربی شہر سردشت میں پاسدارانِ انقلاب کے فوجی اڈے پر بھی حملہ کیا گیا، جس میں ایک اہلکار شہید اور دوسرا زخمی ہو گیا۔

ڈان نیوز اور مہر نیوز سمیت ایرانی و غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق دہشتگردوں نے سیستان بلوچستان کے شہر زاہدان میں واقع عدالتی کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا۔ مسلح افراد نے احاطہ عدالت میں داخل ہو کر ججوں کے دفاتر تک پہنچنے کے بعد اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں پانچ افراد جان کی بازی ہار گئے، جب کہ کم از کم تیرہ افراد زخمی ہو گئے۔

ایرانی سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر جوابی کارروائی کی، جس میں تین دہشتگرد مارے گئے۔ حملے کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی اور عدالت کے اطراف میں سیکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔

دہشتگرد تنظیم جیش العدل نے مبینہ طور پر اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ یہ تنظیم ماضی میں بھی ایران کے جنوب مشرقی علاقوں میں متعدد حملوں میں ملوث رہی ہے۔ادھر ایران کے مغربی آذربائیجان صوبے کے شہر سردشت کے قریب واقع گاؤں “اغلان” میں پاسدارانِ انقلاب اسلامی (IRGC) کے فوجی اڈے پر نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے فائرنگ کی گئی۔

مقامی ذرائع کے مطابق اس حملے میں ایک سیکیورٹی اہلکار شہید اور دوسرا زخمی ہو گیا۔ پاسدارانِ انقلاب کے مغربی آذربائیجان شہداء بیس کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ کرنل شاکر نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگرد گروہ نے فوجی اڈے کو نشانہ بنایا، تاہم مزید تفصیلات تاحال جاری نہیں کی گئیں۔دونوں واقعات کے بعد ایرانی سیکیورٹی ادارے مکمل الرٹ ہیں اور تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ سرکاری سطح پر حملہ آوروں کی شناخت اور دیگر تفصیلات سے متعلق مزید بیانات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں