(یہ قصہ ہے ایک ماڈل، ایک بیگ، اور ایک بیان کا — جو “تین سال” کے ٹنیور سے شروع ہو کر فیلڈ مارشل پر ختم ہوا)
کبھی ایان علی پکڑی گئی۔
ہاتھ میں ڈالر، سر پر چشمہ، اور دل میں ماڈلنگ کے سنہرے خواب۔
کسٹمز والوں نے بیگ کھولا — ڈالر نکلے، جیل ہو گئی اور
زرداری صاحب نے منہ کھولا — جمہوریت نکل آئی!
فرمایا:
“جس کی نوکری کا ٹینور تین سال ہو، اسے قوم کے فیصلے کرنے کا کیا حق ہے؟”
اور ساتھ ہی للکارا مارا: “اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے!”
قوم نے تالیاں نہیں، ماتھوں پر ہاتھ مارے:
ماڈل پکڑی گئی، تو جمہوریت خطرے میں پڑ گئی؟
لیکن اب، تصویر کا دوسرا رُخ:
زرداری صاحب آج کل اقتدار میں ہیں —
مگر نہ وہ اینٹ رہی، نہ آواز میں وہ گرج۔
اب وہی زرداری صاحب جنہیں “تین سالہ نوکری” کرنے والے پر اتنا اعتراض تھا،
خود ایک ایسے فیلڈ مارشل کی تابعداری میں بیٹھے ہیں
جس کا ٹینور کسی کیلنڈر سے نہیں، موسم سے چلے گا۔
اب نہ اینٹ بجتی ہے، نہ بیان گونجتا ہے —
بس خاموش امید ہے کہ شاید صدارت کا ایک اور “ٹینور” مل جائے!
یعنی:
* ایان علی پکڑی جائے تو انقلاب تیار۔
* فیلڈ مارشل آئے تو زرداری صاحب تیار۔
* پہلے کہا: “فیصلے صرف عوامی نمائندے کریں گے!”
اب کہتے ہیں: “فیصلے ہو چکے ہیں، ہم ساتھ ہیں!”
* پہلے اینٹ سے اینٹ،
اب “ہال آف فیم” میں فریم!

