حیدرآباد(نمائندہ خصوصی)وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے سندھ کے دورے کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی قیادت پر شدید تنقید کی اور کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کی سیاست کا خاتمہ کر دیا۔سہیل آفریدی نے کہا کہ ’’زرداری نے بھٹو خاندان کی سیاسی میراث کو نقصان پہنچایا اور عوام کی سیاست کو اپنے ذاتی مفادات کے تابع کر دیا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کی اصل سیاست عوام کی خدمت اور بھٹو کے نظریات پر مبنی تھی، لیکن موجودہ قیادت نے اسے اپنی ذاتی اور سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا۔وزیراعلیٰ نے سندھ کے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ سیاست کو خالص عوامی مفاد کیلئے دیکھیں اور صحیح قیادت کا انتخاب کریں۔
سہیل آفریدی نے جامعہ جمشورو میں سندھ یونائیٹڈ پارٹی کی جانب سے منعقدہ خیرمقدمی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے ذریعے آئین کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی کی، اور اب سندھ کے عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور وہ پرانی قیادت کو دوبارہ اقتدار میں نہیں دیکھنا چاہتے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ مرکز میں جو افراد ’’لائے گئے‘‘ ہیں وہ جعلی مینڈیٹ کے ساتھ اقتدار میں ہیں۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ کسی اور کے خیالات کے مطابق ڈھلنے والے نہیں ہیں، ’’میری زبان کاٹ دو، لیکن میری آواز نہیں بدلے گی۔‘‘
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کی جدوجہد سندھ کے عوام کے حقوق، حقیقی جمہوریت، آزادی، آئین اور قانون کی بالادستی، آزاد عدلیہ، آزاد میڈیا اور قانون کی حکمرانی کیلئےہے۔ انہوں نے عوام کو سڑکوں پر نکلنے کی تیاری کرنے کی ہدایت بھی کی۔انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان تحریک انصاف آج باغ جناح کراچی میں ایک عوامی اجتماع کریگی چاہے وہاں داخلے کیلئےتالہ لگایا گیا ہو۔
سہیل آفریدی نے حیدرآباد میں میڈیا سے گفتگو میں وفاقی حکومت پر امتیازی سلوک کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کو آئینی اور مالی حقوق نہیں دیے جا رہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت قبائلی اضلاع کو صرف انتظامی حصہ ملا ہے، مالی حصہ نہیں دیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ دیگر صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کیلئے جہاز اور تعریفی تقریبات فراہم کی جاتی ہیں، جبکہ ان کے صوبے کیساتھ یہ سلوک نہیں کیا جا رہا، ’’یہ اختلاف میری ذات کے ساتھ نہیں بلکہ صوبے کے ساتھ ہے۔‘‘
سہیل آفریدی نے کراچی پریس کلب میں کہا کہ انہوں نے پنجاب بھی دورہ کیا لیکن وہاں مناسب استقبال نہیں ہوا۔ انہوں نے سندھ حکومت کی طرف سے خوش آمدید کہا اور سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کو خیبر پختونخوا کے دورے کی دعوت بھی دی۔

