زمانہ جنگ کی طرف

صدر ٹرمپ کی سب سے بڑی تمنا نوبل پرائز کا حصول ہے، انہیں پرائز مل بھی سکتا ہے کیونکہ ماضی میں بھی بعض متنازع شخصیات کو نوازا جا چکا ہے، لیکن امریکہ کو واحد سپر پاور بنانے کیلئےان کا اپنا ایجنڈا ہی ان کی راہ میں رکاوٹ بن چکا ہے، وہ چاہتے ہیں کہ اپنی فوجی اور معاشی طاقت دکھا کر دنیا کے تمام ممالک کو یس سر کہنے پر لگایا جائے، ان کے ایک اشارے پر جنگ شروع ہو اور پھر دوسرے اشارے پر سیز فائر ہو جائے، امریکہ کی بے پناہ طاقت کے سامنے کھڑے ہونا آسان نہیں، لیکن یہ بھی ممکن نہیں کہ پوری دنیا سر جھکا دے، امن کا نوبل پرائز لینے کیلئے ٹرمپ پاک بھارت جنگ بندی سمیت کچھ اور لڑائیاں بھی رکوانے کا دعویٰ کرتے ہیں، اور اسی ماحول میں غزہ کے اندر مسلمانوں کی نسل کشی جاری ہے، ایران اسرائیل جنگ میں امریکہ خود بھی کود گیا اور ایک بڑی کارروائی کے بعد جنگ بندی کا نہ صرف اعلان کیا بلکہ کریڈٹ بھی لیا۔

ٹرمپ نے روس یو کرائن جنگ رکوانے کی بھی کوشش کی، ان کا خیال تھا کہ اس طویل جنگ کے باعث روس پھنس چکا ہے، یوکرائن کو امریکہ اور یورپ کی جانب سے مسلسل حمایت اور اسلحے کی فراہمی سے روس کو سخت نقصانات اٹھانا پڑ رہے ہیں، ایسے میں امریکہ کی جانب سے ثالثی کی کوشش کو دونوں ممالک غنیمت جان کر کوئی سمجھوتہ کر لیں گے، ٹرمپ کا خیال تھا کہ روس کو کچھ سبقت دلا کر معاملہ نمٹا دیا جائے گا، لیکن خوش فہمی اس وقت ہوا ہو گئی جب صدر پوتن نے کسی بھی طرح کے ثالثی مذاکرات میں خود شرکت کرنے سے انکار کر دیا اور جنگ جاری رکھنے پر ڈٹے رہے، ٹرمپ حکومت نے ٹیرف اور دفاعی اخراجات پر اپنی ہی حلیف یورپی یونین کے ساتھ پہلے ہی سینگ پھنسا رکھے ہیں، اس کے باوجود روس کو نیچا دکھانے کیلئے سب نے مل کر یوکرائن کی مدد کی، یوکرائن روس کے اندر بڑی کارروائیاں کرنے میں کامیاب ہو گیا، صدر پوتن مگر ٹس سے مس نہ ہوئے، ٹرمپ کو تنگ آ کر کہنا پڑا وہ روسی صدر سے خوش نہیں، اپنی اس ناکامی کو دیکھتے ہوئے ٹرمپ نے پھر سے یوکرائن کی پوری مدد کرنے کا کھلم کھلا اعلان کر دیا ہے یعنی امریکہ باقاعدہ فریق بن گیا۔

یوکرائن کو فضائی دفاع کیلئے پیٹریاٹ سسٹم سمیت بھاری مقدار میں جدید ہتھیار اور میزائل فراہم کیے جائیں گے جن کیلئے ادائیگی یورپی ممالک کریں گے۔ یورپی ممالک پہلے ہی خوفزدہ ہیں کہ اگر یہ جنگ روس جیت گیا تو وہ خطرے میں آ جائیں گے، روس کو شمالی کوریا کی براہ راست فوجی حمایت پہلے ہی حاصل ہے، صدر کم جونگ نے مزید فوجی اور اسلحہ روس بھجوانے کا اعلان کر دیا ہے، ایٹمی ہتھیاروں سے لیس شمالی کوریا روئے زمین پر اب تک واحد ملک ہے جس سے امریکہ بھی خائف ہے، درجنوں جوہری ہتھیاروں کے ساتھ اس کے پاس طویل فاصلے تک مار کرنے والے ایسے میزائل موجود ہیں جو امریکہ تک مار کر سکتے ہیں، اس سے بھی بڑا خطرہ صدر کم جونگ خود ہیں، کوئی پیش گوئی نہیں کر سکتا کہ لڑائی چھڑ جانے کی صورت میں وہ کس انتہا تک جا سکتے ہیں۔

ایک اور پیش رفت نے امریکہ کو پریشان کر رکھا ہے وہ تائیوان کے حوالے سے ہے، حالیہ دنوں میں چین نے جہاں ٹیرف کی جنگ میں امریکہ کو دندان شکن جواب دیا، وہیں پاک بھارت جنگ میں چینی طیاروں اور اسلحے کی تباہ کاریوں نے سب کے کان کھڑے کر دئیے، چین نے اب یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ وہ یوکرائن سے جنگ میں روس کی شکست کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ یوں تو مختلف معاملات پر امریکہ کے متعلق چین کا رویہ کافی عرصے سے سخت رہا ہے لیکن پہلی بار فوجی حوالے سے بھی جارحانہ انداز سامنے آ رہا ہے۔ چین نے حالیہ مہینوں میں تین طیارہ بردار بحری بیڑے، متعدد جاسوس اور جنگی طیارے، چاک و چوبند بحری دستے بحیرہ جنوبی چین میں تعینات کیے ہیں۔ جو واضح طور پر چین کی بحری توسیع پسندی اور خطے میں اپنی طاقت بڑھانے کے عزم کا اظہار ہیں۔ یہ جہاز فلپائن، جاپان، جنوبی کوریا، بحرالکاہل اور آبنائے تائیوان میں متحرک ہیں۔

جدید ترین ایٹمی و روائتی ہتھیاروں سے لیس ان جہازوں نے بڑے پیمانے پر مشقیں کیں جسے امریکہ اور اسکے اتحادی ممالک بروقت بھانپ کر جارحانہ قراردے رہے ہیں، سب کو خوف ہے کہ انہیں چین کی جدید ترین ٹیکنالوجی پر مبنی جنگی مشینری کی صورت میں ایک ان دیکھے دشمن کا سامنا ہے، اس امر کا کوئی امکان نہیں کہ چین افواج اپنی موجودگی کے مقامات سے پیچھے ہٹیں، روس، یوکرائن، تائیوان کے معاملات کسی بھی وقت خطرناک رخ اختیار کر سکتے ہیں، اسی دوران بھارت نے میانمار کی سرحدی خود مختاری کو پامال کرتے ہوئے اسکے علاقے میں 150 اسرائیلی ڈرونز سے آسام کے باغی گروپ پر حملہ کیا، تین کمانڈر اور بیس ارکان مارے گئے، میانمار نے عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

بھارت کی اس کارروائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسکے توسیع پسندانہ عزائم خطے کو نئی جنگ میں جھونک سکتے ہیں، تیسرا بڑا خطرہ ایران کے بارے میں امریکہ اور اسرائیل کے ارادے ہیں، ٹرمپ، نتین یاہو ملاقاتوں کے بعد کوئی اعلامیہ جان بوجھ کر جاری نہیں کیا گیا تا کہ ابہام کی فضا برقرار رہے، ایرانی حکام بار بار کہہ رہے ہیں کہ وہ مذاکرات پر تیار ہیں لیکن پہلے امریکہ حملہ نہ کرنے کی ضمانت دے، ستم ظریفی تو ہے کہ ٹرمپ کی گارنٹی کوئی نہیں دے سکتا، پہلے بھی ایران کو پندرہ روز کی مہلت کا کہہ کر دوسرے ہی دن حملہ کر دیا تھا، بنیامین نیتن یاہو کے امریکی ٹی وی کو انٹرویو کے بعد بلی تھیلے سے باہر آ گئی ہے، جس میں ایران کے ساتھ معاہدے کیلئےتین شرائط رکھی گئی ہیں، جن کے مطابق ایران کو افزودگی روکنا ہو گی، 300 میل سے زیادہ رینج کے بیلسٹک میزائلوں پر پابندی عائد کرنا ہو گی اور دہشت گردی کے محور کو ترک پڑے گا.

دیکھنا اب یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل اپنا یہ مشترکہ منصوبہ کامیاب بنانے کیلئے کونسے اقدامات کریں گے، اسی اثنا میں روس نے ایران کو یورنیم کی افزودگی نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے جبکہ چین نے ایرانی جوہری سرگرمیوں کو مکمل طور پر ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کی سخت نگرانی اور تحفظ میں لانے کی حمایت کی ہے، ایسے میں ایران کے پاس زیادہ آپشنز نہیں، ان حالات میں پاکستان کو مزید الرٹ رہنا ہو گا، خصوصاً اگر افغانستان نے مشترکہ دفاع کے معاہدے کیلئے روس کی پیشکش قبول کر لی تو علاقے میں طاقت کے توازن پر براہ راست اثرات مرتب ہونگے۔ یہ سطور لکھے جانے تک خبریں ہیں کہ اسرائیل نے شام میں صدر احمد الشرع کی حکومت ختم کرنے کیلئےدمشق پر زبردست حملے شروع کر دئیے ہیں، شام کے پاس موجود سارا اسلحہ، طیارے اور بحری جہاز بشار الاسد نے فرار ہوتے وقت لوکیشنز فراہم کر کے اسرائیل سے پہلے ہی تباہ کرا دئیے تھے، ان حالات میں شام کی فوجی مدد صرف ترکی کر سکتا ہے، اگر ایسا ہی ہوا تو جنگ بڑے پیمانے پر پھیل جائے گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں