زندگی… ایک سانس، ایک سراب

زندگی…
کبھی ہنسی کی بازگشت، کبھی آنکھوں کی نمی۔
کبھی معصوم دعا، کبھی بے سبب صدا۔
کبھی خوابوں کی نرم چادر، کبھی حقیقت کا خاردار فرش۔
یہ وہ راہ ہے جس پر ہم سب چلتے ہیں، مگر کوئی منزل نہیں جانتا۔

ہم پیدا ہوتے ہیں، آنکھ کھولتے ہیں،
اور سمجھتے ہیں ہم جان گئے…
حالانکہ جس دن ہم یہ سمجھتے ہیں،
اسی دن ہم اصل میں ناسمجھی کے دائرے میں داخل ہوتے ہیں۔
یہی تو زندگی کا فریب ہے، کہ ہر عمر کے ساتھ لگتا ہے، اب سب سمجھ آ گیا ہے۔
لیکن جو “آ گیا” ہوتا ہے، وہ دراصل “چلا گیا” ہوتا ہے۔

انسان خود کو مرکز سمجھتا ہے،
ہر تعلق میں برتری چاہتا ہے،
ہر رشتے میں حساب رکھتا ہے،
ہر گفتگو میں انا کا وزن تولتا ہے۔
اور جب ٹھوکر لگتی ہے، جب زمین نیچے سے سرک جاتی ہے،
تو شکوہ کرتا ہے… اُس سے…
جس کی حکمت کو وہ سمجھا ہی نہیں۔

سوال اٹھتے ہیں:
یہ کیوں ہوا؟
میرے ساتھ ہی کیوں؟
اس کا کیا مطلب تھا؟

اور وہ لمحہ، جب سمجھ آتی ہے
تب احساس ہوتا ہے کہ ہم تو کچھ بھی نہیں تھے،
نہ جاننے والے، نہ ماننے والے،
بس وقت کے ریلے میں بہتے ذرے۔

سوات کی وادیاں ہوں یا کراچی کی گلیاں،
کہیں اچانک موت لپک لیتی ہے،
کہیں نیند سے جاگتے ہوئے سب کچھ ملبے تلے دفن ہو جاتا ہے،
کہیں گیس کی بو، کہیں زندگی کا دھواں،
کہیں بچے ہنستے ہیں، تو کہیں اسی لمحے کسی ماں کی کوکھ خالی ہو جاتی ہے۔
یا بچے یتیم و یسیر ہو جاتے ہیں

اور ہم؟
ہم ابھی کل کے منصوبے بنا رہے ہوتے ہیں،
کہ اگلی صبح کہاں جانا ہے،
کون سا سودا لینا ہے،
کون سا خواب پورا کرنا ہے۔

لیکن زندگی کو ہمارے منصوبوں سے کوئی غرض نہیں۔
وہ تو بس ایک لمحہ ہے،
جو کب آئے، کب لے جائے…
یہ صرف اُسے معلوم ہے جس کے ہاتھ میں سب کچھ ہے۔

تو کیوں نہ سیکھیں؟
کیوں نہ آج کے لمحے میں جئیں؟
کیوں نہ ایک دوسرے کو دل سے اپنائیں؟
نہ کوئی چھوٹا، نہ کوئی بڑا…
بس انسان، بس رب کی مخلوق۔

ایسا جئیں کہ ہماری موجودگی سکون بنے،
اور ہماری جدائی دعا۔
ایسا چلیں کہ زمین پر نرم قدم رکھیں،
اور دلوں میں اپنا عکس محبت سے چھوڑ جائیں۔

زندگی…
محبت ہے، معافی ہے، عاجزی ہے،
اور اصل فہم…
یہ جان لینا ہے کہ ہم کچھ بھی نہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں