زندگی کے کھوئے ہوئے رنگ: ٹیکنالوجی کے دور میں ایک بھولا ہوا سبق

اتوار کی سہ پہر کو میں اپنا فون گھر چھوڑ آیا۔ اس لیے نہیں کہ میں غلطی سے بھول گیا تھا، بلکہ میں نے جان بوجھ کر ایسا کیا تھا۔ یہ ایک چھوٹا سا عمل تھا، مگر اپنے اندر ایک گہرے احساس اور ایک تلخ سچائی کا پیغام لیے ہوئے تھا۔ میں نے محض ایک آلہ یا ڈیوائس گھر نہیں چھوڑا تھا، بلکہ اُس ڈیجیٹل قفس سے چند گھنٹوں کی رہائی حاصل کی تھی جس میں ہم سب اپنی مرضی سے قید ہیں۔ اس تجربے نے مجھے یہ سوچنے کا موقع فراہم کیا کہ جس ٹیکنالوجی کو ہم نے اپنی سہولت کے لیے بنایا تھا، آج وہی ٹیکنالوجی ہماری زندگی سے حقیقی مسرت اور سکون کے جوہر کو کیسے آہستہ آہستہ ختم کر رہی ہے۔

میں تھوڑی ہی دیر کے لیے ہی باہر نکلا تھا، لیکن اس وقفے کی بدولت مجھے اپنے گھروالوں کے ساتھ ایک ایسی سہ پہر گزارنے کا موقع ملا جو خلفشار سے پاک تھی۔ ایک ایسی سہ پہر جس میں میرا ذہن ماضی کے پچھتاووں اور مستقبل کی فکروں کے بیچ بھٹکنے کے بجائے حال کے موجودہ لمحے میں ٹھہرا ہوا تھا۔ اس فرصت نے مجھے اور میرے گھر والوں کو وہ چھوٹے چھوٹے، انمول لمحے لوٹا دیے جو ڈیجیٹل شور میں کہیں کھو گئے تھے۔ میں نے اپنے بچوں کے ساتھ مل کر اگلے ہفتے کی دوڑ کی تیاری کی، ہم سب اپنے محلے کے پارک میں موجود فوڈ ٹرک میلے کے ذائقوں سے لطف اندوز ہوئے، اور میں نے اپنے بیٹے کا کرکٹ میچ اس طرح دیکھا جیسے دنیا میں اس سے اہم کوئی اور کام نہ ہو. یہ سب اس لیے ممکن ہوا کیونکہ میں اُس بے چین اور متلاشی کیفیت سے آزاد تھا جو ہر نوٹیفکیشن کی گھنٹی پر ہمیں اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ میں حقیقت میں وہیں تھا، جہاں میرے قدم تھے۔

ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جسے جدید اصطلاح میں “توجہ کی معیشت” کہا جاتا ہے۔ ہماری توجہ ایک بیش قیمت شے ہے جسے بڑی بڑی کمپنیاں خریدنا اور بیچنا چاہتی ہیں۔ ہماری ایپس، ہماری نیوز فیڈز، سب اس طرح ترتیب دی گئی ہیں کہ ہماری توجہ کو زیادہ سے زیادہ دیر تک کمپیوٹر یا فون کی اسکرین پر باندھے رکھیں۔ ہم بے مقصد اسکرولنگ کرتے ہوئے گھنٹوں گزار دیتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں کہ وقت جیسے ریت کی طرح ہماری مٹھی سے پھسل گیا ہے۔ یہی وہ لمحے ہیں جو ہماری زندگی سے چوری ہو رہے ہیں۔ ہم نے بوریت کو ختم کرنے کی کوشش میں دراصل اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور خود شناسی کے امکانات کو ختم کر دیا ہے۔ بوریت وہ خالی کینوس ہے جس پر ہمارا دماغ گہرے خیالات اور نئے تصورات کی تصاویر بناتا ہے۔ جب ہم اس خالی پن کو مسلسل ڈیجیٹل مواد سے بھرتے رہتے ہیں، تو ہم اپنے اندر کی آواز سننے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔

جون ایلیا نے شاید اسی کیفیت کی طرف اشارہ کیا تھا:
کتنی دلکش ہو تم، کتنا دل جُو ہوں میں
کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے
یہاں “مر جانے” کا مطلب صرف جسمانی موت نہیں، بلکہ اُس داخلی اور ذہنی موت کی طرف بھی اشارہ ہے جہاں ہم جیتے تو ہیں مگر زندگی کا احساس اور لطف کھو دیتے ہیں۔

ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا فریب یہ ہے کہ یہ ہمیں رابطے کے وہم میں مبتلا کردیتی ہے، جبکہ حقیقت میں یہ گہرے اور بامعنی رشتوں کی جڑیں کاٹ رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر ہمارے ہزاروں دوست ہو سکتے ہیں، لیکن حقیقی زندگی میں ہم تنہائی کا شکار ہیں۔ ہم اپنے پیاروں کے ساتھ بیٹھ کر بھی اپنے فون میں گم رہتے ہیں۔ آمنے سامنے کی گفتگو کی گرمجوشی اور نزاکت، لائکس اور کمنٹس کی سرد اور بے روح دنیا میں کھو گئی ہے۔ ایک مشہور مفکرہ، شیری ٹرکل، نے اس کیفیت کو “اکٹھے ہوتے ہوئے بھی تنہا” کیفیت کا نام دیا ہے۔ ہم ایک ایسی محفل سجاتے ہیں جہاں جسم تو موجود ہوتے ہیں مگر روحیں غائب۔ یہ وہ محفل ہے جس کے بارے میں شاعر نے کہا تھا:
ایک محفل میں کئی محفلیں ہوتی ہیں شریک
جس کو بھی پاس سے دیکھو گے وہ تنہا ہوگا

ہماری زندگی اب ایک ایسی نمائش بن گئی ہے جسے دوسروں کی پسندیدگی کے لیے سجایا جاتا ہے۔ ہم غروبِ آفتاب کا منظر اپنے فون کے کیمرے میں اس لیے قید کرتے ہیں تاکہ اسے آن لائن پوسٹ کر سکیں، اس لیے نہیں کہ اس کے حسن میں ڈوب جائیں۔ ہم تجربات سے گزرتے نہیں، بلکہ انہیں “کونٹینٹ” میں تبدیل کرتے ہیں۔ اس دکھاوے اور کارکردگی کے دباؤ نے ہم سے زندگی کی بے ساختگی اور سادگی چھین لی ہے۔

اس ڈیجیٹل سراب کا اثر صرف ہمارے سماجی رشتوں تک محدود نہیں، یہ ہمارے حواس اور ہماری ذات پر بھی گہرے نقوش چھوڑ رہا ہے۔ زندگی کا تجربہ پانچ حواس سے مل کر بنتا ہے—دیکھنا، سننا، سونگھنا، چکھنا اور چھونا۔ ٹیکنالوجی نے اس بھرپور تجربے کو محض دیکھنے اور سننے تک محدود کر دیا ہے۔ ہم کھانے کی تصویر تو دیکھتے ہیں، مگر اس کے ذائقے اور خوشبو کا حقیقی لطف بھولتے جا رہے ہیں۔ ہم بارش کی ویڈیو تو شئیر کرتے ہیں، مگر اس کی بوندوں کو اپنے چہرے پر محسوس کرنے کی لذت سے ناآشنا ہوتے جارہے ہیں۔ ہم نے اپنی زندگی کو ایک دو جہتی اسکرین میں قید کر لیا ہے، جبکہ حقیقت کئی جہتی اور کہیں زیادہ حسین ہے۔

صوفیانہ روایت میں “حضوری” کا تصور بہت اہمیت رکھتا ہے، یعنی کسی مصروفیت کے دوران مکمل طور پر حاضر رہنا، جسمانی اور ذہنی طور پر یکسو ہونا۔ ٹیکنالوجی ہمیں مسلسل “غیبت” یعنی غیر حاضری کی کیفیت میں مبتلا رکھتی ہے۔ ہم دفتر میں ہوتے ہیں تو گھر کے بارے میں سوچتے ہیں، گھر پر ہوتے ہیں تو دفتر کے ای میلز کا جواب دیتے ہیں۔ ہم اپنے بچوں کے ساتھ کھیل رہے ہوتے ہیں، لیکن ہمارا دھیان فون کی اسکرین پر اٹکا ہوتا ہے۔ ہم اپنی ہی زندگی میں ایک تماشائی بن کر رہ گئے ہیں، ایک ایسا کردار جو منظر میں تو موجود ہے مگر کہانی سے غائب ہے۔

علامہ اقبال نے خودی اور اپنی ذات کی پہچان پر بہت زور دیا ہے۔ ان کا فلسفہ ہمیں اپنے اندر جھانکنے کی دعوت دیتا ہے، نہ کہ باہر کی دنیا میں گم ہو جانے کی۔ شاید اسی حضوری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا تھا:
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تُو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن

جب ہم ہر لمحہ بیرونی محرکات کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں، تو ہم اپنی اندرونی دنیا سے رشتہ توڑ لیتے ہیں۔ ہم اپنی یادداشت کو ڈیوائسز کے سپرد کر رہے ہیں، اپنی راہیں گوگل میپس سے پوچھ رہے ہیں، اور اپنے جذبات کا اظہار ایموجیز سے کر رہے ہیں۔ اس سہولت کی قیمت ہم اپنی انسانی صلاحیتوں کے زوال کی صورت میں چکا رہے ہیں۔ وہ تجربات جو ہماری شخصیت کا حصہ بننے چاہئیں تھے، وہ اب محض ڈیجیٹل آرکائیو کی زینت بن کر رہ گئے ہیں۔

تو پھر اس کا حل کیا ہے؟ یہ حل ٹیکنالوجی کو یکسر ترک کر دینے میں نہیں، بلکہ اس کے استعمال میں توازن اور دانشمندی اپنانے میں ہے۔ گویا یہ حل “ڈیجیٹل اعتدال پسندی” میں ہے۔ جس طرح ہم اپنے جسم کو صحت مند رکھنے کے لیے خوراک کا خیال رکھتے ہیں، اسی طرح ہمیں اپنی ذہنی اور روحانی صحت کے لیے اپنی “ڈیجیٹل خوراک” کا بھی خیال رکھنا ہوگا۔ اور ٹیکنالوجی کی ڈائٹنگ کرنا ہوگی. ہمیں جان بوجھ کر، ارادتاً ایسے لمحات پیدا کرنے ہوں گے جب ہم ٹیکنالوجی سے دور ہوں، جب ہم صرف خود کے ساتھ، اپنے پیاروں کے ساتھ، اور اس کائنات کے ساتھ جڑے ہوں۔

اس ہفتے کے لیے اسے میری طرف سے ایک عاجزانہ دعوت سمجھیں۔ (آن لائن) دنیا انتظار کر سکتی ہے۔ مگر زندگی کے وہ چھوٹے چھوٹے، انمول لمحے نہیں رکتے، جو ایک بار گزر جائیں تو پھر لوٹ کر نہیں آتے۔ خود کو ری چارج کرنے کا اصل طریقہ مزید معلومات کا حصول اور استعمال نہیں، بلکہ اس سے کچھ دیر کے لیے دستبردار ہو جانا ہے۔ آئیے، ہم اپنی زندگیوں کا کنٹرول واپس اپنے ہاتھوں میں لیں اور اسکرین کے شیشے کے پار دیکھنے کے بجائے اپنے اردگرد پھیلی ہوئی حقیقی دنیا کے حسن کو دیکھیں۔

جیسا کہ کسی نے خوب کہا ہے: “زندگی وہ نہیں جو آپ کے ساتھ ہوتا ہے، بلکہ وہ ہے جو آپ یاد رکھتے ہیں اور اسے سنانے کے لیے کیسے یاد رکھتے ہیں۔”

آئیے، ایسی یادیں تخلیق کرنے کی کوشش کریں جو ہمارے دل پر نقش ہوں، نہ کہ صرف کلاؤڈ اسٹوریج میں محفوظ رہ جائیں.

وہیں ٹھہرے رہیے، جہاں آپ کے قدم ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں