گلوبل ولیج میں بابوں کا قول ہے کہ جب دو اجنبی ملیں تو ان کے درمیان گفتگو کا آغاز موسم سے ہوتا ہے۔ میرا بھی دِل چاہتا ہے کہ آج کچھ موسم کے بارے میں بات کرنے کے بعد ہی کسی اور مسئلہ کے حوالے سے لکھتے ہیں، لکھنے کے لئے گفتی ناگفتنی اتنے موضوع بکھرے پڑے ہیں کہ لکھنے والا یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کیا لکھے اور کیا نہ لکھے،اب بھی سیاست اور ظلم دو بڑے موضوع ہیں جن پر لکھا جا سکتا ہے اگرچہ ہر دو موضوع یکسانیت لئے ہوئے ہیں، سیاست کی تو وہی چال بے ڈھنگی ہے جو پہلے تھی، بلکہ شروع سے تھی اگر فرق آیا ہے تو صرف مال پانی کا ہے، ورنہ ایک دور میں وفاداریاں تعلقات یا نظریاتی بنیاد پر تبدیل ہوتی تھیں،پھر وہ زمانہ آ گیا کہ مال کی ریل پیل ہوئی اور تادم تحریر الزام تو یہی ہے لیکن وفاداری تبدیل کرانے کے مراکز تبدیل ہو گئے ہیں۔
میں نے بات موسم کے حوالے سے شروع کی، نکل اور کسی طرف گئی کہ یہ بھی زندگی کے حقائق ہی ہیں۔بہرحال پہلے موسم ہی کی بات کر لیتے ہیں۔ محکمہ موسمیات اور ماحولیات کے مطابق، رکئے بھول گیا ایک اور محکمہ بھی شامل ہو گیا ہے جسے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کہتے ہیں۔اب دورِ جدید ہے تو اسی محکمہ کی طرف سے ہمیں خبردار کیا جاتا ہے کہ ہوشیار ہو جائیں، زور دار بارش، آندھی، طوفان اور جھکڑوں کے علاوہ سیلاب کا بھی خدشہ ہے۔ یہ محکمے جسے مون سون کہتے اسے ہم لاہوری اور دیہاتی لوگ ساون بھادوں کہتے ہیں جبکہ پری مون سون کو ساون کا پکھ کہا جاتا ہے کہ اب ساون شروع ہونے والا ہے تو قارئین! یہ پری مون سون، درحقیقت ساون کا پکھ یعنی آمد کی نوید ہے، آج جب میں ساون کا ذکر کر رہا ہوں تو ہاڑ کی20 تاریخ ہو چکی اور ساون شروع ہونے میں دس گیارہ دن پڑے ہیں،لیکن دریاؤں کا موڈ ابھی سے بدلا بدلا ہے کہ جس ساون کو ہم یاد کرتے ہیں وہ تو معلوم نہیں کہاں چلا گیا،اب تو ساون سے پہلے ہی بھادوں جیسا آغاز ہو جاتا ہے کہ حبس برا حال کر دیتا ہے، حالت تو یہ ہے کہ پری مون سون کی بارشوں نے لاہور کو بھی متاثر کیا اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو بریک لگی،لیکن حبس نے بُرا حال کر دیا ہے،آج جب ہوابھی چل رہی ہے تو ہوا میں نمی کا تناسب60 فیصد ہے پنکھے کے بغیر چوٹی سے ایڑھی تک پسینہ بہنے والی بات ہو جاتی ہے۔
گذشتہ روز ہی بہو، بیٹی سے بات ہو رہی تھی، کسی مہربان کی طرف سے آم کا تحفہ آیا تو وہ کہہ رہی تھیں کہ مِلک شیک اچھا لگتا ہے۔ معصومیت سے کی گئی بات سے مجھے اپنے لڑکپن اور نوجوانی کا دور یاد آ گیا جب ہم لاہور والے ساون کے منتظر ہوتے تھے، بلکہ ایک حد تک تیاری بھی کرتے تھے، تب ساون کا گھنگھور گھٹاؤں، گہرے بادلوں اور مسلسل اور ہلکی بارش والا موسم ہوتا تھا،اسی موسم کے حوالے سے شاعروں نے شاعری کی اور جھولوں کا ذکر کیا،ہمارے ادیب، شاعر اور دانشور حضرات کے مطابق یہ موسم بڑا رومانوی ہوتا تھا اور اِس حوالے سے پرانی فلموں میں زبردستی بھی بارش کے سین بنا لئے جاتے تھے۔ ہم لاہور والے تو اس موسم میں مری جانے والوں کو طعنے دیتے تھے اب تو یہاں ہی مری بن گیا ہے، مجھے بہت اچھی طرح یاد ہے کہ ہمارے والد صاحب فروٹ منڈی (میوہ منڈی) سے آموں کے ٹوکرے لاتے تھے،ہر بار دو قسم کے آم ہوتے،ایک چوسنے اور دوسرے قلمی کاٹ کر کھانے والے، اس کے ساتھ وہ رات کو پتھر کے کوئلوں کی انگیٹھی پر بونگ یا بڑے پائے پکاتے اور پھر آم ایک بڑے ٹب میں ڈال برف سے ٹھنڈے کئے جاتے، دوپہر کے وقت گرم نان، بونگ پایوں کے ساتھ ٹب کے اردگرد بیٹھ کر کھانے اور آم چوسنے کا جو مزہ تھا اس کی بس اب یاد ہی رہ گئی ہے۔
ساون ہی کے مہینے میں لاہور میں ایک میلہ لگتا جسے پار کا میلہ کہتے تھے۔ یہ میلہ ساون کی برسات میں نہانے اور آم کھانے سے موسوم تھا۔ پار کا میلہ اس لئے کہتے کہ راوی کے پار مقبرہ جہانگیر میں اجتماع ہوتا،گوشت کی دیگیں پکتیں، قیمے والے نان لگوائے جاتے اور ڈھیروں آم ہوتے،جو کئی اقسام کے لائے جاتے۔ یقین مانیں جب ہم شہر والے خاندانوں سمیت مقبرہ جہانگیر جاتے تو بارش ضرور ہوتی اور مینہہ ایسے برستا جیسے آج کل باتھ روم میں ہلکا تیز شاور لیا جاتا ہے۔ مقبرہ جہانگیر کے پلاٹوں میں ہم بھاگتے کھیلتے، کھاتے پیتے، نہاتے ہوئے شام کو خوش خوش گھر آتے تھے، اب تو دور ہی تبدیل ہو گیا، سائنس کی رو سے موسمیاتی تبدیلی کہا جاتا ہے، کبھی خشک گرمی ہوتی ہے تو کبھی چھما چھم بارش پڑتی اور پھر ختم ہو جاتی ہے، جس کے بعد حبس نصیب میں لکھا ہوتا ہے اور اب عمر یونہی گذر رہی ہے۔ہمارے بچے ہمارے لڑکپن کی باتیں بڑے تعجب سے سنتے ہیں اور، اور ہیں ہیں کرتے رہ جاتے ہیں۔ آج کل کی نسل کو تو اس تفریح سے واسطہ ہی نہیں پڑا جو اُس دور میں ہوتی تھی۔لاہور کے بارے میں کہا جاتا تھا ”آٹھ دن تے نو میلے، گھر جاواں کیہڑے ویلے“ اس دور میں ہفتہ سات دن نہیں آٹھ دن کا کہلاتا تھا اور اِسی حوالے سے کہاوت بھی تھی، اب اگر وہ موسم نہیں رہے تو روایات بھی تبدیل ہو گئی ہیں،اگر ہم لاہور شہر والے یہ بتائیں کہ ہم تو ”قدموں کا میلہ“ بھی دیکھتے تھے جو ہمارے شہر کی فصیل کے چاروں طرف باغات کے کنارے لگتا اور ہر روز ایک دروازے کے باہر سجتا تو اگلے روز دوسرے دروازے باہر والے باغ کے کنارے ہوتا یوں چکر لگاتے لگاتے بارہ دروازے اور تیرھویں موری سے گھوم کر اختتام پذیر ہوتا۔اب نہ وہ باغ ہیں، نہ وہ موسم اور نہ ہی وہ روایات رہیں۔وہ دور بھائی چارے کا بھی تھا۔
میں نے بدلتے موسم کا ذکر کیا تو محکمے بھی یاد آئے، اب تو ہمیں ساون کے جھولوں کی جگہ ساون کے سیلاب سے پالا پڑتا ہے،اس سلسلے میں غور کرنے والی بات یہ ہے کہ سیلابی کیفیت ہر سال پیدا ہوتی ہے،کبھی شدت کم اور کبھی زیادہ ہوتی ہے۔اب سابقہ سیلاب کا ذکر ہوتا ہے،جب بلوچستان اور سندھ بری طرح متاثر ہوئے۔ پنجاب اور کے پی کے علاوہ شمالی علاقہ جات کو بھی نقصان ہوا، کئی سال ہو گئے ہیں،ذکر تو کم نہیں ہوا، اور اس مرتبہ پھر جو الرٹ جاری ہوئے ہیں،ان سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ برسات معمول سے25 فیصد زیادہ متوقع ہے اس سلسلے میں عرض کروں اگر برا نہ لگے تو ہم کیسی قوم ہیں کہ سالہا سال سے یہ سلسلہ کم اور زیادہ ہوتا ہے اور ہر بار ہدایت کی اور اعلان کیا جاتا ہے کہ برساتی گذر گاہوں کو صاف رکھا جائے گا اور ہر سال انہی گذر گاہوں سے پانی کے ریلے آ کر نقصان پہنچاتے ہیں۔جنوبی پنجاب کا کوہ سلیمان اس کی بہت بڑی مثال ہے،سیلاب ہو یا برسات اس پہاڑی سلسلے سے بہنے والے پانی سے انہی علاقوں کو نقصان پہنچتا ہے،جو ہر سال متاثر ہوتے ہیں، ہر سال اسی موسم میں رود کوہیوں کی صفائی کا حکم ہوتا ہے اور پھر بھول جاتے ہیں،اب بھی یہی ہو رہا ہے اگرچہ اس بار بھارت بھی برساتی پانی ہماری طرف بھیجے گا۔

