سب کے لئے مقدم ملک ہی تو ہے!

فرخ سہیل گوئندی ترقی پسند دانشور ہیں، ان سے تعلق کو تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزر چکا وہ پاکستان پیپلزپارٹی میں سرگرم رہے اور ساتھ ساتھ ترقی پسند بلکہ سوشلزم / کمیونزم پسند جماعتوں میں بھی عمل دخل رکھے رہے تھے۔ بہت سے دوسرے حضرات کی طرح ایک عرصہ سے وہ جماعتی نظم وضبط سے آزاد ہو کر خود مختار سیاست کرتے چلے آ رہے ہیں۔ میں نے آج فیس بک پر ان کی ایک پوسٹ دیکھی تو خیال آیا کہ انہوں نے کتنی سچی بات کہہ دی۔ ان کی تحریر میں جس دکھ یا افسوس کا اظہار کیا گیا اس سے نہ صرف متفق ہوں بلکہ گاہے گاہے اظہار بھی کرتا رہتا ہوں کہ کیسا لبرل ا زم ہے کہ آپ نہ صرف دین سے دور ہوں اور خود کو اس حوالے سے بھی اسی آزادی کا لبادہ اوڑھے رہیں اور اپنے اسی فلسفے کے تحت اپنے وطن / ملک کی بھی مخالفت کرتے رہیں اور اس کے لئے پاک فوج کے ان جنرلز کے اقدامات کی آڑ لیں جو ماضی میں غیر جمہوری اقدامات کرتے رہے (اگرچہ پاکستان میں صحیح معنوں میں جمہوریت کبھی عمل پذیر ہی نہیں ہوئی) میرے متعدد اچھے دوست آج کل اپنے خیالات کے اظہار میں کوئی احتیاط نہیں کرتے اور اپنے اسی لبرل ازم کے عقیدے پر قائم رہ کر حالیہ اسرائیلی جارحیت اور امریکہ، یورپ کی معاونت کے باوجود ایران کی مخالفت کرتے چلے آ رہے ہیں، حتیٰ کہ وہ تو پاکستان کے مجاہدین کی طرف سے ملک کے خلاف جارحیت کے جواب میں دشمن کی بولتی بند کر دینے کو بھی ہدف تنقید بناتے ہیں،میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ یہ حضرات بزعم خود آج بھی مارکسزم کے جس فلسفے کو لے کر ایسی مخالفت کرتے ہیں، خود اس کا وجود کئی حصوں میں تقسیم ہو چکا اور پھر اسی مارکسٹ فلسفے کا ایک بنیادی اصول ہے کہ ہر ملک میں انقلاب کے لئے اس ملک کے معروضی حالات کو اول حیثیت دینا چاہیے اور پاکستان کے معروضی حالات کی حقیقت یہ ہے کہ یہاں 96فیصد مسلمان بستے ہیں اس لئے اسلامی اصولوں کی مخالفت کرکے کوئی انقلاب نہیں آ سکتا،اس حقیقت کو نظر انداز کرنے ہی سے اب یہاں سوشلزم جیسی اصطلاح ناپیدا ہو چکی اور آج ہم بہت سی مشکلات میں گرفتار ہیں اس میں یہ حقیقت بڑی ظالمانہ ہے کہ ہم دنیا کے سامراجی نظام سے منسلک ہو کر خود بھی اس استحصالی نظام کا حصہ بن چکے ہیں لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ ہم لبرل ازم کی آڑ میں اس نظام کی بجائے اپنے ملک کے دشمنوں کے ہاتھ مضبوط کرنا شروع کر دیں،اس وقت سامراج ایک نئے انداز سے دنیا پر حملہ آور ہے اور ان دنوں وہ اسرائیل کی بھرپور معاونت اور امداد کرکے باقی ماندہ دنیا پر بھی غالب آنے کی فکر میں ہے۔ یہ لمحہ لبرلز کے لئے بھی فکر انگیز ہوناچاہیے کہ اگر ملک سامراج کے زیر قبضہ چلا جائے تو استحصال سے نجات کے لئے جدوجہد کا کیا ہو گا،ہمیں آج اللہ کے کرم سے پاکستان میں آزادی حاصل ہے، کسی کی غلامی نہیں، رہ گیا نظام کا مسئلہ تو یہ ایک الگ جدوجہد ہے جو جاری رہنا چاہیے اور ایک حد تک جاری ہے اس میں نظریاتی حوالے سے موجودہ صورت حال میں ایران کی مخالفت کہاں سے آ گئی۔ دنیاوی لحاظ سے سامراج کی راہ میں لیبیا، مصر، شام، عراق اور اردن کے بعد ایران ہی ایک ایسی رکاوٹ ہے جو سامراج کی نگاہ میں کھٹکتی ہے اور اس کے بعد مضبوط قلعہ پاکستان ہے۔یہاں جو استحصال ہوتا ہے وہ نظام ہی کے باعث ہے،اس نظام کی مخالفت میں ملک کی برائی کہاں سے آ گئی،اس لئے گوئندی درست کہہ رہے ہیں۔ لبرلز کو اپنے عمل پر نظرثانی کرنا ہو گی۔

میں خود بھی ایسے ہی عذاب سے گزر رہا ہوں لیکن 1965ء اور 1971ء کی پاک بھارت جنگ کی بطور رپورٹر کوریج کے دوران میں نے اپنے سپاہیوں کی جرائت، حوصلہ اور بہادری کی ایسی ایسی داستانوں کا مظاہرہ دیکھا، سنا اور تحریر کیا جو عام انسان کے لئے بہت ہی تعجب انگیز ہے۔ ہماری سپاہ نے کثیر دشمن کے سامنے جس طرح ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اسے روکا وہ تاریخ میں رقم ہو چکا ہے اور آج بھی ان مجاہدین کے دلوں میں وہ حوصلہ اور جذبہ موجود ہے اس لئے دانش تو یہ ہے کہ آپ معروضی حالات کا تجزیہ کریں اور ریت میں سے سونا نکالنے کی جدوجہد کریں، یہ نہیں کہ ریت ہی کو پھینک کر تہی دست ہو جائیں۔

میں کئی بار گزارش کر چکا کہ پیرفضل عثمان کابلی مجددیؒ کے علاوہ مولانا ابوالحسنات، ستار نیازی، مولانا مفتی محمود، مولانا عبیداللہ انور، حضرت مولانا شاہ احمد نورانی اور ایسے دیگر بزرگوں کی خدمت میں وقت گزار چکا ہوں اور مجھ پر دین کے اثرات ہیں، شاید اسی لئے کمیونسٹ اور سوشلسٹ حضرات کے ساتھ جدوجہد میں شریک رہنے کے باوجود میں دین سے غافل نہیں ہوا، جہاں تک اس حوالے سے میرے تحفظات کا تعلق ہے تو وہ بھی دینی حوالے سے ہیں کہ فرقہ پرستی اور ملاازم نے ہمیں بہت نقصان پہنچایا، دین کے نام پر الگ الگ دکانیں سجائی گئیں اور خود بھی مراعات یافتہ ہوئے، میں ایسے بہت سے حضرات کی تاریخ سے واقف ہوں جو پیدل چلتے، بلٹ پروف لینڈ کروزر پر آ گئے، مدرسے سے چھ کینال کی کوٹھی تک پہنچ گئے، اس تمام کے باوجود میں دین سے تو دور نہیں ہوا کہ یہ انسانی فعل ہیں، اس میں دین کا کیا قصور ہے اور ہمارے لبرل یہ بات بھی نہیں سمجھتے۔

ان دنوں میں مخمصے میں ہوں کہ دنیا میں جو کچھ ہو رہاہے، یہ سب روزروشن کی طرح واضع اور ہمیں پہلے سے بتا بھی دیا گیا۔فلسطین اور اس پر اسرائیل کا قیام اور سامراج کا تعاون ظاہر ہے، یہ بتایا گیا تھا کہ آخری معرکہ کا مقام بیت المقدس ہے اور یہیں دجال اور اس کے بعد حضرت مہدی ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ کا ظہور ہوگا، اس سے قبل کے حالات میں یہ بھی بتایا جا چکا کہ یہ سب خود مسلمانوں کی بے عملی سے ہوگا جو دولت میں کھیلیں گے لیکن برائیوں میں مبتلا ہوں گے اور ان کا ایمان کمزور ہوگا اسی سبب دجالی قوتوں سے ان کو نقصان اٹھانا پڑے گا۔ اگرچہ یہ دور سائنس کا دور ہے اور ہر پیمانہ سائنس ہے اس میں روحانیت کا عمل دخل نہیں، لیکن یہ نہ بھولیں کہ جدید دور میں جن سامراجی ممالک نے سائنس میں ترقی کی وہ ہم مسلمانوں کی غفلت اور لاپرواہی کے ہی باعث ہے کہ مسلمانوں نے اپنے اجداد کی اہلیت اور جدوجہد سے سبق حاصل نہ کیا، میں نے پڑھا تھا کہ فاتح بیت المقدس سلطان صلاح الدین ایوبی جب رچرڈ دی گریٹ کی قیادت میں مشترکہ یورپی قوتوں سے نبردآزما تھے تو انہوں نے افرادی قوت کے لئے خانقاہی نظام پر قابض حضرات سے رجوع کرکے تعاون مانگا تو ان کو انکار کر دیا گیا تھا اور آج بھی صورت حال یہ ہے کہ ہمارے دینی حضرات کرام کی اکثریت دن رات گناہ و ثواب اور وظائف کی خوبیاں بیان کرنے میں مصروف ہے، حالانکہ ضرورت اصلاح معاشرہ کی ہے کہ مسلمانوں میں جو بے عملی اور برائیاں عود کر آئی ہیں ان کی نشاندہی کرکے روکا جائے۔ کیا ذخیرہ اندوزی، منافع خوری، جھوٹ، جنسی جرائم، دھوکا دہی، ملاوٹ اور چوری، ڈاکہ کی دین میں گنجائش اور اجازت ہے اگر نہیں تو پھر ہمارے مصلح اس طرف توجہ کیوں نہیں دیتے کہ اگر مسلمان اپنے دین کی پیروی میں ان گناہوں اور برائیوں سے تائب ہو جائیں تو کسی قانون کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔ آج ہم دنیا میں صرف اس لئے خوار ہیں کہ معاشرتی برائیوں میں مبتلا ہیں اور تائب نہیں ہوتے، قبر میں ہاتھ خالی جاتے ہیں اور اگر کسی کا نام باقی رہتا ہے تو وہ نیک اور ملکی کارناموں ہی کی بدولت ہے،ہمارے واعظ حضرات کو ہمارے اجداد کی سنت پر عمل پیرا ہونا ہو گا اور معاشرہ کو برائیوں سے پاک کرنا ہوگا کہ یہی دین، اسلام اور لبرل ازم بھی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں