ستلج، راوی اور چناب میں 3 ستمبر تک انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ

لاہور ( نمائندگان+ایجنسیاں)پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے دریائے راوی، ستلج اور چناب میں سیلاب کے باعث ہونے والے نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی ہے۔ اب تک صوبے میں سیلابی ریلوں کے باعث پانی میں ڈوبنے سے 30 اموات ہو چکی ہیں۔ ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید کے مطابق سیلابی صورتحال کے باعث 2 ہزار 308 دیہات (موضع جات) اور 15 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔

“دریاؤں میں سیلابی صورتحال”
پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ دریائے ستلج، راوی اور چناب میں 3 ستمبر تک انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا سلسلہ جاری رہے گا۔فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق شمالی مدھیہ پردیش پر موجود مون سون کے دباؤ کے زیرِ اثر 2 سے 3 ستمبر کے دوران دریائے ستلج، بیاس اور راوی کے بالائی علاقوں میں شدید بارشوں کا امکان ہے۔

دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر غیر معمولی سطح کا سیلاب برقرار ہے۔
دریائے چناب میں تریموں کے مقام پر آئندہ 24 گھنٹوں میں غیر معمولی سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
دریائے چناب میں پنجند کے مقام پر 3 ستمبر کو بہت زیادہ سطح کا سیلاب متوقع ہے۔

“متاثرہ افراد اور ریلیف سرگرمیاں”
ریلیف کمشنر نبیل جاوید کے مطابق مجموعی طور پر 15 لاکھ 16 ہزار افراد سیلاب سے متاثر ہوئے۔4 لاکھ 81 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔متاثرہ اضلاع میں 511 ریلیف کیمپس قائم ہیں۔351 میڈیکل کیمپس اور 321 ویٹرنری کیمپس بھی قائم کیے گئے۔اب تک 4 لاکھ 5 ہزار مویشی محفوظ مقامات پر منتقل ہو چکے ہیں۔

“دریاؤں کے پانی کا بہاؤ”
دریائے چناب مرالہ: 1 لاکھ 11 ہزار کیوسک،خانکی ہیڈ ورکس: 1 لاکھ 70 ہزار کیوسک،قادرآباد: 1 لاکھ 71 ہزار کیوسک، ہیڈ تریموں: 1 لاکھ 46 ہزار کیوسک (مسلسل اضافہ)،دریائے راوی جسڑ: 78 ہزار کیوسک،دریائے راوی شاہدرہ: 1 لاکھ 38 ہزار کیوسک (بہاؤ میں کمی)،بلوکی ہیڈ ورکس: 1 لاکھ 99 ہزار کیوسک (بڑھتا ہوا)،ہیڈ سدھنائی: آمد 32 ہزار، اخراج 18 ہزار کیوسک،دریائے ستلج گنڈا سنگھ والا: 3 لاکھ 3 ہزار کیوسک (اضافہ)،سلیمانکی ہیڈ ورکس: 1 لاکھ 38 ہزار کیوسک

“ڈیموں کی صورتحال”
منگلا ڈیم: 80 فیصد بھرا ہوا،تربیلا ڈیم: 100 فیصد بھر چکا،بھارتی بھاکڑا ڈیم: 84 فیصد،پونگ ڈیم: 94 فیصد،تھین ڈیم: 92 فیصد

“ہلاکتیں اور نقصانات”
سیلاب میں ڈوبنے سے اب تک 30 شہری جاں بحق،لاہور میں آسمانی بجلی گرنے سے 2 اموات

“وزیرِاعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر متاثرین کے نقصانات کے ازالے کی یقین دہانی”

ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کے مطابق پنجاب میں سیلاب سے 15 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے۔دریائے چناب کے کنارے 1,179 دیہات متاثر۔دریائے راوی کے کنارے 478 دیہات ڈوب گئے۔دریائے ستلج کے کنارے 391 دیہات متاثر۔

“متاثرہ افراد”
دریائے چناب کے ساتھ 9 لاکھ 66 ہزار افراد،دریائے راوی کے ساتھ 2 لاکھ 32 ہزار افراد،دریائے ستلج کے ساتھ 3 لاکھ 13 ہزار افراد

“گزشتہ 24 گھنٹوں میں پنجاب کے بیشتر اضلاع میں بارشیں”
منڈی بہاوالدین: 81 ملی میٹر،حافظ آباد: 63 ملی میٹر،جہلم: 50 ملی میٹر،سیالکوٹ: 47 ملی میٹر،بہاولنگر: 44 ملی میٹر،
گجرات: 34 ملی میٹر،فیصل آباد: 32 ملی میٹر،شیخوپورہ: 31 ملی میٹر

“مون سون بارشوں کا نواں اسپیل 2 ستمبر تک جاری”
ملتان اور جنوبی پنجاب

“دریائے ستلج کے باعث 3 لاکھ افراد کی نقل مکانی”
جلال پور پیر والا کے قریب 50 ہزار کیوسک پانی سے 140 دیہات متاثر،راجن پور اور بہاولپور کے نشیبی علاقوں سے عوام کی منتقلی جاری،

“تاندلیانوالہ میں ہائی الرٹ”
“سندھ اور بلوچستان میں صورتحال”

گڈو بیراج (سندھ): درمیانے درجے کا سیلاب، پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 50 ہزار کیوسک سے زائد
بلوچستان: وزیر آبپاشی صادق عمرانی کے مطابق 2 ستمبر کو دریائے سندھ سے بلوچستان میں سیلابی ریلا داخل ہونے کا امکان۔

متاثرہ علاقے: جعفر آباد، روجھان، اوستہ محمد، صحبت پور۔

اپنا تبصرہ لکھیں