سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ پر بھارت کی پریشانی فطری ہے: خواجہ آصف

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والا اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ کسی کیخلاف نہیں بلکہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے، بھارت کی اس پر پریشانی فطری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے کوئی جارحانہ عزائم نہیں اور یہ معاہدہ خطے میں امن و استحکام کو مضبوط کریگا۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں، پاکستان کی افواج ایک عرصہ سے وہاں موجود ہیں اور اگر ان کی تعداد بڑھ بھی جائے تو کسی کو مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بعض عناصر اس معاہدے کا اپنے مقاصد کے لیے غلط مطلب نکال رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ اول و آخر ایک دفاعی معاہدہ ہے۔ “ہمارے کوئی جارحانہ عزائم نہیں، ہم تو خود ماضی میں جارحیت کا شکار رہے ہیں”.

خواجہ آصف نے مزید کہا کہ اس معاہدے سے کسی کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں، بلکہ یہ باہمی تعاون اور خطے کے دفاع کو مزید مضبوط بنائے گا۔ بھارت کی اس پر تشویش کو انہوں نے “فطری” قرار دیا اور کہا کہ “ان کو زیادہ تکلیف مار پڑنے کی ہے، جو پھینٹی ان کو لگی ہے وہ اب تک اپنے زخم سہلا رہے ہیں، ان کا چیخیں مارنا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔”

انہوں نے کہا کہ پاکستان برصغیر میں بھی امن چاہتا ہے، لیکن اگر ہمارے خلاف جارحیت ہوتی ہے تو اپنا دفاع کرنا ہمارا حق ہے۔

وزیر دفاع کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط ہوئے ہیں، جس کے تحت کسی ایک ملک پر جارحیت کو دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں