سعودی عرب کے “سلیپنگ پرنس” ولید بن خالد 20 سالہ کوما کے بعد انتقال کر گئے

ریاض(بیورورپورٹ)سعودی شاہی خاندان کے رکن اور “سلیپنگ پرنس” کے نام سے مشہور پرنس ولید بن خالد بن طلال طویل عرصہ کوما میں رہنے کے بعد انتقال کر گئے۔ وہ 2005 میں ایک کار حادثے کا شکار ہوئے تھے اور اس وقت سے کومے میں تھے۔

سعودی عرب کے مشہور “سلیپنگ پرنس” ولید بن خالد گزشتہ دو دہائیوں سے کوما کی حالت میں تھے۔ وہ 2005 میں ملٹری اکیڈمی ریاض میں زیر تعلیم تھے جب ایک المناک ٹریفک حادثہ پیش آیا، جس کے بعد وہ کومے میں چلے گئے۔

پرنس ولید بن خالد کو ابتدائی طور پر 2016 تک ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں رکھا گیا، جہاں ان کی مستقل نگرانی کی جاتی رہی۔ بعد ازاں، ان کو گھر منتقل کر دیا گیا جہاں ان کے اہل خانہ نے ان کی دیکھ بھال جاری رکھی۔ ان کے طویل غیر شعوری حالت کے باعث انہیں عوامی طور پر “سلیپنگ پرنس” کہا جانے لگا۔

ان کے والد، پرنس خالد بن طلال، سعودی شاہی خاندان کے بااثر افراد میں شمار ہوتے ہیں اور وہ اپنے بیٹے کے علاج کیلئے دو دہائیوں تک سرگرم رہے۔پرنس ولید کی نمازِ جنازہ دارالحکومت ریاض کی جامع مسجد الترکی میں ادا کی جائیگی، جہاں اعلیٰ حکومتی شخصیات، شاہی خاندان کے ارکان اور شہری بڑی تعداد میں شرکت کریں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں