ریاض (ایس پی اے/الاخباریہ/بیورورپورٹ)سعودی عرب کے مفتی اعظم، شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن محمد آل الشیخ انتقال کر گئے۔ شاہی دیوان نے اعلان کیا کہ مرحوم ہیئت کبار العلماء، علمی تحقیقات و افتا کی عمومی صدارت اور مسلم ورلڈ لیگ کی اعلیٰ کونسل کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔
سرکاری خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ کی نمازِ جنازہ آج عصر کی نماز کے بعد ریاض کی امام ترکی بن عبداللہ مسجد میں ادا کی جائے گی۔ خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے حکم پر ان کی غائبانہ نمازِ جنازہ مسجد الحرام مکہ مکرمہ، مسجد نبوی مدینہ منورہ اور مملکت بھر کی تمام مساجد میں بھی عصر کے بعد ادا کی جائے گی۔
شاہی دیوان نے اپنے بیان میں کہا کہ شیخ عبدالعزیز آل الشیخ کے انتقال کے ساتھ ہی مملکت اور اسلامی دنیا ایک جلیل القدر عالم دین سے محروم ہو گئی ہے، جنہوں نے اپنی زندگی اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ خادمِ حرمین شریفین اور ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے مرحوم کے اہل خانہ، سعودی عوام اور پوری اسلامی دنیا سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
سرکاری نشریاتی ادارے الاخباریہ کے مطابق شیخ عبدالعزیز کو 1999 میں مفتی اعظم کے منصب پر فائز کیا گیا تھا، جہاں انہوں نے مذہبی، قانونی اور سماجی معاملات پر فتوے اور رہنمائی فراہم کی۔ وہ سلفی تحریک کے نمایاں رہنما اور عالم اسلام میں اثر و رسوخ رکھنے والے مذہبی رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ آل الشیخ خاندان گزشتہ ڈھائی سو برس سے سعودی مذہبی و عدالتی اداروں میں نمایاں کردار ادا کرتا آیا ہے اور ان کے آل سعود حکمران خاندان سے قریبی تعلقات ہیں۔
“وزیراعظم پاکستان کا اظہارِ افسوس”
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ کے انتقال پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وفات پوری امت مسلمہ کیلئےلمحہ غم ہے۔ اپنے تعزیتی بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ شیخ عبدالعزیز نے اپنی زندگی قرآن و سنت کی ترویج، شریعت مطہرہ کی توضیح اور امت مسلمہ کی رہنمائی میں صرف کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی علمی بصیرت اور اتحادِ امت کیلئے کاوشیں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ وزیراعظم نے پاکستانی عوام اور حکومت کی جانب سے سعودی عوام اور قیادت سے اظہارِ تعزیت کیا۔

