سفارش پر پی ایچ ایف کے صدر بننے والے طارق بگٹی میرٹ پر مستعفی ہوگئے

آسٹریلیا میں قومی ٹیم کے کھلاڑیوں سے ناروا سلوک پر حکومتی ایکشن سے قبل ہی میدان سے فرار
دنیا بھر میں پاکستان کی جگ ہنسائی کروائی، ریکارڈ غیر ملکی دوروں سے ٹی اے ڈی اے کی مد میں لمبا مال سمیٹا
سابق صدر کی پنجاب حکومت کے زیر کنٹرول سٹیڈیم میں رانا ثناءاللہ اور اداروں پر ہی الزامات کی بوچھاڑ
حقائق منظر عام پر لانےپر کپتان عماد بٹ پر بھی دو سال کی پابندی لگ گئی، پاکستان سپورٹس بورڈ کو بھی نہ بخشا
صدر کے مستعفی ہونے سے پاکستان ہاکی فیڈریشن بحران کا شکار،سیکرٹری رانا مجاہد کو پی ایس بی تسلیم نہیں کرتا
ٹیم مینجر انجم سعید، ہیڈ کوچ طاہر زمان، اسسٹنٹ کوچ عثمان شیخ کی چھٹی بھی جلد متوقع
نئی تقرریوں کیلئے مشاورت جاری آئندہ 24 گھنٹے میں اعلان ہوگا
سابق نگران وزیراعظم انوالحق کاکڑ نے طارق بگٹی کو ہاکی فیڈریشن کے شفاف انتخابات کا ٹاسک دیا تھا
لیکن وہ خود صدر بن کر کئی سال تک صدارت کے مزے لوٹتے رہے اور انتخابات کو ٹالتے رہے

ایف آئی ایچ پرو لیگ پاکستان ہاکی کیلئے ڈراونا خواب بن کر رہ گئی۔ دنیا بھر میں پاکستان کی جگ ہنسائی کرانے والے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر طارق بگٹی مستعفی ہوگئے۔ آسٹریلیا میں قومی ٹیم کے کھلاڑیوں سے ناروا سلوک پر حکومتی ایکشن سے قبل ہی صدر پی ایچ ایف میدان سے فرار، دنیا بھر میں پاکستان کی جگ ہنسائی کروائی، ریکارڈ غیر ملکی دوروں سے ٹی اے ڈی اے کی مد میں لمبا مال سمیٹا۔ سابق صدر کی حکومتی وزیر رانا ثناءاللہ پر سخت تنقید، حقائق منظر عام پر لانے کی پاداش میں کپتان عماد بٹ پر بھی پابندی لگادی، پاکستان سپورٹس بورڈ کو بھی نہ بخشا۔

صدر کے مستعفی ہونے سے پاکستان ہاکی فیڈریشن بھی بحران کا شکار،سیکرٹری رانا مجاہد کو پی ایس بی تسلیم نہیں کرتا، ٹیم مینجر انجم سعید، ہیڈ کوچ طاہر زمان، اسسٹنٹ کوچ عثمان شیخ کی چھٹی بھی جلد متوقع، نئی تقرریوں کیلئے مشاورت جاری آئندہ 24 گھنٹے میں اعلان ہوگا۔ حکومت پنجاب کے زیر کنٹرول نیشنل ہاکی سٹیڈیم میں وفاقی وزیر اور حکومتی اداروں کے خلاف دھواں دار پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ایچ ایف کے صدر طارق بگٹی نے پاکستان سپورٹس بورڈ (PSB) کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور قومی ہاکی ٹیم کے کپتان پر پابندی کا اعلان اور صدارت سے استعفیٰ کا بھی اعلان کیا۔

سابق صدر پی ایچ ایف نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ہاکی کی سرپرستی پر وزیر اعلیٰ بلوچستان اور چیف آف آرمی سٹاف ہاکی ٹورنامنٹ کے کامیاب انعقاد پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بھی شکریہ ادا کیا۔انہوں نے وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ وزیر موصوف کا فنڈز کی براہ راست فراہمی کا دعویٰ غلط ہے، تمام فنڈز پی ایس بی کے پاس ہیں۔

ارجنٹائن فیز کے لیے پی ایس بی نے بروقت فنڈز فراہم نہیں کیے، جس کی وجہ سے ایف آئی ایچ (FIH) کو واجبات کی ادائیگی میں تاخیر ہوئی۔آسٹریلیا فیز کے لیے بارہا یاد دہانیوں کے باوجود ہوٹل بکنگ نہیں کی گئی اور ٹیم کی روانگی سے محض چار دن قبل فنڈز دیے گئے۔ میر طارق بگٹی نے پی ایس بی کے نظام کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ “پی ایس بی کا سسٹم بری طرح ایکسپوز ہو چکا ہے”۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پی ایس بی حکام آڈٹ کے خوف کا بہانہ بنا کر رکاوٹیں کھڑی کرتے رہے اور ڈی جی پی ایس بی نے ان کی تعیناتی کے حوالے سے بھی منفی رویہ اپنایا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انڈین میڈیا تک اندرونی معلومات پہنچانے کے معاملے پر وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل اعلیٰ سطحی انکوائری کروائیں۔

پریس کانفرنس کے دوران سابق صدر پی ایچ ایف نے نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر سخت ایکشن کا اعلان کرتے ہوئے قومی ٹیم کے کپتان عماد شکیل بٹ پر دو سال کی پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا۔کپتان پر ٹیم انتظامیہ کو دھمکیاں دینے اور غیر متعلقہ اثر و رسوخ استعمال کرنے کے سنگین الزامات ہیں۔ طارق بگٹی نے واضح کیا کہ قومی ہاکی ٹیم 24 فروری کو ورلڈ کپ کوالیفائنگ راؤنڈ کے لیے روانہ ہوگی۔ٹیم کی انتظامیہ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور کوالیفائنگ راؤنڈ کے تمام اخراجات فیڈریشن خود برداشت کرے گی۔

انہوں نے اعلان کیا کہ ان کے دور صدارت میں اگر کسی کھلاڑی کا کوئی الاؤنس باقی ہے تو وہ براہ راست ان سے رابطہ کر سکتا ہے۔ صدر پی ایچ ایف نے افسوس کا اظہار کیا کہ ایک طرف قائد اعظم گیمز جیسے ایونٹس پر تین روز میں 28 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، تو دوسری طرف قومی کھیل کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ حقائق قوم کے سامنے اس لیے لائے ہیں تاکہ عزت و وقار کے ساتھ رخصت ہوں. یاد رہے کہ سابق نگران وزیراعظم انوالحق کاکڑ نے طارق بگٹی کو ہاکی فیڈریشن کے شفاف انتخابات کا ٹاسک دیا تھا لیکن وہ خود صدر بن کر کئی سال تک صدارت کے مزے لوٹتے رہے جس میں ریکارڈ غیرملکی دورے بھی شامل ہیں۔