ڈھاکا (اسپورٹس رپورٹس) بنگلادیش کے خلاف دوسرے ایک روزہ میچ میں سلمان علی آغا کو میزبان ٹیم کے اسپنر مہدی حسن میرزا نے رن آؤٹ کیا تاہم کرکٹ حلقوں میں اس واقعے کو کھیل کی اسپرٹ کے خلاف قرار دیا جا رہا ہے۔کرکٹ کی تاریخ میں ایسے کئی واقعات موجود ہیں جب ٹیموں کے پاس حریف بیٹرز کو آؤٹ کرنے کا پورا موقع موجود تھا مگر انہوں نے کھیل کی روح کو مقدم رکھا۔
1987 کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستان قومی کرکٹ ٹیم کو ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے خلاف آخری اوور میں جیت کے لیے 14 رنز درکار تھے۔ اس دوران سلیم جعفر رن کے لیے کریز سے باہر نکل گئے مگر ویسٹ انڈین بولر کورٹنی والش نے انہیں رن آؤٹ کرنے کے بجائے وارننگ دے کر واپس رن اپ پر چلے گئے۔
اس میچ کی آخری گیند پر پاکستان نے وننگ رن حاصل کر لیے، یوں کورٹنی والش اور ان کی ٹیم نے شکست قبول کرلی مگر کھیل کی اخلاقیات کو برقرار رکھا۔اسی طرح ایک اور واقعے میں آئرلینڈ کے بیٹر اینڈی میک برائن رن بنانے کی کوشش میں پچ پر گر گئے تھے مگر پاکستان کے وکٹ کیپر آصف شیخ نے انہیں آؤٹ نہیں کیا۔
ایک اور مثال میں بھارت اور سری لنکا کے درمیان میچ کے دوران بھارتی بولر محمد شامی نے سری لنکن بیٹر کو منکڈ آؤٹ کیا تاہم بھارتی کپتان روہت شرما کے کہنے پر امپائرز نے بیٹر کو دوبارہ کریز پر واپس بلا لیا۔
اسی طرح ایک میچ میں جب انگلش بیٹر کرس گیل کے گیند کرانے سے پہلے ہی کریز سے باہر نکل گئے تو بولر نے گیند روک کر وکٹ کی طرف مارنے کا انداز اپنایا اور بیٹر کو آؤٹ کرنے کے بجائے وارننگ دے کر رن اپ پر واپس چلے گئے۔

