کراچی(نمائندہ خصوصی)سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رکن رانا شوکت نے اپنے ساتھی اراکین پر قتل کی دھمکیاں دینے کے الزامات عائد کر دیے، جس پر اسپیکر نے پولیس حکام کو ایوان میں طلب کر لیا۔
رانا شوکت نے الزام عائد کیا کہ رکن اسمبلی شارق جمال نے انہیں جان سے مارنے کی دھمکی دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم این اے اقبال محسود نے بھی انہیں دھمکی دی اور کہا کہ وہ خالد مقبول گروپ سے تعلق رکھتے ہیں، انہیں ایوان سے باہر نکلنے پر نتائج کی دھمکی دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وہ اسمبلی کے رکن ہیں، متعلقہ تھانے کے افسر کو بلا کر ان کی ایف آئی آر درج کی جائے، بصورت دیگر وہ ایوان سے استعفیٰ دے دیں گے۔ رانا شوکت کا مزید کہنا تھا کہ اقبال محسود مسلح افراد کے ساتھ ان کے دفتر آئے اور تالے توڑے، تاہم یہ معاملہ ایوان سے باہر کا تھا اس لیے انہوں نے پہلے اسمبلی میں بات نہیں کی۔
صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ اسمبلی کے اندر اس نوعیت کی بات مناسب نہیں، اسپیکر ایوان کے کسٹوڈین ہیں اور رولنگ دے سکتے ہیں، جبکہ ایس ایچ او کو بھی طلب کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر معزز رکن کی حفاظت نہ کر سکے تو یہ باعثِ شرمندگی ہوگا، اور اگر کسی رکن کو نقصان پہنچا تو نامزد افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا کہ پارٹی گروپنگ باہر کا معاملہ ہو سکتا ہے، لیکن کسی رکن کو جان سے مارنے کی دھمکی ملے تو ایوان کو اس کی حفاظت یقینی بنانا ہوگی۔اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے درخواست کی کہ اس معاملے کو وقتی طور پر مؤخر کرکے معمول کی کارروائی جاری رکھی جائے اور ایک گھنٹے میں مسئلہ حل کر لیا جائے گا۔
اسپیکر سندھ اسمبلی نے اپوزیشن لیڈر کو ہدایت کی کہ اجلاس ختم ہونے سے قبل معاملہ حل کیا جائے، بصورت دیگر رکنیت معطل کرنے کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے ایس ایس پی اور ایس ایچ او کو طلب کر کے بیان ریکارڈ کرنے کی بھی ہدایت دی۔بعدازاں سندھ اسمبلی کا اجلاس کل دوپہر ڈھائی بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

