سوڈان:جنگ سے فرار کے دوران خاندان بچھڑ گئے، بچے والدین کے سامنے قتل

الفاشر (اے ایف پی) سوڈان کے شہر الفاشر سے زندہ بچ کر نکلنے والے افراد نے لرزہ خیز انکشافات کیے ہیں کہ نیم فوجی دستوں نے فرار کے دوران خاندانوں کو الگ کر دیا اور بچوں کو ان کے والدین کے سامنے قتل کیا۔ شہر پر قبضے کے باوجود دسیوں ہزار لوگ اب بھی محصور ہیں۔

جرمن سفارتکار جوہان ویڈیفل نے اس صورتحال کو ’’قیامت خیز‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ انسانی تاریخ کا بدترین بحران بن چکا ہے۔ نئی سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیراملٹری فورسز کی جانب سے اجتماعی قتل عام اب بھی جاری ہے۔

اپریل 2023 سے سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان جاری جنگ میں آر ایس ایف نے 18 ماہ کے محاصرے کے بعد دارفور کے آخری فوجی گڑھ الفاشر پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد علاقے میں قتل و غارت، جنسی تشدد، لوٹ مار، اغوا اور امدادی کارکنوں پر حملوں کے واقعات سامنے آئے ہیں۔

“عینی شاہدین کے بیانات”
الفاشر سے فرار ہونے والی زہرہ نامی خاتون نے سیٹلائٹ فون پر بتایا کہ آر ایس ایف کے اہلکاروں نے ان کے 16 اور 20 سالہ بیٹوں کو اغوا کر لیا، صرف چھوٹے بیٹے کو چھوڑا گیا۔ ایک اور شخص آدم نے بتایا کہ اس کے دو بیٹوں کو اس کی آنکھوں کے سامنے قتل کر دیا گیا۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق اتوار سے اب تک 65 ہزار سے زائد افراد الفاشر سے نکلنے میں کامیاب ہوئے ہیں جبکہ دسیوں ہزار اب بھی محصور ہیں۔ بین الاقوامی تنظیم ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) نے خبردار کیا ہے کہ ہزاروں افراد شدید خطرے میں ہیں اور محفوظ مقامات تک پہنچنے سے روکے جا رہے ہیں۔

“انسانی بحران کی سنگینی”
ییل یونیورسٹی کی ہیومینیٹیرین ریسرچ لیب کے مطابق شہر میں اب بھی اجتماعی قتل جاری ہیں۔ سیٹلائٹ تصاویر میں 31 مقامات پر انسانی لاشوں کے نشانات دیکھے گئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد سیکڑوں یا اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

“علاقائی و بین الاقوامی کردار”
اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق آر ایس ایف کو متحدہ عرب امارات سے اسلحہ و ڈرون فراہم کیے گئے، تاہم امارات نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ دوسری جانب فوج کو مصر، سعودی عرب، ایران اور ترکیہ کی حمایت حاصل ہے۔

الفاشر پر قبضے کے بعد آر ایس ایف نے دارفور کے تمام پانچ صوبائی دارالحکومتوں پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جس سے ملک عملاً مشرقی اور مغربی حصوں میں تقسیم ہو گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ تشدد اب پڑوسی علاقے کردوفان تک پھیل رہا ہے، جہاں بڑے پیمانے پر مظالم کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔اب تک کی جنگ میں دسیوں ہزار افراد ہلاک تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ دنیا کا بڑا انسانی نقل مکانی اور قحط کا بحران بن چکا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں