سپریم لیڈر خامنہ ای پر حملہ پوری مسلم دنیا کیخلاف اعلانِ جنگ ہوگا: ایران

تہران(ایجنسیاں) ایران کے قومی سلامتی پارلیمانی کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای پر کسی بھی قسم کا حملہ پوری مسلم دنیا کے خلاف اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا۔اپنے بیان میں ایرانی پارلیمانی کمیشن نے کہا کہ اگر آیت اللہ خامنہ ای پر حملہ ہوا تو علما جہاد کا فتویٰ جاری کریں گے، جس کے بعد دنیا بھر میں اسلام کے سپاہیوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آئے گا۔

یاد رہے کہ چند روز قبل اسرائیل میں سابق امریکی سفیر ڈین شیپیرو نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ ہفتے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ شیپیرو کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں امریکی بحری بیڑے کی موجودگی ممکنہ فضائی اور زمینی حملوں کو آسان بنا سکتی ہے، تاہم خامنہ ای کا خاتمہ فوری طور پر ایران میں حکومت کی تبدیلی کا باعث نہیں بنے گا۔

اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھی ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران میں نئی قیادت کی تلاش کا وقت آ گیا ہے۔ اس سے قبل ایرانی سپریم لیڈر نے ایران میں ہلاکتوں اور بدامنی کا ذمہ دار ٹرمپ کو قرار دیا تھا۔

ایرانی سپریم لیڈر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ تہران کے حکمران حکومت چلانے کے لیے جبر اور تشدد پر انحصار کرتے ہیں، جس کی مثال پہلے نہیں ملتی۔