سڈنی/حیدرآباد (ایجنسیاں)آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں بونڈی ساحل پر ہونے والے فائرنگ کے واقعے میں ملوث حملہ آور ساجد اکرم کا تعلق بھارت کے شہر حیدرآباد سے تھا۔ بھارتی ریاست تلنگانہ کی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ ساجد اکرم 27 برس قبل تعلیم کی غرض سے آسٹریلیا منتقل ہوا تھا۔
تلنگانہ پولیس کے مطابق ساجد اکرم نے حیدرآباد سے بی کام کی ڈگری مکمل کی اور نومبر 1998 میں اسٹوڈنٹ ویزا پر آسٹریلیا گیا، جہاں بعد ازاں اس نے مستقل رہائش اختیار کر لی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ساجد اکرم نے آسٹریلیا میں قیام کے دوران یورپی نژاد خاتون ونیرا سے شادی کی۔ ساجد اکرم کے پاس بھارتی پاسپورٹ تھا جبکہ اس کے دونوں بچے، جن میں حملے میں ملوث بیٹا نوید اکرم بھی شامل ہے، آسٹریلیا میں پیدا ہوئے اور آسٹریلوی شہری ہیں۔
بھارتی پولیس کے مطابق بھارت میں موجود ساجد اکرم کے رشتہ داروں نے بتایا ہے کہ گزشتہ 27 برس کے دوران اس کا خاندان سے رابطہ محدود رہا۔ وہ آسٹریلیا منتقل ہونے کے بعد مجموعی طور پر چھ مرتبہ بھارت آیا۔ تلنگانہ پولیس کا کہنا ہے کہ خاندان کے افراد نے ساجد اکرم کے کسی بھی انتہا پسند نظریات یا سرگرمیوں سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔
اتوار کو ہونے والے اس حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 16 ہو چکی ہے جن میں ایک حملہ آور بھی شامل ہے۔ آسٹریلوی پولیس کے مطابق 50 سالہ ساجد اکرم پولیس فائرنگ میں مارا گیا جبکہ اس کا 24 سالہ بیٹا نوید اکرم، جو مبینہ طور پر حملے میں ملوث ہے، گولی لگنے کے بعد اسپتال میں تشویشناک حالت میں زیرِ علاج ہے۔
تلنگانہ پولیس نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ ساجد اکرم اور اس کے بیٹے کے شدت پسندی کی طرف مائل ہونے کا بھارت یا تلنگانہ سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔ پولیس کے مطابق 1998 سے قبل بھارت میں قیام کے دوران ساجد اکرم کے خلاف کسی قسم کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ بھی موجود نہیں تھا۔

