سڈنی(ایجنسیاں)آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں مقیم ایک پاکستانی نژاد شہری نے انکشاف کیا ہے کہ بونڈی بیچ فائرنگ واقعے میں ملوث حملہ آور کے طور پر ان کی تصویر غلط طور پر سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے کے بعد انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں، جس کے باعث وہ شدید خوف کا شکار ہو کر گھر میں محصور ہو گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اتوار کو سڈنی کے بونڈی بیچ پر یہودیوں کے حنوکہ اجتماع کے دوران فائرنگ کے ایک واقعے میں 15 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جو 1996 کے بعد آسٹریلیا کا بدترین فائرنگ واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ پولیس نے تاحال حملہ آوروں کے نام اور محرکات ظاہر نہیں کیے، تاہم مختلف میڈیا رپورٹس میں حملہ آوروں کی شناخت ساجد اکرم اور نوید اکرم کے نام سے کی گئی۔
بعد ازاں سوشل میڈیا پر سبز رنگ کی پاکستانی کرکٹ جرسی میں ملبوس ایک مسکراتے شخص کی تصاویر وائرل ہو گئیں، جنہیں فائرنگ واقعے سے جوڑا گیا۔ تاہم یہ تصاویر درحقیقت ایک دوسرے نوید اکرم کی فیس بک پروفائل سے لی گئی تھیں، جن کا واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔
غلط شناخت کا شکار نوید اکرم نے پاکستانی قونصل خانے کی جانب سے جاری ویڈیو میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا میں جس نوید اکرم کا ذکر کیا جا رہا ہے، وہ کوئی اور شخص ہے اور محض نام ایک جیسا ہونے کی وجہ سے انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے فائرنگ واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان کا اس واقعے یا کسی حملہ آور سے کوئی تعلق نہیں۔
نوید اکرم کے مطابق انہیں سوشل میڈیا اور فون کالز کے ذریعے سنگین دھمکیاں دی گئیں، جس کے باعث وہ گھر سے باہر نکلنے سے قاصر ہیں اور ان کا خاندان بھی شدید پریشانی میں مبتلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال ان کی اور ان کے خاندان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق نوید اکرم 2018 میں تعلیم کے لیے آسٹریلیا آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور اس وقت سڈنی میں کار رینٹل کا کاروبار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا ایک بہترین ملک ہے اور اس واقعے سے قبل انہیں کبھی کسی قسم کے سکیورٹی مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑا، تاہم حالیہ واقعے نے انہیں ذہنی طور پر شدید صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔

