سڑکوں پر دوڑتی موت…………!

21 ویں صدی میں دنیا نے ترقی کی نئی منزلیں طے کر لی ہیں، لیکن انسان آج بھی سڑکوں پر ہونے والے حادثات اور اموات کو روکنے میں ناکام نظر آرہا ہے۔ دنیا میں ہر سال 12 لاکھ اور روزانہ 3300 افراد ٹریفک حادثات میں مارے جاتے ہیں،پاکستان بھی اس معاملے میں دنیا کے دیگر ملکوں سے پیچھے نہیں ہے۔ پاکستان میں ہر سال 28 ہزار سے زائد لوگ ٹریفک حادثات میں ہلاک ہو جاتے ہیں۔ مرنے والوں میں 20 فیصد 14 سال سے کم عمر بچے ہوتے ہیں، جبکہ 41 فیصد مرنے والے راہگیر، جن کا قصور یہ ہے کہ وہ پیدل سڑک کنارے جا رہے ہوتے ہیں یا سڑک کراس کر رہے ہوتے ہیں اور تیز رفتار گاڑیاں انہیں کچل ڈالتی ہیں۔اس کے برعکس اگر تہذیب یافتہ، قانون اور آئین پسند ممالک کی طرف دیکھا جائے تو ناروے کے دارالحکومت اوسلو نے 2019ء میں یہ اعزاز حاصل کیا کہ اس سال کوئی شخص ٹریفک حادثے میں جان سے نہیں گیا اس کے بعد یہ اعزاز ہیلسنکی (فن لینڈ) نے حاصل کیا۔ گزشتہ ایک سال کے دوران کوئی انسانی جان ٹریفک حادثے میں ضائع نہیں ہوئی۔ یہ مہذب قومیں ہیں اور ان کے ہاں حادثات میں جانیں ضائع نہ ہونے کی وجہ ”آئین اور قانون“ کی سربلندی اور ان پہ سختی سے عملدرآمد ہے۔ ٹریفک کے قوانین پر سختی سے عمل کیا جاتا ہے جبکہ ہم ٹریفک قوانین کو ”قانون“ ہی نہیں سمجھتے۔ آج کل ہمارے ہاں ”قانون“ کو مزید ”با اختیار“ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ (خیر یہ جملہ معترضہ ہے) ہیلسنکی میں شہر کے اکثر علاقے میں حد رفتار 30 کلومیٹر کر دی گئی ہے، اس کے برعکس پاکستان میں تو 14 یا 15 سال نو عمر لڑکے بھی گاڑیاں اُڑائے پھرتے ہیں (دوڑانا اس لئے نہیں لکھا کہ دوڑانا تو سڑک پر ہوتا ہے یہ تو اُڑاتے ہیں) اور اس کے نتیجے میں قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں۔ لاہور میں چند ماہ پہلے 14 سالہ لڑکے نے ماموں کی گاڑی گھر سے ”اڑائی“ اور پھر شاہدرہ میں سڑک کنارے کھڑی موٹر سائیکلوں سے جا ٹکرایا ایک نوجوان بھی مارا گیا۔ اس سے پہلے ایک سکول طالبعلم نے 120 سے زیادہ سپیڈ پر گاڑی چلاتے ہوئے ایک گاڑی کو ٹکر مار کر پوری فیملی کو مار ڈالا تھا۔ اسلام آباد میں دبئی سے پاکستان آنے والے جوڑے اور اس کی بچی کو ایک 14 سالہ نوجوان نے انتہائی تیز رفتاری سے گاڑی چلاتے ہوئے کچل ڈالا۔ ان نوجوانوں کو سزا ملنے سے زیادہ سزا ان کے والدین کو ملنی چاہئے جنہوں نے ان کو گاڑیاں تھما کر ”لائسنس ٹو کِل“ عطا کیا۔ لیکن پاکستان میں اگر آپ کے پاس ٹریفک لائسنس ہے تو آپ کی ”غفلت“ کے باوجود بھی قتل کا مقدمہ نہیں درج کرتے، بلکہ مقدمہ زیر دفعہ 320 درج کیا جائے گا جو کہ قابل ضمانت جرم ہے۔ تو جب کسی کو یہ علم ہے کہ اسے کسی کو مار ڈالنے پر سزا نہیں،بلکہ رہائی مل جائے گی تو پھر اسے خوف کھانے کی کیا ضرورت۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں حادثات بے تحاشہ بڑھ چکے ہیں۔

لاہور میں گزشتہ ہفتے مشروبات کی بوتلوں سے بھرے ٹرک کے ڈرائیور نے انتہائی تیز رفتاری سے گاڑی دوڑاتے ہوئے ٹریفک سگنل توڑا اور ایک رکشے کو ٹکر مار دی جس میں چار جانیں اس دنیا سے چلی گئیں۔ حادثے کے بعد دیکھا گیا کہ کچھ لوگ تو زخمیوں کی مدد کر رہے تھے، لیکن اکثر لوگ اپنے موبائل کیمروں پر فلم بنانے میں مصروف تھے۔ ایسے ظالم بھی تھے جو الٹے ہوئے ٹرک میں لدی بوتلوں کو کھول کر پینے میں مصروف تھے۔ اسے ہمارے معاشرے کی بے حسی نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے۔ یہ لاہور میں کوئی پہلا ٹرک یا ڈمپر حادثہ نہیں ہے۔ یکم نومبر کو این بلاک ڈی ایچ اے میں ایک تیز رفتار ڈمپر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار تین نوجوان مارے گئے تھے۔ایک اور ٹریفک حادثے میں ایک تیز رفتار کار ڈرائیور نے تین افراد کو کچل کر مار ڈالا تھا جبکہ دو زخمی ہو گئے تھے۔ اسی سال 14مئی کو لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے تیز رفتار ”کچرہ ڈمپر“ نے چنگ چی رکشے کو ٹکر مار کر پانچ افراد کی جان لے لی تھی۔ لاہور بھی ڈمپر حادثات میں کراچی کے نقش قدم پر چل پڑا ہے۔ گزشتہ سال لاہور میں ڈمپر یا بڑی گاڑیوں کے حادثات میں 94 افراد ہلاک ہوئے۔ لاہور میں 2023ء میں 80 ہزار ٹریفک حادثات میں 345 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں 20 سے 30 سال کے نوجوانوں کی اکثریت تھی۔ کراچی میں حادثات اب ایک خوفناک شکل اختیار کرنے لگ پڑے ہیں۔ گزشتہ چند دنوں میں ہونے والے ایک ٹریفک حادثے کے بعد جس طریقے سے ”لسانی جھگڑے“ کو ہوا دینے کی کوشش کی گئی وہ بہت خوفناک تھا۔ ایک تیز رفتار ڈمپر نے نشتر روڈ پر ایک 24 سالہ نوجوان کو کچل ڈالا جبکہ اس کی بیوی زخمی ہوئی۔ زخمی عورت اور نوجوان کی لاش دیکھ کر عوام مشتعل ہو گئے اور ڈمپر کو آگ لگا دی۔ بدقسمتی یہ ہوئی کہ اس علاقے کے ایس ایچ او نے ڈمپر ایسوسی ایشن کے صدر لیاقت محسود کو اطلاع دے کر بلا لیا لیاقت مسعود اپنے ساتھ 20، 25 افراد (جو مسلح بتائے جاتے ہیں) کو لے کر وہاں پہنچا تو اس کا سامنا مشتعل ہجوم سے ہوا، جس نے لیاقت محسود کی گاڑی کو گھیر لیا، پتھراؤ کیا اور آگ لگانے کی کوشش کی۔ جس پر مسلح افراد کو ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے وہاں سے بھاگنا پڑا۔ لیاقت محسود کا کہنا ہے کہ وہ ایس ایچ او کے فون پر وہاں گیا تھا اس کے ساتھ اس کی ایسوسی ایشن کے ساتھی تھے۔ (تو پھر بندوقوں والے کون تھے) مشتعل ہجوم نے جو پہلے ہی ڈمپر کو آگ لگا چکا تھا لیاقت محسود کی گاڑی کو آگ لگانے کی کوشش کی جس کے بعد لیاقت محسود نے کراچی میں مین روڈ بند کرنے کی دھمکی بھی دے دی۔ یہ کراچی کی اردو سپیکنگ مہاجر آبادی کو ایک بار پھر پختون اور افغانیوں سے لڑانے کی کوشش ہو رہی ہے (اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے یہ تو خدا ہی بہتر جانتا ہے)۔ پولیس نے ڈمپر ڈرائیور نیاز اور لیاقت محسود اور اس کے 25 نامعلوم ساتھیوں کے خلاف مقدمے درج کر لئے، لیکن لیاقت محسود کو اگلے ہی دن 50 ہزار روپے کے مچلکے میں ضمانت مل گئی جبکہ ڈرائیور نیاز جس کی غفلت سے ڈمپر کے نیچے آکر نوجوان مارا گیا اسے 30 لاکھ روپے میں ضمانت ملی۔ آخر یہ کیسا قانون ہے کہ تیز رفتار ڈمپر کسی نوجوان جوڑے کو کچل ڈالے تو اس کو اگلے ہی دن ضمانت مل جاتی ہے۔ یہ کیسا قانون ہے؟ اب تو ایسا لگتا ہے کہ کراچی کو 1980ء کی دہائی کی طرف واپس لانے کی سازش ہو رہی ہے۔ خدا کراچی پر رحم فرمائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں