سکھ یاتری، حفاظت سے واپس گئے، لیکن؟

صورت حال ایسی بن گئی ہے جس میں ملکی وقار کا بھی سوال پیدا ہو گیا ہے اس لئے آج ذرا ایک ایسے شعبے اور عمل کی طرف توجہ لازم ہوگئی ہے جسے مسلسل نظر انداز کرتا رہا ہوں۔

برصغیر کی تقسیم کے حوالے سے نشری اور تحریری مواد سے استفادہ کرکے بھارت اور پاکستان کے شہریوں کو بہت کچھ معلوم ہو چکا ہے،اب تیسری نسل جوان ہوئی اور ان کے بچے پرورش پا رہے ہیں بلکہ اکثر فیملیوں کی چوتھی نسل بھی جوان ہے اور اس نسل کا پہلی نسل سے بڑا فرق بھی ہے۔ زمانہ موجود کی یہ نسل آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے مفید ہو رہی ہے اور قیام پاکستان کے لئے جدوجہد کرنے والی نسل کو ٹیلی فون کی سہولت بھی مکمل طور پر حاصل نہیں تھی، برصغیر کے دو ملک بننے کی تاریخ بھی سامنے ہے کہ قیام پاکستان ایک پرامن،آئینی و قانونی جدوجہد کے نتیجے میں بنا اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا فرمانا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان امریکہ، کینیڈا جیسے تعلقات ہوں گے کہ اطراف والوں کو آنے جانے میں سہولت ہوگی اور ایسا ہوا بھی، تاہم برصغیر کی تقسیم والی تاریخ میں ماسٹر تارا سنگھ کے نعرہ خالصتان کی وجہ سے پرامن تحریک سے قیام پاکستان کا فیصلہ تو ہو گیا لیکن پنجاب میں انتقال آبادی کا عمل خونریز ہو گیا۔ ایک بڑی وجہ تقسیم کے ایوارڈ میں تبدیلی تھی کہ گورداسپور (دریا بیاس)کی جگہ عالمی سرحد واہگہ / اٹاری قرار دے دی گئی یہ پہلی عیاری اور چالاکی تھی جو ہندو اور انگریز نے مل کر کی اور پھر ماسٹر تارا سنگھ کے نعرہ نے اپنا اثر دکھایا اور پنجاب سے نقل مکانی خون کا دریا پار کرکے کنارے لگنے والی ہو گئی اور پنجاب کی سرسبز اناج والی زمین خون سے سرخ کر دی گئی۔ اثرات اس طرف بھی ہوئے اور بدلہ لیا گیا،اس پر امرتا پریتم جیسی سیکولر شاعرہ نے بھی اپنا رنگ دکھایا اور وارث شاہ کو پکار کر کہا کہ وہ قبر میں سے بولے اور اپنے پنجاب کو لہو لہان ہوتے دیکھ لے،اس میں بھی توازن نہیں تھا کہ دونوں اطراف میں برابر کی صورت حال نہیں تھی، مشرقی پنجاب سے مسلمان مار دیئے گئے، اغوا کر لئے گئے،خواتین اور لڑکیوں نے خود کشیاں کیں یا پھر سکھ حضرات نے گھروں میں ڈال لیا۔

اب تک پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا، سکھ حضرات کو جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ ان کے لیڈر سے غلطی ہوئی اور وہ اب تک بھی اس کا ذکر کرتے ہیں، بہرحال خون کی ندیاں بہہ جانے کے بعد ایک وقت پھر بھی ایسا آ گیا کہ واہگہ اٹاری والی سرحد امریکہ، کینیڈا والی شکل اختیار کر گئی۔ لاہور کے شہری دوپہر کو امرتسر جاتے اور فلم کا میٹنی شو دیکھ کر واپس آجاتے تھے۔ امرتسر کے باسی بھی اکثر سودا خریدنے یا دوستو ں کو ملنے آ جاتے تھے لیکن بھارتی انتہا پسند ہندوؤں کو یہ گوارا نہ ہو اور بتدریج سکھ اور مسلم دشمنی کی سانجھ کرلی اور یوں یہ سلسلہ 1965ء کی پاک بھارت جنگ تک آ گیا۔ سیز فائر اور معاہدہ تاشقند کے بعد حالات میں تبدیلی ہوئی اور بتدریج امن ہوتا چلا گیا تاہم بھارت کے اندر بھس میں چنگاری رہی جس کا نتیجہ اب مودی کی صورت میں موجود ہے۔

جب تک بھارت نے اپنے طریق کار میں تبدیلی نہ کی اور ویزا مل جاتا تھا تو پریس کلبوں کے درمیان دوروں کے تبادلے ہوئے، کلچر کی بنیاد پر بھی آمد و رفت اور تقریبات ہوتی رہیں۔ لاہور پریس کلب اور چندی گڑھ پریس کلب کے درمیان نہ صرف تبادلہ وفود ہوا، بلکہ کئی امور پر اتفاق رائے بھی کیا گیا، اس میں آزادی صحافت اور دونوں ممالک کے لوگوں کے درمیان برادرانہ تعلقات بھی شامل تھے۔ میں چندی گڑھ گیا تو برادرم نوین۔ ایس۔ گریوال صدر تھے۔ یہ بڑا اچھا دورہ تھا، دلی حکومت کی طرف سے مختلف سی رکاوٹوں کے باوجود ہمارے درمیان دوستی استوار ہوئی اور ہے، اسی طرح ورلڈپنجابی کانگریس کے چیئرمین بھائی فخر زمان کی کاوش اور تعلق سے بھی چار مرتبہ بھارت جانا ہوا اور بھارت کے وفود کا یہاں بھی استقبال کیا گیا۔

سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا کہ مودی کے پشت پناہوں نے ہندوتوا کا نعرہ بلند کر دیا۔ بھارت میں نہ صرف مسلمانوں کی شامت آ گئی بلکہ سکھوں کو بھی جلد علم ہو گیا کہ حالات کیا ہیں اور وہ برملا پکار اٹھے کہ ہندوتوا قبول نہیں، سکھوں کے مقدس مقامات حتیٰ کہ سکھ مذہب کے بانی بابا گورونانک کی پیدائش اور دنیا سے رخصت ہونے کے دونوں مقام بھی پاکستان میں ہیں، پاکستان میں ہر حکومت نے ان کے مقدس مقامات کی مکمل حفاظت کی اور تمام تقریبات کے لئے بھارت سے آنے والے سکھ جتھوں کے علاوہ دنیا بھر سے آنے والے سکھ حضرات کی بھی پذیرائی کی لیکن مودی کے ہندوتوا نظریہ نے کام دکھایا۔ پاکستان سے تعلقات اس حد تک کشیدہ کرلئے کہ دونوں اطراف سے وفود کی آمد و رفت ہی بند ہو گئی، ویزے بند کر دیئے گئے، خود بھارت میں سکھوں کو بھی دبایا جانے لگا اور ان کو تقریبات کے لئے پاکستان آنے سے روکا گیا، حالانکہ پاکستان نے کرتارپور میں بہترین مقام بنا کر دریا راوی پل کے ذریعے بھارت سے سکھوں کو آمد کی اجازت بھی دی، لیکن مودی والوں کو یہ بھی گوارا نہ ہوا،یہ آمد ورفت بھی بند کر دی گئی اس کے بجائے فالس فلیگ آپریشنز شروع کرکے تعلقات کو مزید خراب کیا گیا اور دونوں ممالک کے شہریوں کو پریشان کیا گیا ساری توجہ پاکستان میں دہشت گردی کے فروغ کے لئے مبذول کرلی۔

پاکستان حکومت اور متروکہ وقف املاک بورڈ نے سکھوں کی ہر مذہبی تقریب کے لئے آمد کی کھلی اجازت دی اور ویزوں کی آسانی پیدا کی، حتیٰ کہ ایک بار سات ہزار یاتری آئے، دوسرے ممالک سے آنے والے الگ تھے، ان کی رہائش و خوراک، آمد و رفت اور خاطر تواضع کا خصوصی انتظام کیا جاتا رہا اور ہے، نہ صرف متروکہ وقف املاک کے حکام، افسر اور اہلکار چوبیس گھنٹے چوکس رہتے ہیں بلکہ ہر طرح کا خیال بھی رکھتے ہیں۔

بھارت نے اب سکھوں کے ساتھ بھی منافقانہ رویہ اپنا لیا اور ویزوں کی سہولت کے باوجود کم سے کم سکھوں کو اجازت دی۔ اس بار بابا گورونانک کے جنم دن کی تقریبات کے لئے تین ہزار ویزے جاری کئے گئے اور صرف اکیس سو یاتری آئے جو گزشتہ روز بخیریت واپس چلے گئے ان کے قیام کے دوران بھرپور، بہترین انتظام تھے اور وہ خوش بھی ہو گئے جب تک جنم دن میلے کی تقریبات رہیں، متروکہ وقف املاک کے اہلکار،افسر اور حکام چوبیس گھنٹے مصروف اور چوکس رہے، لیکن مودی حکومت کو یہ بھی قبول نہیں اور اس کی طرف سے ہر مرتبہ کچھ شرپسند بھیجے جاتے ہیں کہ پاکستان کی بدنامی کا باعث بنیں، اس سلسلے میں موقع پر موجود متروکہ وقف املاک کے افسروں اور اہلکاروں کے فرائض مشکل ہو جاتے ہیں۔ اس کی مثال یوں ہے کہ گزشتہ برس کے جنم کی تقریبات پر ایک ڈھلتی عمر کی خاتون آئیں، ان کی کوشش تھی کہ وہ بلاتکلف جہاں چاہیں،آئیں جائیں، لیکن عملہ ان کی حفاظت کے نقطہء نظر سے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتا تھا وہ خاتون احتجاج اور فصاد کرتیں گزشتہ برس اس کی شکایت کی گئی وہ بھارتی حکومت کے ایک اعلیٰ حیثیت کے افسر کی اہلیہ ہے،گزشتہ بار اسے مشکل سے سنبھالا گیا، اس با ر پھر وہ تشریف لے آئیں اور پہلے سے زیادہ جھگڑا کیا،اور کوئی تماشہ کھڑا کرنے کی بھرپور کوشش کی، متعلقہ افسر نے دھمکیوں اور احتجاج کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اسے نگاہ میں رکھا اور شکایت کی کہ خاتون بھارتی حکومت کے ایماء پر گڑبڑ کرتی ہیں۔محکمہ خارجہ کواس کا نوٹس لینا چاہیے اور خاتون کو بلیک لسٹ کردینا چاہیے۔