سہیل آفریدی کو بلامقابلہ منتخب کروانا چاہتے ہیں:پاکستان تحریک انصاف

پشاور (نمائندہ خصوصی)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر خان نے کہا ہے کہ ان کی جماعت صوبے میں غیر جمہوری کرداروں کو روکنے کیلئےسہیل آفریدی کو بلامقابلہ وزیراعلیٰ منتخب کروانے کی خواہاں ہے۔

ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ کے انتخاب سے قبل پی ٹی آئی کے وفد نے اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ پی ٹی آئی کا وفد صوبائی صدر جنید اکبر خان کی قیادت میں باچا خان مرکز گیا، جہاں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین سے ملاقات ہوئی۔

وفد میں شیر علی ارباب، علی خان جدون، شوکت یوسفزئی، ملک عدیل اقبال، عرفان سلیم، اکرام کھٹانہ اور دیگر رہنما شامل تھے، جبکہ اے این پی کی جانب سے میاں افتخار حسین، جنرل سیکریٹری حسین شاہ یوسفزئی، عقیل شاہ، صلاح الدین، ارسلان خان، حامد طوفان اور طارق افغان شریک ہوئے۔

ملاقات کے دوران جنید اکبر خان نے کہا کہ ’’کل ایک جمہوری عمل ہونے جا رہا ہے، اور ہم جمہوری قوتوں سے رابطے میں ہیں۔ پی ٹی آئی کو اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل ہے، لیکن ہم چاہتے ہیں کہ غیر جمہوری کرداروں کو روکنے کیلئے سہیل آفریدی بلامقابلہ منتخب ہوں۔‘‘

اس پر اے این پی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے جواب دیا کہ ’’عوامی نیشنل پارٹی کسی بھی غیر آئینی یا غیر جمہوری عمل کا حصہ نہیں بنے گی‘‘، اور انہوں نے کہا کہ ’’ہم اپنی مرکزی قیادت سے مشاورت کے بعد حتمی فیصلہ کریں گے۔‘‘

بعد ازاں، پی ٹی آئی کا وفد وفاقی وزیر و مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر امیر مقام کی رہائش گاہ بھی گیا، جہاں ملاقات میں صوبے کی سیاسی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔وفد کا کہنا تھا کہ ’’ہم ماضی کی طرح باہمی اتفاق سے فیصلے کرنا چاہتے ہیں۔ موجودہ حالات میں خیبرپختونخوا مزید سیاسی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہوسکتا۔‘‘

وفاقی وزیر امیر مقام نے کہا کہ ’’ہم صوبے کی جمہوری روایات کے مطابق اپوزیشن جماعتوں سے بات کریں گے اور مرکزی قیادت سے مشاورت کے بعد اپنا مؤقف واضح کریں گے۔‘‘واضح رہے کہ 8 اکتوبر کو پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے علی امین گنڈا پور کی جگہ سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ کا امیدوار نامزد کرنے کی تصدیق کی تھی۔

بعد ازاں، علی امین گنڈا پور نے عمران خان کی ہدایت پر وزارتِ اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا اور کہا تھا کہ ’’وزارتِ اعلیٰ کی پوزیشن عمران خان کی امانت تھی، جسے واپس کر رہا ہوں۔‘‘ترجمان گورنر ہاؤس کے مطابق 11 اکتوبر کی دوپہر علی امین گنڈا پور کا استعفیٰ باضابطہ طور پر موصول ہوگیا، اور اس کی آئینی جانچ پڑتال کا عمل جاری ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں