سیاحت کا رنگ، موسموں کے سنگ

پاکستان سے سات سمندر دور ،کینیڈا ایک ایسا دیس ، جہاں پت جھڑ یا خزاں کا موسم اتنا خوبصورت ہے کہ وہ بہار کو بھی مات دے جاتا ہے، درختوں کے پتے سرخ سے نارنجی اور آخر میں پیلے ہو کر بکھر جاتے ہیںتو ایسا لگتا ہے کہ ہر طرف درختوں نے سونا اگل دیا ہے ،علامہ اقبال نے کیا خوب کہا تھا
پھر چراغ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمن
مجھ کو پھر نغموں پہ اکسانے لگا مرغ چمن
پھول ہیں صحرا میں یا پریاں قطار اندر قطار
اودے اودے نیلے نیلے پیلے پیلے پیرھن
ہم کہ سکتے ہیں کہ کینیڈا کے صوبہ انٹاریو میں ان دنوں رنگ بکھرے ہوئے ہیں،یہ قدرت کا کمال تو ہے ہی مگر کینیڈا کی حکومت اور یہاں کے باسیوں کی بھی قدرتی خوبصورتی کو سنبھالنے اور نکھارنے کی کوشش کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے ۔ انہوں نے اس حسن بے مثال کو اجڑنے ،بکھرنے نہیں دیا ، اس کی دل و جان سے حفاظت ہی نہیں کی بلکہ مادر گیتی کے حسن میں مزید اضافہ کو اپنا مقصد زندگی بنا لیا ، یہ حسن یہ دلکشی زمین کے باسیوں کے ذوق لطیف کی عکاس بھی ہے،ورنہ انسان نے اپنے ہاتھوں سے مادر گیتی کی رونقوں رنگینیوں اور حسن کو ملیا میٹ کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ موسم گرما کی تپش،حدت،حرارت کو موسم سرما جب اپنے دامن میں سمیٹنا شروع کرتا ہے تو چہار جانب رنگ اور نور کی برسات شروع ہو جاتی ہے ،اس موسم کو کینیڈا میں فال سیزن کا نام دیا جاتا ہے،یہ وہ دیدہ زیب،دل فریب موسم ہے جس میں قدرت اپنی نیرنگی دکھاتی ہے،دھرتی اپنے اندر سمایا ہوا حسن سطح پر بکھیر دیتی ہے،ہر طرف رنگ برنگے،مختلف سائز ،ڈیزائین،رنگوں والے درخت لہلہا اٹھتے ہیں۔ سچ جانئے دیکھنے والی اآنکھ ہو تو دیکھ سکتی ہے کہ کینیڈا کے طول و ارض میں بکھرے گھنے سایہ دار بلند اور بڑے گھیر والے درخت بھی لباس عروسی میں دیکھنے والوں کی آنکھوںکو راحت و مسرت بخش رہے ہیں تو دل کو گماں ہوتا ہے کہ جنت اور کیا ہوگی؟

اکتوبر کے مہینے میں جب کینیڈا کا صوبہ اونٹاریو خزاں کے رنگوں میں نہا جاتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے قدرت نے زمین پر ایک خوبصورت سترنگی پینٹنگ بنا دی ہے، سرخ، پیلے، نارنجی، زرد،ہرے اور سنہری پتوں کے درخت سڑکوں کے کنارے ایک ایسا منظر پیش کرتے ہیں کہ انسان بے اختیار ان رنگوں میں کھو جاتا ہے ، درختوں،پودوں ، پتوں اور پھولوں کے رنگوں کی یہ تبدیلی محض ایک حیاتیاتی عمل نہیں بلکہ ایک تہذیبی اور معاشی موقع بھی ہے ، جسے کینیڈا نے بڑی دانشمندی سے سیاحت، ثقافت اور کاروبار سے جوڑ دیا ہے۔ اونٹاریو کے مختلف علاقوں میں ان دنوں لاکھوں سیاح آتے ہیں، وہ جھیلوں کے کنارے چہل قدمی کرتے ہیں، سنہری پتوں کے بیچ فوٹوگرافی کرتے ہیں اور گاؤں کے میلوں میں مقامی کھانوں کا ذائقہ چکھتے ہیں۔ حکومت نے ان رنگوں کو دیکھنے کے لیے ,,Fall Colour Routes” متعارف کرائے ہیں، جہاں سڑکوں پر معلوماتی بورڈز، کیفے، اور آرام گاہیں موجود ہیں، قدرتی حسن کو معاشی قوت میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ درختوں میں موجود کلوروفل جب موسم کے سرد ہونے سے کم ہو جاتا ہے تو سبز رنگ پیچھے ہٹ جاتا ہے اور پتوں کے اندر چھپے نارنجی،سرخ اور پیلے رنگ نمایاں ہونا شروع ہو جاتے ہیں، مگر اصل کمال یہ ہے کہ کینیڈا نے اس سائنسی تبدیلی کو ثقافتی رنگ میں بدل دیا۔

اگر ہم پیارے پاکستان کے صوبہ پنجاب پر نظر ڈالیں تو یہ خطہ بھی کسی نعمت سے کم نہیں، لاہور کے باغ، سون ویلی ، کہوٹہ کے پہاڑ ، چھانگا مانگا کے جنگلات، راوی اور چناب کنارے سبز کھیت کھلیان سب میں وہی فطری حسن موجود ہے جو اونٹاریو کی پہچان ہے، فرق صرف یہ ہے کہ ہم نے ابھی تک مری کے علاوہ اپنی زمین کے رنگوں کو سیاحتی پہچان نہیں بنایا، ہمیں کینیڈا سے یہ سیکھنا ہوگا کہ قدرتی مناظر کو منظم طریقے سے سیاحت میں بدلنا ممکن ہے۔

پنجاب میں ان دنوں بہت محنتی اور گو گیٹر افسر احسان بھٹہ سیکرٹری سیاحت ہیں جبکہ پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی کی سربراہی راجہ منصور جیسے اچھے،بردبار مگر سخت گیر افسر کے پاس ہے، احسان بھٹہ کی خوبی یہ ہے کہ پنجاب کے جس محکمے میں بہتری مقصود ہوتی ہے وہاں انہیں لگا دیا جاتا ہے پھر احسان بھٹہ جانے اور محکمہ جانے ، وہ اس محکمے کی کارکردگی کو چار چاند لگا دیتے ہیں، چیف سیکرٹری پنجاب زاہد زمان انکی کارکردگی کے معترف ہیں ،مجھے یقین ہے کہ اگر بھٹہ صاحب کو سیاحت کے محکمہ میں آزادی سے اب کچھ عرصہ کام کرنے کا موقع دیا گیا تو وہ پنجاب کو حقیقی معنوں میں سیاحت کا صوبہ بنا دیں گے، اسی طرح راجہ منصور بھی بڑے تجربہ کار افسر ہیں ، پنجاب میں سیکرٹری اطلاعات رہنے کے علاوہ مختلف محکموں میں قابل تعریف کام کر چکے ہیں، وہ لاہور کو ہارٹیکلچر اور اسکی خوبصورتی کا نمونہ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔

اگر پنجاب حکومت Autumn Punjab Festival” “ یا خوبصورت پنجاب روٹ” کے نام سے ایک موسمی سیاحتی منصوبہ شروع کرے تو یہ نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی سیاحوں کو بھی متوجہ کر سکتا ہے، لاہور سے سون ویلی تک ایک ایسا راستہ بنایا جا سکتا ہے جہاں مختلف رنگوں کے درخت لگائے جائیں، فوٹو پوائنٹس ہوں، اور قدرتی فضا برقرار رکھی جائے۔ اونٹاریو کینیڈا کے کسان اپنے کھیتوں کو سیاحوں کے لیے کھول دیتے ہیں، وہاں لوگ پھل چنتے ہیں، کھانا کھاتے ہیں،پکنک کرتے ہیں اور دیہی زندگی کو قریب سے محسوس کرتے ہیں،یہی تصور اگر پنجاب کے کھیتوں میں لایا جائے تو ,,Agro-Tourism” کا ایک نیا باب کھل سکتا ہے، ذرا سوچیے لاہور سے تھوڑے فاصلے پر قصور ، شیخوپورہ یا پتوکی میں اگر “پنجابی فارم ٹور” متعارف ہو جائے جہاں سیاح کھیتوں میں جائیں، لسی پئیں، بیل گاڑی اور ٹریکٹر کی سواری کریں ، چولہے پر ساگ پکانے کا تجربہ حاصل کریں ، گنے کا رس نکلتے اور گڑ بنتے دیکھیں تو یہ پنجاب کی ثقافت کو نہ صرف زندہ کرے گا بلکہ ہزاروں مقامی لوگوں کے لیے روزگار کا ذریعہ بنے گا۔

کینیڈا میں خزاں کے دوران Photography Contests اور Art Exhibitions منعقد ہوتی ہیں، پنجاب میں بھی “Nature Photography Week” یا “خزاں کا میلہ لاہور” جیسے ایونٹس منعقد کیے جا سکتے ہیں، یہ صرف تفریح نہیں ہوگی بلکہ نوجوانوں، فوٹوگرافروں اور آرٹسٹوں کے لیے تخلیقی مواقع پیدا کرے گی، اگر شالامار باغ، جیلانی پارک، اور باغ جناح جیسے تاریخی پارکوں میں خزاں کے رنگوں کو نمایاں کرنے کے لیے مزید مخصوص درخت لگائے جائیں تو لاہور بھی ویسے ہی رنگوں میں نہا سکتا ہے جیسے اونٹاریو کا کوئی قصبہ۔پنجاب کے اسکولوں میں “Nature Clubs” قائم کیے جا سکتے ہیں، بچے پارکوں کی سیر کریں، درختوں کی دیکھ بھال کریں اور ماحول کی خوبصورتی کے قاصد بنیں، اگر ہم پنجاب کے باغوں، کھیتوں، اور فطرت کو منظم کر لیں تو یقیناً آنے والے برسوں میں دنیا کے نقشے پر ایک نیا عنوان ابھرے گا ,,Golden Punjab — Where Nature Smiles.” یہ وقت ہے کہ ہم بھی اپنے درختوں کے پتوں میں چھپے رنگوں کو پہچانیںاور اگر ہم نے قدرت کے حسن کو زندہ کر لیا تو وہ دن دور نہیں جب پنجاب کا خزاں اور سرد موسم بھی اونٹاریو جیسا رنگین ہو جائے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں