محب وطن عناصر ملک میں سیاسی اور معاشی بحران پر فکرمند ہیں، فکر ہونی بھی چاہئے کہ ملکی ترقی،استحکام،دفاع،عوامی خوشحالی میں ان شعبوں کا کردار کلیدی ہے،افسوسناک بات یہ کہ جس شعبے نے معاشرے کو پر امن،جرائم سے پاک،ظلم کاخاتمہ،انصاف کی فراہمی اور عام شہری کے مسائل حل کرنا ہے وہ شعبہ یعنی انتظامیہ انتہائی کسمپرسی کا شکار ہے،دوسرے لفظوں میں ملک انتہا درجے کے انتظامی بحران کا شکار ہے،المیہ یہ کہ ذمہ داران کی اس طرف معمولی توجہ بھی نہیں بلکہ سچ جانئے تو جن کو بد انتظامی کا سد باب کرنا ہے انتظامی بحران کے وہ خود ذمہ دار ہیں،یعنی’’جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے‘‘
بد انتظامی کی بد تریں مثال حال ہی میں گریڈ20,21اور22میں ترقی کے حوالے سے دیکھنے میں آئی ،حکومت کی طرف سے اس میں کھلی مداخلت نے بیوروکریسی سسٹم کی بنیادیں ہلا دیں مگر کسی کی جبیں شکن آلود تک نہ ہوئی،صدیوں کے تجربات کے بعد جمہوری نظام تشکیل پایا ،
اسی طرح ملک کی اہم ترین وزارتوں ،محکموں کو جونیئر افسروں کے ذریعے کیوں چلایا جاتا ہے ،کئی کئی سالوں تک گریڈ بائیس کی جگہ پر گریڈ اکیس کے افسر کیوں لگائے جاتے ہیں اور وہ بھی اس وقت جب آپ کے پاس گریڈ بائیس کے محنتی،اچھے اور اپ رائٹ افسر موجود ہوں ،مجھے گریڈ بائیس کے ایک افسر بابر حیات تارڑ یاد آ رہے ہیں جو پچھلے تین سال سے او ایس ڈی ہیں ، انہوں نے پنجاب میں ریونیو سسٹم کی بہتری کیلئےمثالی کام کیا مگر سمجھ میں نہیں آتا کہ اس ملک کو کب تک ذاتی انااور پسند نا پسند کی بنا پر چلایا جاتا رہے گا؟
ریاستی امور کو چلانے کیلئےتین خود مختار اور غیر جاندار اداروں کا وجود تسلیم کیا گیا،ترقی یافتہ ممالک نے ان تینوں اداروں کو خود مختاری دیکر ترقی و کامرانی اور خوشحالی کو یقینی بنایا،جمہوریت میں اہم ترین ادارہ مقننہ ہے،اس ادارے کے ارکان پانچ سال کیلئے منتخب کئے جاتے ہیں،اس ادراے کو آئینی طور پر قوانین پر نظر ثانی ترمیم اور نئی قانون سازی کا اختیار دیا گیا،جن پر عملدرآمد کر کےتیسرے ریاستی ادارہ انتظامیہ کو ریاستی امور کو چلانا اور عوامی مسائل کا حل تلاش کرنا ہے،مگر مقننہ بالا دست ہونے کے زعم میں انتظامی امور میں بھی اپنے مینڈیٹ کے خلاف مداخلت کرنے لگی اور اپنے ہی بنائے قواعد و ضوابط پر عملدرآمد میں رکاوٹیں ڈالنے لگی جس کے باعث تیسرا انتظامی ادارہ اپنی اہمیٹ کھو بیٹھا،اہم ترین ریاستی ادارہ عدلیہ ہے ،
جسے آئین قانون سازی پر بھی نگاہ رکھنے کا مینڈیٹ دیتا ہے ،مقننہ،عدلیہ،انتظامیہ کو آئین اپنی اپنی حدود میں اپنی اپنی حدود میں آزادی اور خود مختاری فراہم کرتا ہے، مگر مقننہ نے آئین سازی کر کے عدلیہ کی خود مختاری پر بھی قدغن لگا دی ،اس کے اختیارات بھی سلب کر لئے،اب مقننہ اور انتظامیہ کی خبر لینے والا کوئی با ضابطہ ادارہ نہیں ،مقننہ حکومتی دبائو میں رہتی ہے لہٰذا حکومت مادر پدر آزاد ہو چکی ہے،ریاست کے تینوں ادارے بد نظمی کا شکار ہیں جس کے باعث عوامی مسائل پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں،عوام انصاف سے محروم ہیں،جرائم پیشہ ،استحصالی عناصرکو کھلی چھٹی ہے جو دل چاہے کریں’’ سیاں بھئے کوتوال اب ڈر کاہے کا‘‘
انتظامیہ میں مداخلت کا یہ عالم ہے کہ پہلے سول افسرکیڈر کی مناسبت سے جانے جاتے تھے،مگر اب افسروں کی سیاسی گروپ بندی کی جاتی ہے،پنجاب اور مرکز میں اب پی اے ایس ، پی ایم ایس اور پی ایس پی نہیں بلکہ پی اے ایس (ن)،پی ایم ایس (ن) پی ایس پی (ن) جبکہ اسی مناسبت سے سندھ میں سروس کا پی پی پی گروپ پروان چڑھایا جا رہا ہے ،سیاسی مداخلت کے نتیجے میں بیوروکریسی میں کوئی اخلاقیات دکھائی نہیں دیتی،پیشہ واریت نام کی کوئی چیز نہیں رہی،قواعد و ضوابط تو زبانی احکامات کی نذر ہو چکے ،افسر اپنے حلف کی پاسداری،ریاست سے وفاداری کے بجائے حکومت وقت کو خوش کرنے کی تگ و دو میں مصروف دکھائی دیتے ہیں،اس نفسا نفسی میں ڈسپلن تو خواب و خیال بن کر رہ گیا ہے،آئینی حدود پامال ہو چکیں،مینڈیٹ کا بیڑہ غرق ہو گیا،حدود و قیود کا دائرہ کہیں وسیع ہو گیا کہیں سکڑ گیا،جمہوریت میںسے ’’جمہور‘‘ نام کا جانور گھاس چرنے جنگل میں نکل گیا،تینوں ریاستی ادارے گڈ مڈ ہو کر رہ گئے ہیں،ایسے میں ریاست کا انتظام چلانا کیونکر ممکن ہے؟
افسر شاہی کا اپنا ایک مائینڈسیٹ ہوتاہے آفیسرز کی اکثریت مڈل کلاس طبقہ سے تعلق رکھتی ہے مگر ماحول اور مراعات انہیں ایک مخصوص ذہن کا مالک بنادیتی ہیں، عوام سول سرونٹس کے حوالے سے ان سےخادم اورمددگار بننے کی توقع کرتے ہیں،حکمران ان کو ذاتی ملازم سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے،جبکہ حکومتی مداخلت انہیں آئینی اختیارات سے بھی محروم کر دیتی ہے،قواعد و ضوابط حکمرانوں کے زبانی احکامات کے سامنے کورنش بجا لاتے ہیں اور افسردم بخود، قائداعظم محمدعلی جناح کا مشہور زمانہ خطاب جو انہوں نے 1948ء میں سول آفیسرز سے کیا تھا، جو آج بھی بڑے عہدوں پر فائز آفیسرز کے کمروںمیں آویزاں نظر آتا ہے،اس میں قائد نے دوٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ’’ آپ لوگ عوام کے خادم ہیں اور آپ کا کام عوام کی خدمت اور انہیں سہولتیں پہنچاناہے‘‘ حکومتی نظام میں بیوروکریسی کی حیثیت ایک انجن کی سی ہوتی ہے جبکہ حکومت کا سربراہ ڈرائیونگ سیٹ پر براجمان ہوتاہے، ڈرائیور کتنا ہی مستعد اور ماہر کیوں نہ ہو اگر انجن ٹھیک طریقے سے کام نہیں کررہا ہوگا تو گاڑی نہیں چل سکتی،انجن جیسا بھی درست حالت میں ہو اگر ڈرائیور مستند نہیں تو بھی گاڑی کا چلنا مشکل ہو جاتا ہے اور اگر گاڑی کے متعدد ڈرائیور ہوں تو گاڑی چلتی بے شک رہتی ہو مگر منزل تک نہیں پہنچ پاتی۔
اہم تقرریاں اور تبادلے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کرتے ہیں جس میں اعلیٰ عہدوں پر فائز آفیسرز کے ساتھ مشورہ نہیں کیاجاتا جنہوں نے درحقیقت ان ماتحت آفیسرز سے کام لینا ہوتاہے نتیجتاً اچھی ٹیم نہیں بن پاتی،زیادہ تر تقرریاں ،تبادلے تو سیاسی اثرورسوخ کی بنیاد پر کئے جاتے ہیںمگر فیصلوں کی ذمہ داری لینے کیلئے کوئی بھی حکومتی وزیر،مشیر یا عہدیدار تیار نہیںہوتا، جس کی وجہ سے سارا ملبہ بیوروکریسی پر گرادیاجاتاہے ،فیصلہ صحیح ہوتو سہرا اپنے سر اور اگر غلط ہو تو ذمہ دار بیوروکریسی، اس طرز عمل کی وجہ سے بھی نظام بہت سی مشکلات کا
شکارہے،جب نظام ہی ہچکیاں لے رہا ہو تو ملک و قوم کو اس سے کیا ریلیف ملے گا،ریاستی ادارے کیونکر آئینی حدود میں رہ کر ریاست کی خدمت کر سکیں گے؟
بیوروکریسی میں جو گروپ آئین اور قواعد کے مطابق تشکیل دئیے گئے وہی دراصل بیوروکریسی کے نمائندہ ہیں،سیاسی گروپ بندی محض حکومت کی مدت تک قائم رہتی ہے اور کسی بھی جمہوری حکومت کی مدت پانچ سال ہے ،ہر حکومت کیساتھ اگر بیوروکریسی کی گروپ بندی ہوتی رہی تو شائد عنقریب بیوروکریسی کی تقرری بھی ہر الیکشن کے بعد اور ان کی مدت ملازمت30سال سے کم کر کےحکومتی مدت کے مطابق کی جائے گی،یوں صدیوں سے آزمودہ ایک نظام کو بے سود کر دیا جائے گا اور سول افسران کو باقاعدہ طور پر سیاسی جماعتیں جوائن کرنے پر مجبور کر دیا جائے گا۔

