“سیاسی پانزی سکیم” (Political Ponzi Scheme): پاکستان کے سیاسی حالات کیلئے ایک استعارہ

“پانزی سکیم” (Ponzi Scheme) کی اصطلاح 20ویں صدی کے مشہور مالیاتی دھوکے باز امریکی سرمایہ کا چارلس پانزی کے نام کی وجہ سے مشہور ہوئی، جنہوں نے ابتدائی سرمایہ کاروں کو اصل منافع کی بجائے نئے شرکاء کی سرمایہ کاری سے ادائیگیاں کر کے سرمایہ کاری کا ایک پیچیدہ اور گھمبیر فریب کھڑا کیا۔ جب تک نئی سرمایہ کاری کے جھانسے میں نئے فنڈز آتے رہے، یہ سکیم کامیاب دکھائی دیتی رہی۔ لیکن جیسے ہی نئے سرمایہ رک گئے، پورا ڈھانچہ منہدم ہو گیا۔

اگرچہ یہ تصور مالی فراڈ (Financial Fraud) پر مبنی ہے، لیکن اس کا ان سیاسی نظاموں پر بھی مؤثر طریقے سے اطلاق کیا جا سکتا ہے جو پائیدار حکمرانی (Sustainable Governance) کے بجائے فریب، التواء، اور وقتی تدابیر (ad-hock system) پر انحصار کرتے ہیں — ایسے نظام جن کا منطقی انجام تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہیں ہوتا ہے۔ پاکستان کا ستر سالہ سیاسی سفر اس “سیاسی پانزی سکیم” کی منطق سے گہری مماثلت رکھتا ہے، جہاں اداروں کا مسلسل زوال (Institutional Decline) اسی چکر پر چلتا رہا ہے۔

پاکستان کی یہ “سیاسی پانزی سکیم” صرف سیاسی اعتبار سے ہی نہیں، بلکہ معاشی سطح پر بھی اپنے تباہ کن اثرات دکھا چکی ہے۔ ملک کا مالیاتی ڈھانچہ مسلسل بوجھ تلے دب چکا ہے — ایک ایسا بوجھ جو مصنوعی نمو (Artificial Growth)، بیرونی قرضوں (External Debt)، اور غیر حقیقی بجٹ تخمینوں (Unrealistic Budget Projections) پر قائم رہا۔ حال ہی میں مقامی صنعتوں کے لیے خام مال کی درآمد روک کر کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ کم دکھایا گیا لیکن یہ سوچا ہی نہیں کہ اس کی بھاری قیمت شرح نمو کی کمی میں کی صورت میں ادا کرنی ہوگی۔ یا شاید سوچا ہو، لیکن پانزی سکیم میں تو صرف آج کی بیلنس شیٹ دیکھی جاتی ہے، بس!

پاکستان کا مجموعی قرضہ (Public Debt) جولائی ۲۰۲۵ تک پاکستان کا کل قومی قرضہ تقریباً 77 ٹریلین روپے ہو چکا ہے، جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر (Foreign Exchange Reserves) کئی بار صرف چند ہفتوں کی درآمدات کے لیے کافی رہ گئے۔ شرح نمو (GDP Growth Rate) منفی زون کے قریب پہنچ چکی ہے، مہنگائی (Inflation) 30 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے، اور پاکستانی روپیہ (PKR) شدید گراوٹ کا شکار رہا ہے۔ انڈسٹریل آؤٹ پٹ، برآمدات، اور روزگار کی شرح مسلسل نیچے جا رہی ہے۔

یہ تمام “میکرو اکنامکس کے اشاریے” (macroeconomic indicator) دراصل اسی پانزی ساخت کا نتیجہ ہیں جس میں فوری فائدے کے لیے اداروں کی طویل مدتی اصلاحات کو قربان کر دیا گیا۔ حکومتی سطح پر ہر معاشی بحران کو نئے قرض، آئی ایم ایف سے معاہدوں، یا دوست ممالک سے وقتی مدد کے ذریعے ٹالا گیا — بالکل ویسے ہی جیسے پانزی اسکیم میں پرانے سرمایہ کاروں کو مطمئن رکھنے کے لیے نئے سرمایہ کاروں سے رقم لی جاتی ہے یا سیاسی آزادی کا سودا کر کے رقم حاصل کی جاتی ہے۔ یوں سیاسی دھوکہ دہی کا اثر معیشت پر بھی براہ راست منتقل ہوا، اور جیسے جیسے یہ دھوکہ طول پکڑتا گیا، پاکستان کا مالیاتی استحکام گہری دلدل میں دھنستا چلا گیا۔

جیسے مالی پانزی سکیم میں اس کی قانونی حیثیت (Legitimacy) ایک فریب پر مبنی ہوتی ہے، جو نئی سرمایہ کاری سے پرانی ادائیگیوں کو چھپا کر قائم رکھی جاتی ہے، ویسے ہی پاکستان کے سیاسی دائرے میں حکمرانی کا “جواز” (Political Legitimacy) بھی مصنوعی طور پر گھڑا گیا — نہ تو جمہوری شفافیت (Democratic Transparency) کی بنیاد پر، نہ ہی اداروں کی اصلاحات (Institutional Reforms) پر، بلکہ وقتاً فوقتاً فوجی مداخلتوں (Military Interventions)، “انجینیئرڈ” انتخابات (Engineered Elections)، عدالتی توثیقوں (Judicial Endorsements)، اور عوامی ابہام (Public Ambiguity) پر۔

ہر دور کا مقصد ماضی کے بحرانوں کا حل پیش کرنا نہیں تھا، بلکہ انہیں نئی داستانوں — جیسے کرپشن کے خلاف جہاد (Anti-Corruption Crusade)، غیرسیاسی ٹیکنوکریسی (Technocratic Neutrality)، یا قومی سلامتی کے بیانیے (National Security Narrative) — کے ذریعے وقتی طور پر دفن کرنا تھا۔ یہ داستانیں عوامی امید یا خوف سے حاصل کیا گیا نیا سیاسی سرمایہ (Political Capital) تھیں، جو ماضی کے دھوکوں کو چھپانے کے لیے استعمال ہوئیں۔ یعنی پچھلے جھوٹ پر پردہ ڈالنے کے لیے ایک نیا جھوٹ!

فوجی قیادت (Military Establishment) — جو ریاست میں طاقتور ثالث کا کردار ادا کرتی رہی ہے — نے کئی بار منتخب حکومتوں کو “قومی استحکام” (National Stability) یا “ادارتی ناکامی” (Institutional Failure) کے نام پر برطرف کیا۔ ہر مداخلت کے بعد اسے “ڈاکٹرائن آف نیسسٹی” (Doctrine of Necessity) کے تحت عدالتی تحفظ (Judicial Protection) ملا، اور جب فوج محفوظ محسوس کرتی تو اسے نام نہاد “جمہوری منتقلی” (Democratic Transition) کے پردے میں بظاہر واپس منتقل کر دیا جاتا۔ جیسے مالی پانزی سکیم میں ابتدائی سرمایہ کار خاموش رہتے ہیں تاکہ سکیم چلتی رہے، ویسے ہی اشرافیہ (Elite Actors) — جیسے عدلیہ، بیوروکریسی، یا سیاسی مفاد پرست — کو فائدے دے کر اس فریب کے اگلے مرحلے میں شریک کر لیا جاتا ہے۔

عدلیہ (Judiciary) جو آئینی نگرانی (Constitutional Oversight) کا ادارہ ہونی چاہیے تھی، اکثر ایک “ریگولیٹری ویلیڈیٹر” (Regulatory Validator) بن گئی — بالکل ویسے ہی جیسے وہ اکاؤنٹنگ کمپنیاں (Accounting Firms) یا بینک (Banks) جو مالی دھوکوں کو جعلی شفافیت فراہم کرتے ہیں۔ پاکستان کی عدالتوں نے بار بار فوجی بغاوتوں (Military Coups) کو آئینی جواز (Constitutional Legitimacy) دیا، اور منتخب نمائندوں کو مخصوص کرپشن الزامات (Targeted Corruption Allegations) کے تحت نااہل قرار دیا، جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ سیاسی قانونی حیثیت طاقتوروں کے لیے ایک لچکدار آلہ ہے۔

سول سیاسی جماعتیں (Civilian Political Parties) بھی اس چکر سے مستثنیٰ نہیں رہیں۔ انہیں اکثر وقتی طور پر مسترد کیا گیا، لیکن جب انہیں موقع ملا تو انہوں نے “علامتی حکمرانی” (Symbolic Governance) کے تاثر کو برقرار رکھا، جبکہ اصل طاقت کہیں اور قائم رہی۔ اقتدار کی بقا کے لیے انہوں نے وقتی اتحاد (Short-Term Alliances)، طاقتور اداروں سے سودے بازی (Elite Bargains)، اور سطحی عوامی مقبولیت (Populist Gestures) کو ترجیح دی، جو پانزی سکیم میں دیے جانے والے وقتی ڈیویڈنڈ (Dividends) کی طرح ہوتے ہیں — یعنی فائدہ تو نظر آتا ہے، مگر اصل بحران جوں کا توں رہتا ہے یا مزید بڑھ جاتا ہے۔

ان سب کے بیچ اصل “سرمایہ کار” (Investors) عوام ہیں، جنہیں بار بار اپنی امید، اعتماد، اور سیاسی توانائی ایک ایسے نظام میں جھونکنے کے لیے کہا جاتا ہے جو کبھی حقیقی فائدہ نہیں دیتا۔ ہر بار جب یہ نظام ناکام ہوتا ہے — چاہے وہ معاشی بحران (Economic Collapse)، عدالتی سیاسی جانبداری (Judicial Overreach)، یا انتخابی دھاندلی (Electoral Manipulation) ہو — تو عوام کو ایک نئی کہانی سنائی جاتی ہے: “اب کی بار سب کچھ درست ہو جائے گا۔” لیکن پرانے دھوکے کو نئے جھوٹوں سے بدل کر، اس سکیم کو جاری رکھا جاتا ہے۔

عمران خان کا عروج اور زوال اس سکیم کی حالیہ شکل ہے۔ انہیں کرپشن کے خلاف انقلابی چہرے (Anti-Establishment Reformer) کے طور پر پیش کیا گیا، جبکہ درحقیقت وہ پچھلی ناکام قیادتوں کی جگہ ایک نیا چہرہ (Replacement Face) تھے، جو فوج کی طرف سے منتخب کیا گیا تاکہ عوامی امیدوں کو نئی شکل دی جا سکے۔ ان کے زوال کے بعد جو عبوری حکومت (Caretaker Setup) قائم کی گئی، وہ بھی اس سکیم کا اگلا فیز تھا: نئے بیانیے، نئے وعدے، مگر وہی پرانا فریب۔ اس مرتبہ کی کیئر ٹیکر حکومت اور الیکشن کمیشن نے ضلعے آئین پر اٹھایا تھا لیکن دونوں کو معلوم ہی نہیں تھا کہ اسمبلیاں تحلیل ہونے کے کتنے عرصے بعد الیکشن کرانے ہوتے ہیں اور یہ کس کی ذمہ داری ہوتے ہیں!

پاکستان کی “سیاسی پانزی سکیم” کا اگلا مرحلہ تب شروع ہوا جب وہی اپوزیشن اتحاد (PDM: Pakistan Democratic Movement) جو فوجی مداخلت کے خلاف کھڑا تھا، اسی فوج کی مدد سے عمران خان کو ہٹانے کے کھیل میں شریک ہوا۔ 2022 میں ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد (Vote of No Confidence) آئینی لحاظ سے شاید درست ہو، مگر اس کے پیچھے پس پردہ طاقتوں کی معاونت یعنی ملٹری اثر و رسوخ (Backroom Military Influence)، سیاسی سودے بازی (Political Bargaining) اور ہارس ٹریڈنگ کا عمل بھی شامل تھا۔

اس عمل کا سب سے تشویشناک موڑ 2024 میں آیا، جب 26ویں آئینی ترمیم (26th Constitutional Amendment) منظور کی گئی۔ اس کے ذریعے عدلیہ میں تقرری کے عمل کو اس انداز میں تبدیل کیا گیا کہ جوڈیشل کمیشن (Judicial Commission) — جس میں ایگزیکٹو اور خفیہ اداروں کے وفادار افراد شامل تھے — کو عدالتی تعیناتیوں کا مکمل اختیار مل گیا۔ یہ ترمیم عدلیہ کی خودمختاری (Judicial Independence) کو عملاً ختم کر کے اسے انتظامیہ کے زیر اثر لے آئی۔ پانزی سکیم کی طرح 26ویں ترمیم کے اقدام کو کور کرنے کے لیے اب 27ویں ترمیم زیرِ غور ہے، یعنی پچھلی سرمایہ کاری کرنے والوں کو ادائیگیوں کے لیے مزید سرمایہ کاری کروائی جا رہی ہے۔

زیادہ افسوسناک پہلو یہ تھا کہ بلاول بھٹو زرداری — جن کی ماں نے کبھی چارٹر آف ڈیموکریسی (Charter of Democracy – CoD) کا علم بلند کیا تھا — 26ویں ترمیم کا یہ کہتے ہوئے دفاع کرتے دکھائی دیے کہ یہ چارٹر آف ڈیموکریسی (CoD) کے اصولوں کے مطابق ہے۔ حالانکہ CoD کی شق 22 (Clause 22 of CoD) میں واضح طور پر کہا گیا ہے“ہم کسی فوجی یا فوج کے زیر اثر حکومت کے ساتھ شرکت نہیں کریں گے، نہ کسی جمہوری حکومت کو گرانے کے لیے فوجی مدد حاصل کریں گے۔”

اس تضاد کا مطلب یہ ہے کہ جیسے مالی سکیم میں پرانے وعدے نئی جعل سازی سے چھپائے جاتے ہیں، ویسے ہی یہاں ماضی کے جمہوری معاہدے نئی غیر جمہوری توجیہات (Revisionist Justifications) کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ جب تاریخ کو اس انداز میں مسخ کر کے حال کے فریب کے جواز کے طور پر پیش کیا جائے، تو پھر اس سکیم کا زوال ناگزیر ہو جاتا ہے۔

اور جیسے مالی پانزی سکیم بالآخر گر جاتی ہے، پاکستان کا سیاسی فریب بھی پائیدار نہیں ہو سکتا۔ عوام کا اعتماد (Public Trust) ایک ناقابل تجدید اثاثہ (Non-Renewable Asset) بن چکا ہے، عدلیہ کی وقعت پامال ہو چکی ہے، معیشت بین الاقوامی اعتماد کھو چکی ہے، اور داخلی انتشار (Internal Fragmentation) بڑھ رہا ہے۔ آخر میں، جب پانزی سکیم ختم ہوتی ہے، تو نقصان سب سے زیادہ ان لوگوں کو ہوتا ہے جو سب سے بعد میں شامل ہوتے ہیں — یعنی عام عوام۔

الغرض “سیاسی پانزی اسکیم” محض ایک تشبیہ نہیں، بلکہ ایک گہری “ساختی بیماری” (Systemic Disease) کی تشخیص ہے: ایک ایسا نظام جو مسلسل فریب، انسٹیٹیوشنل بے سمتی، اور عوامی بے یقینی پر منحصر ہے۔ سوال یہ نہیں کہ یہ نظام کب ٹوٹے گا — بلکہ یہ ہے کہ کتنے نقصان کے بعد، اور کتنی دیر سے؟

اپنا تبصرہ لکھیں